جون 26, 2026

تحریر: ابو محمد ارقم کوثری

وہ اپنے علاقے کا معتبر ترین آدمی تھا خاندانی رئیس، قبائلی رہنما اور وضع داری کا پیکر قدرت نے اسے مال و منال سے بھی نوازا تھا اور تمکنت سے بھی  ایک دن وہ اپنی چمچماتی نئی گاڑی میں سڑک سے گزر رہا تھا کہ دور اسے ایک شخص کھڑا دکھائی دیا  وہ ایک پرانا، خستہ حال موٹر سائیکل لیے سڑک کنارے بے بسی کی تصویر بنا کھڑا تھا۔ میر صاحب نے گاڑی روکی مسافر نے ہاتھ دیا اور اپنی مشکل بیان کی

"صاحب موٹر سائیکل جواب دے گیا ہے، اوزار نہیں ہیں، مدد فرمائیے۔”

​میر صاحب مسکرائے۔ گاڑی سے اترے، ڈگی کھولی اور اوزاروں کا ایک چمکیلا بیگ نکال لائے انہوں نے ایک ایک اوزار اس مسافر کے سامنے رکھا اور گویا ہوئے

"یہ پلاس ہے، یہ پیچ کش ہے، اسے اسکرو رینچ کہتے ہیں، یہ چھوٹے بڑے پانے ہیں اور یہ دیکھو، اسے پلگ کہتے ہیں۔”

​مسافر کی آنکھوں میں امید کی چمک جاگی کہ ابھی میر صاحب اسے یہ اوزار دیں گے یا خود ٹھیک کرنے میں مدد کریں گے لیکن میر صاحب نے خاموشی سے ایک ایک اوزار واپس بیگ میں ڈالا، زنجیر بند کی اور اس شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولے

"اسے بندوبست کہتے ہیں”

​وہ شخص ہکا بکا رہ گیا جب میر صاحب نے مزید کہا

"میری گاڑی نئی ہے، خراب ہونے کا چانس کم ہے، مگر میں ‘بندوبست’ کے ساتھ نکلتا ہوں تمہارا موٹر سائیکل پرانا ہے اور تم بغیر کسی بندوبست کے سڑک پر آ گئے اب یہاں کھڑے ہو کر حیران ہونے کے بجائے اگلی بار بندوبست کر کے نکلنا۔” یہ کہہ کر میر صاحب اپنی گاڑی میں بیٹھے اور دھول اڑاتے رخصت ہو گئے، پیچھے ایک حیران اور پریشان مسافر چھوڑ گئے

​ہماری قومی کہانی بھی یہی ہے ہم اس مسافر کی طرح ہیں جو ستر سالوں سے سڑک کنارے کھڑا معجزوں کا انتظار کر رہا ہے  ہم نے ملک تو حاصل کر لیا، جدوجہد کی داستانیں بھی لکھ دیں، لیکن ہم نے ‘بندوبست’ کرنا نہیں سیکھا ہم انفرادی زندگی سے لے کر قومی معاملات تک صرف اس لیے پریشان ہیں کہ ہمارے پاس اوزاروں کا وہ بیگ نہیں ہے جس کی ضرورت پڑنے پر زندگی کی گاڑی رواں رکھی جا سکے

ہم ستر سالوں سے اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ہم "اسلام کا قلعہ” ہیں، اس لیے پوری اسلامی دنیا کا فرض ہے کہ وہ ہمارے کشکول میں درھم ریال اور دینار ڈالتی رہے  ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری جغرافیائی حدود اتنی اہم ہیں کہ عالمی طاقتیں ہمیں نقشے سے مٹنے نہیں دیں گی اور ہم پر ڈالروں کی بارش ہوتی رہے گی ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ قلعے کی دیواریں صرف جذباتی نعروں سے نہیں، بلکہ معاشی خود مختاری اور اندرونی ‘بندوبست’ سے مضبوط ہوتی ہیں جو قوم اپنا گھر ٹھیک نہیں کر سکتی، دنیا اسے قلعہ نہیں، بوجھ سمجھنے لگتی ہے

ہم نے جمہوریت کا نام تو بہت لیا، لیکن "جمہوری تسلسل” کا کبھی بندوبست نہیں کیا۔ ہم ہر پانچ سال بعد ایک نیا تجربہ کرتے ہیں، پرانی بساط الٹ دیتے ہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ ملک ترقی کیوں نہیں کر رہا سیاست دانوں سے لے کر مقتدر حلقوں تک، کسی نے یہ بندوبست نہیں کیا کہ اقتدار کی منتقلی کا ایک ایسا میکانزم ہو جس میں ملک کا پہیہ نہ رکے

​یہی حال ہماری خارجہ پالیسی اور ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کا ہے  دنیا میں قومیں اپنے ہمسایوں کے ساتھ تجارت کا بندوبست کرتی ہیں، ہم نے دشمنی کا بندوبست کر رکھا ہے ہم نے سرحدوں پر منڈیاں بنانے کے بجائے دیواریں کھڑی کیں، ہم نے وسطی ایشیا تک جانے والی تجارتی راہداریوں کا بندوبست کرنے کے بجائے اپنی معیشت کو امداد کے وینٹی لیٹر پر چڑھا دیا جب تک ہمسایوں کے ساتھ معاشی مفادات کا بندوبست نہیں ہوگا، خطے میں ہمارا وقار اسی مسافر جیسا رہے گا جسے کوئی راستہ دینے کو تیار نہیں

​بندوبست سے دوری کا عالم یہ ہے کہ ہمارے بڑے بڑے ستارے بھی بے بسی کا اشتہار بنے نظر آتے ہیں وقار یونس جب قومی ٹیم کے کپتان تھے، تو ان سے ایک بار پوچھا گیا

"اگلے میچ میں آپ کس کھلاڑی کو میدان میں اتاریں گے؟”

وقار یونس بے ساختہ ہنس دیے اور ایک ایسا جملہ کہا جو ہماری قومی نفسیات کا نچوڑ ہے؛ کہنے لگے "بھائی! میں کپتان ضرور ہوں، لیکن مجھے خود نہیں پتا کہ اگلے میچ میں میں خود ٹیم میں ہوں گا یا نہیں ”

جس ملک کے کپتان کو اپنے کل کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ ملک مستقبل کی منصوبہ بندی کیسے کر سکتا ہے؟

​ہم انفرادی طور پر بھی بندوبست سے غافل ہیں ہماری عید اس وقت آتی ہے جب درزی دکانیں بڑھا دیتے ہیں اور جوتوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہوتی ہیں ہمیں سردی اس وقت یاد آتی ہے جب برف باری سر پر ہوتی ہے اور ہم لکڑیوں کا بندوبست کرنے نکلتے ہیں ہم نے اداروں میں، کھیل کے میدانوں میں اور یہاں تک کہ اپنے ذاتی اخراجات میں بھی کبھی "بندوبست” کا لفظ شامل نہیں کیا

حقیقت یہ ہے کہ دنیا ان کی مدد کرتی ہے جو اپنا بندوبست خود کرنا جانتے ہیں۔ میر صاحب کی وہ نئی گاڑی اس لیے محفوظ تھی کہ وہ اوزاروں کے ساتھ نکلے تھے۔ ہم نے پرانا موٹر سائیکل بھی پالا ہوا ہے اور جیب میں اوزار بھی نہیں ہیں۔ جب تک ہم اپنی جیب، اپنے گھر، اپنے اداروں اور اپنی خارجہ پالیسی میں "بندوبست” کا کلچر پیدا نہیں کریں گے، ہم یونہی سڑک کنارے کھڑے حیران ہوتے رہیں گے اور دنیا کی تیز رفتار گاڑیاں ہمیں مٹی اڑاتی ہوئی پیچھے چھوڑ جائیں گی

​یاد رکھیے جس دن ہم نے "بندوبست” کرنا سیکھ لیا، اس دن ہمیں سڑک کنارے کھڑے ہو کر کسی میر صاحب کو ہاتھ دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ورنہ دنیا ہمیں اسی طرح اپنے اوزار دکھاتی رہے گی، ہمیں حیران کرتی رہے گی اور ہم وہیں دھول چاٹتے رہ جائیں گے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

7 − 3 =