جون 20, 2026

تحریر: سلیم صافی

اس قضیے کے بنیادی طور پر5 کردار تھے، امریکا، اسرائیل، ایران، خلیجی ممالک اور پاکستان، باری باری جائزہ لیتے ہیں کہ کس کے حصے میں کیا آیا؟ سب سے پہلے امریکا کا ذکر کریں تو اس نے پایا کچھ خاص نہیں لیکن کھویا بہت کچھ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ امن کے نوبل پرائز کے آرزومند تھے لیکن اس جنگ کے بعد وہ ایک جارح اور سفاک انسان کے طور پر سامنے آئے۔

وہ ایران میں رجیم چینج کی نیت سے آئے تھے لیکن بھرپور طاقت کے استعمال کے باوجود رجیم چینج نہ کرسکے اور ایک وقت میں ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے ڈونلڈ ٹرمپ منت کررہے ہیں کہ پاکستان یا کوئی اور آکر انہیں اس دلدل سے نکال لے، علاوہ ازیں نیٹو کے کسی اتحادی نے اس جنگ میں انکی حمایت نہیں کی بلکہ بعض ممالک تو کھل کر اس کیخلاف بولتے رہے۔

اس سب کچھ نے امریکا کے سپرپاور ہونے کے بھرم کو شدید نقصان پہنچایا، جنگ کی وجہ سے عالمی معیشت متاثر ہوئی اور اس کیلئے دنیا کے ممالک امریکا کو ذمہ دار قرار دیتے رہے اور دیتے رہیں گے، خود امریکا میں بھی اس جنگ کے مضر اثرات معیشت پر پڑے اور یہ جنگ اس قدر غیرمقبول ہوئی کہ خو ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت بھی تاریخی گراوٹ کا شکار ہوئی۔

صحیح اعدادوشمار امریکا نے جاری نہیں کیے لیکن ایک اندازے کے مطابق اس جنگ پر اس کا 60، 70 ارب ڈالر کا خرچہ آیا جبکہ اس کے 13 سپاہی بھی مارے گئے، امریکا کے حصے میں واحد کامیابی یہ آئی کہ اس نے ایران کو اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ کے ذریعے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق مذاکرات پر آمادہ کیا لیکن یہ آنے والے60 دنوں میں پتہ چلے گا کہ امریکا کو اس حوالے سے بھی مناسب ڈیل ملتی ہے یا نہیں۔

دوسرا کردار بلکہ شاید بنیادی کردار اسرائیل ہے، اسے بھی کوئی خاص کامیابی نہیں ملی، نہ وہ ایران میں رجیم چینج کر وا سکا اور نہ اس کے ایٹمی مواد کو اٹھا کر لے جاسکا، وہ تین ہزار سے زائد ایرانیوں کے قتل عام کو بھی اپنا کارنامہ سمجھتا ہوگا لیکن یہ ایران کا نقصان ضرور ہے ، اسرائیل کی کامیابی نہیں، اسرائیل کو ایک نقصان یہ بھی پہنچا کہ وزیراعظم نیتن یاہو ،ڈونلڈ ٹرمپ کے اس طرح لاڈلے نہیں رہے جس طرح کہ جنگ سے پہلے تھے بلکہ انہیں تو ٹرمپ سے ڈانٹ بھی کھانا پڑی۔

اسی طرح پہلی مرتبہ امریکا اور یورپ میں اسرائیل اور اسکے مظالم کے خلاف آوازیں بڑی شدت کے ساتھ اٹھنے لگیں، بلکہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کے الفاظ میں اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کے سوا اسرائیل کا کوئی حامی سربراہ مملکت نہیں، آخری شکست نیتن یاہو کو یہ ہوئی کہ وہ کسی صورت ایران جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ داخلی سیاست کی وجہ سے یہ جنگ ان کی ضرورت تھی اور امن ہوجانے کی صورت میں انہیں جیل جانا پڑ سکتا ہے، اسے شاید ایک فائدہ ہوا اور وہ یہ کہ 3  ہزار9سو سے زائد لبنانیوں کو شہید کرنے کے ذریعے اس نے جنوبی لبنان کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا۔

تیسرا کردار ایران تھا، انسانی اور مالی حوالوں سے اسے بہت نقصان پہنچا، اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ہزاروں شہری بمباری کے نتیجے میں شہید ہوئے، بمباری نے اس کے انفرااسٹرکچر کو بھی بے انتہا نقصان پہنچایا، امریکی ناکہ بندی کے دوران اس کا تیل بھی باہر نہ جاسکا لیکن اسٹرٹیجک اور مستقبل کے حوالوں سے اسے غیرمعمولی فائدہ پہنچا۔

ایران ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا جس نے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت کا مقابلہ کیا، اسی طرح خلیجی ممالک پر حملوں کی صورت میں اس نے امریکا اور ان ممالک کی نئی رگ کو دریافت کیا، سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے آبنائے ہرمز کا وہ استعمال سیکھ لیا جس کے ذریعے وہ خلیجی ممالک کی ناکہ بندی کرسکتا اور پوری دنیا کو معاشی دبائو میں لاسکتا ہے۔

اسلام آباد ایم او یو کے بعد ایران پر پابندی ختم ہوگئی اور اب وہ اپنے تیل کو کہیں بھی فروخت کرسکتا ہے، اصل بارگیننگ چپ (ایٹمی پروگرام) اب بھی ایران کی جیب میں ہے اور آگے جاکر وہ مذاکرات میں امریکا کے ذریعے دیگر پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد شدہ اثاثے بحال کرواسکتا ہے، گویا معاشی اور اسٹرٹیجک حوالوں سے ایران کو ایک نئی زندگی مل گئی ہے ۔

اس جنگ کا چوتھا کردار خلیجی ممالک تھے جنہیں اس جنگ میں سراسر نقصان ہوا ۔ یہ ممالک سیاحت اور سرمایہ کاری کیلئے اس لیے جنت سمجھے جاتے تھے کیونکہ جنگ اور بدامنی سے دور تھے لیکن ایران نے جس طرح انہیں میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا اس کے بعد اب ان کا یہ بھرم ٹوٹ گیا۔

اب نہیں لگتا کہ سرمایہ اور ذہانتیں اس سرعت کے ساتھ ان ممالک کو منتقل ہونگی جس طرح کہ جنگ سے پہلے ہورہی تھیں، ایک اور نقصان ان ممالک کا یہ ہوا کہ ان کا ماضی جیسا اتحاد قائم نہیں رہا، جن دو ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے ان کا ردعمل ایک طرح جبکہ باقیوں کا دوسری طرح کا تھا، اسی طرح یہ ممالک اس سوچ پر بھی مجبور ہوگئے کہ وہ اپنی سکیورٹی کیلئے امریکا پر تکیے کی روش جاری رکھیں یا چھوڑ دیں ۔

پانچواں کردار پاکستان تھا، پاکستان اگرچہ براہ راست فریق نہیں تھا لیکن اس نے پہلے دن سے اپنے لیے غیرجانبداری کا رول متعین کیا، اس نے امریکا کے ایران پر حملے کی بھی مذمت کی اور جب ایران خلیجی ممالک کو نشانہ بناتا تو اس کی بھی مذمت کرتا۔

اس کی وجہ سے پاکستان ایک مکمل غیرجانبدار ملک کے طور پر سامنے آیا جسے بیک وقت امریکا، ایران اور سوائے ایک کے باقی عرب ممالک کا اعتماد حاصل تھا چنانچہ جب اس نے ثالثی جیسے مشکل اور بظاہر ناممکن کام کا بیڑہ اٹھایا تو فریقین نے اس پر اعتماد کیا، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے بھی کماحقہ ثالثی کا کردار ادا کیا اور نہ صرف اس کی اپیل پر امریکا نے جنگ بندی کی بلکہ اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ پر سربراہان کے دستخطوں کی منزل بھی حاصل کرلی گئی۔

میمورنڈم کا نام اسلام آباد میمورنڈم رکھنا ایران اور امریکا کی طرف سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا اعتراف ہے، اس کے کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کرلیا گیا اور عالمی برادری کی صفوں میں اس کا وقار غیر معمولی حد تک بلند ہوا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

sixteen + seventeen =