تحریر:بشارت حسین زاہدی
جیسے ہی ہلالِ رمضان آسمان پر اپنی جھلک دکھاتا ہے، کائنات کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ فضاؤں میں ایک خاص قسم کا سکون اتر آتا ہے اور دلوں میں نیکی کی ایک نئی تڑپ بیدار ہونے لگتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا رمضان صرف سحری اور افطاری کے اوقات میں تبدیلی کا نام ہے؟ یا یہ اس سے کچھ بڑھ کر ہے؟
آسمان کے دروازے اور ہماری رسائی
جیسا کہ حدیثِ نبوی ﷺ ہے کہ اس ماہ کی پہلی رات سے ہی آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خالق اور مخلوق کے درمیان موجود تمام حجابات ہٹ چکے ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جہاں "ناممکن” کو "ممکن” میں بدلنے کے لیے صرف ایک سچے آنسو اور خلوصِ دل سے مانگی گئی دعا کی ضرورت ہوتی ہے۔
شبِ قدر: ہزار مہینوں سے افضل گھڑی
رمضان المبارک کا طرۂ امتیاز اس کی آخری دہائی کی طاق راتیں ہیں، جن میں "شبِ قدر” پوشیدہ ہے۔ یہ وہ عظیم رات ہے جس میں قرآنِ کریم کا نزول ہوا اور جس کی عبادت ہزار مہینوں (تقریباً 83 سال) کی عبادت سے بہتر قرار دی گئی ہے۔
یہ رات تقدیروں کے لکھے جانے کی رات ہے۔
اس میں فرشتے زمین پر اترتے ہیں اور سحر ہونے تک سلامتی کی دعائیں دیتے ہیں۔
خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس رات کی برکتوں کو سجدوں، تلاوت اور گریہ و زاری کے ذریعے سمیٹ لے۔
اعتکاف: دنیا سے کٹ کر خدا سے جڑنا
رمضان کے آخری عشرے کا ایک اور اہم تحفہ "اعتکاف” ہے۔ اعتکاف دراصل دنیاوی ہنگاموں سے کنارہ کشی اختیار کر کے خود کو مکمل طور پر اللہ کی رضا کے لیے وقف کر دینے کا نام ہے۔
یہ ایک ‘روحانی خلوت’ ہے جہاں انسان اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے۔
اعتکاف کا مقصد شبِ قدر کی تلاش اور اللہ سے ٹوٹا ہوا تعلق دوبارہ جوڑنا ہے۔
جب بندہ مسجد کے گوشے میں بیٹھ جاتا ہے، تو گویا وہ اللہ کے در پر دستک دے کر کہتا ہے: "جب تک تو مجھے معاف نہیں کرے گا، میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔”
خودی سے آگاہی کا سفر
آج کی بھاگ دوڑ بھری زندگی میں ہم اپنے آپ کو بھول چکے ہیں۔ رمضان، اعتکاف اور شبِ قدر ہمیں ‘وقفہ لینے کا موقع دیتے ہیں۔
بھوک کا احساس: ہمیں معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی تکلیف بتاتا ہے۔
صبر: ہمیں غصے اور ہیجان پر قابو پانا سکھاتا ہے۔
تلاوتِ قرآن: ہمیں اپنے مقصدِ حیات سے دوبارہ جوڑتی ہے۔
حرفِ آخر
رمضان المبارک ایک ‘تربیتی کیمپ’ ہے، جہاں ہمیں بقیہ گیارہ مہینوں کی زندگی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ اگر ہم نے اعتکاف کی تنہائی اور شبِ قدر کی پکار سے فائدہ نہ اٹھایا، تو ہم نے صرف پیاس کاٹی ہے، روزہ نہیں رکھا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ رمضان گزرنے کے بعد ہماری زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے اور ہمارے کردار میں تقویٰ کی جھلک نظر آئے۔
آئیں اس بار رمضان کو اپنی فکر اور کردار کی تبدیلی کا ذریعہ بنائیں۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔







