جولائی 1, 2026

سیاسیات۔ سحر فاؤنڈیشن کے زیراہتمام حوزہ علمیہ قم میں "امام ہادی علیہ السلام کی سیرت کے موضوع پر دوسری سالانہ علمی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ نشست کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، جس کی سعادت مولانا سید جاوید الحسن بخاری نے حاصل کی۔ نظامت کے فرائض مولانا سید افتخار نقوی نے انجام دیئے جبکہ مولانا سید سمیر بخاری نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سید حمزہ حسین نے منقبت پیش کی۔ اس علمی نشست کے مہمان مقرر حوزہ علمیہ قم کے استاد حجۃ الاسلام حمید رضا مطہری تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے اس نشست کے انعقاد کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔

اپنے علمی خطاب میں حجۃ الاسلام مطہری نے کئی اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ معصومین علیہم السلام کے ولادت باسعادت کے دنوں کو بھی عزاداری کے ایام کی طرح اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے امام ہادی علیہ السلام کے دور میں عباسی حکومت کے پہلے سے دوسرے دور کی منتقلی کے سیاسی اور تاریخی حالات کو بیان کیا اور امام ہادی علیہ السلام زندگی کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی۔ امام ہادی علیہ السلام کی امامت کے آغاز پر امت میں موجود وحدت اور عدم اختلاف کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے امام ہادی علیہ السلام کے زمانے میں زیارت جامعہ کبیر اور غدیریہ کے بیان کرنے کے خاص اسلوب اور اس کے پس منظر کی حکمتوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ مخالفین اہل بیت علیہم السلام  نے دوستی کے دعوے اور پھر اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ اور حصول کے لیے امام ہادی علیہ السلام کی شہادت میں اس کے کردار کی نشاندہی کی اور اس دور میں پھیلنے والے گونان گون نظریات کو امام ہادی علیہ السلام کا ان انحرافات کی نشاندہی کی اور اس سے نمٹنے کے طریقہ کار واضح کیا۔ انہوں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلیفہ وقت نے امام ہادی علیہ السلام کے ساتھ انتہائی دشمنانہ رویئے، شیعہ شعائر خصوصاً غدیر و عاشورا کو مٹانے کی کوششوں کی۔ امام حسین علیہ السلام کے مزار کی زیارت پر پابندیوں اور حتیٰ کہ قبر مطهر کو مٹانے کی سازشوں کو تفصیل سے بیان کیا۔ امام ہادی علیہ السلام کی طرف سے ائمہ علیہم السلام کے پاک مقابر کی زیارت پر خاص تاکید کا ذکر کیا۔

زیارت جامعہ اور زیارت غدیریہ جیسی اہم زیارتوں کے مضامین، ان کی تعلیمی اور ثقافتی اہمیت اور امام ہادی علیہ السلام کے دور میں ان کے بیان کرنے کی ضرورت کو واضح کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امام ہادی علیہ السلام کے دور میں تشیع کا جغرافیہ حجاز، مکہ، مدینہ، بغداد سمیت کئی علاقوں حتیٰ کہ اندلس تک پھیلا ہوا تھا اور امام علیہ السلام کے وکلاء مختلف علاقوں میں موجود تھے۔ آخر میں دعا امام زمانہ علیہ السلام  سے تقریب کا اختتام ہوا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

12 − six =