جون 26, 2026

سیاسیات- اسرائیل نے فلسطینیوں کو جبراً ‘جنگی مقامات’ سے نکال کر جنوبی غزہ میں دھکیلنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب اسرائیل نے گزشتہ دنوں غزہ پر قبضے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز نے شمالی غزہ پر قبضہ کرنے کے لیے کارروائیاں تیز کردی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل شمالی غزہ سے 10 لاکھ سے زائد فلسطینی شہریوں کو جبراً جنوبی غزہ میں دھکیل رہا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ شمالی غزہ کے شہریوں کو جنوب میں منتقل کرکے خیمے اور دیگر سامان اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے اسرائیلی منصوبے یا شہریوں کو امدادی سامان فراہم کرنے کے مبینہ کردار پر ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

البتہ 14 اگست کو اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ ہزاروں فلسطینی خاندان پہلے ہی غذائی قلت کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کو آگے بڑھانے سے وہ موت کے دہانے پر پہنچ جائیں گے۔

گزشتہ دنوں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ فوج کو حماس کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں شمال میں غزہ سٹی اور جنوب میں al-Mawasi پر مکمل قبضے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے غزہ کے ال عہلی اسپتال پر حملہ کرکے 7 فلسطینی شہریوں کو شہید کردیا۔

فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں غذائی قلت سے مزید 11 فلسطینی شہید ہوگئے۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ غزہ میں غذائی قلت سے اموات 251 ہو گئی ہیں جن میں 108 بچے بھی شامل ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق کل اسرائیلی حملوں میں امداد کے منتظر 14 افراد سمیت 31 فلسطینی شہید ہوئے تھے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

eleven − six =