سیاسیات- یمن کی طویل خانہ جنگی ایک بار پھر علاقائی سیاست میں ہلچل کا باعث بن گئی ہے، جہاں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔ سعودی عرب نے زور دیا ہے کہ متحدہ عرب امارات 24 گھنٹے کے اندر اپنی افواج یمن سے واپس بلائے، جیسا کہ یمن کی حکومت نے بھی مطالبہ کیا ہے۔ سعودی عرب نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ یو اے ای کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت کا عمل بھی فوری طور پر بند کرے۔ اس سے قبل یمن کے حکمراں رشاد العلیمی نے بھی متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اماراتی فوج کو 24 گھنٹوں میں ملک سے نکل جانے کا کہا تھا۔ یمن کے حکمران نے یہ بھی اعلان کیا کہ ملک کی تمام بندرگاہوں اور زمینی و بحری گذرگاہوں پر 72 گھنٹوں کے لیے مکمل فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی نافذ کی جا رہی ہے۔
ان بیانات پر متحدہ عرب امارات نے کہا کہ سعودی عرب کے بیان سے سخت مایوسی ہوئی ہے اور یمن کے لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ یو اے ای نے وضاحت دی کہ مکلا بندرگاہ پر لنگرانداز ہونے والے جہازوں پر اسلحہ نہیں تھا اور اس پر موجود سامان بھی صرف یمن میں تعینات اماراتی فورسز کے لیے تھا۔ اگرچہ ماضی میں سعودیہ اور امارات یمن میں حوثی مجاہدین کے خلاف ایک ہی اتحاد کا حصہ رہے ہیں، مگر کچھ مہینوں سے ان کے مفادات اور حکمتِ عملی واضح طور پر مختلف ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سعودی عرب کی خواہش یمن میں ایک متحد اور مرکزی حکومت کے قیام کی ہے اور حالیہ عرصے میں وہ حوثی تحریک کے ساتھ جنگ بندی اور سیاسی حل پر زور دے رہا ہے۔ علاوہ ازیں سعودی عرب کا مقصد یمن سے منسلک اپنی سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا اور یمن جنگ سے باعزت انداز میں نکلنا ہے۔
اس کے برعکس متحدہ عرب امارات جنوبی یمن میں زیادہ سرگرم نظر آتا ہے۔ یو اے ای کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) جنوبی یمن کی علیحدگی یا کم از کم وسیع خود مختاری کی خواہاں ہے۔ اسی نکتے پر سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگیا ہے، کیونکہ سعودی حکمران کسی بھی صورت یمن کی تقسیم کے حق میں نہیں ہیں۔ ادھر یمن میں قائم بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے بھی ملک میں سیاسی اور سفارتی حمایت، سرحدی علاقوں میں فوجی سرگرمیوں میں کمی اور امن کے استحکام پر زور دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات جنوبی یمن میں مقامی ملیشیاؤں اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل کی عسکری و سیاسی مدد کرتا آیا ہے، جس کا مقصد عدن اور دیگر ساحلی علاقوں میں اثر و رسوخ مضبوط کرنا ہے۔ یو اے ای کا بنیادی مقصد بحیرۂ عرب اور باب المندب کی اسٹریٹجک اہمیت کے پیشِ نظر سکیورٹی مفادات کا تحفظ ہے۔
دوسری جانب یمن کی حکومت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ایک طرف اسے سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے تو دوسری جانب یو اے ای کی پشت پناہی سے مضبوط ہونے والی جنوبی قوتیں اس کے اختیار کو چیلنج کر رہی ہیں۔ یمن کی صورت حال 2011ء میں اُس وقت کشیدہ ہوئی، جب عرب ریاستوں میں آمریت کے خلاف مہمات نے زور پکڑا تھا اور اس تحریک کو عرب بہار کا نام دیا گیا تھا۔ سیاسی بحران اور خانہ جنگی کے باعث 2014ء میں حوثی مجاہدین نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر بھی قبضہ کرلیا اور پورے ملک میں اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان پر سعودی عرب اور یو اے ای میں تشویش پائی گئی اور 2015ء میں ان دونوں ممالک کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد نے مداخلت کی۔ جس کے بعد یمن کے حوثی مجاہدین اور عرب اتحادی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ بین الاقوامی طور پر مرکزی حکومت تشکیل دی گئی۔
اس حکومت کے قیام کے بعد بھی جھڑپوں کا سلسلہ نہ تھم سکا اور 2019ء کے بعد یو اے ای کی توجہ جنوبی یمن پر مرکوز ہوگئی، جہاں اس نے سدرن ٹرانزیشنل کونسل کی حمایت جاری رکھی۔ البتہ سعودی عرب کا جھکاؤ یمن میں سیاسی عمل کے ذریعے امن کا قیام رہا، جس کے لیے وہ حوثیوں سے مذاکرات کے لیے بھی راضی ہوگیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بظاہر اتحادی ہوتے ہوئے بھی یمن کے مستقبل کے حوالے سے ان کے اہداف مختلف ہوچکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اختلافات برقرار رہے تو یمن کا بحران مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے، جس سے خطے میں نئی سفارتی اور عسکری صف بندیاں جنم لے سکتی ہیں۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔







