ترتیب و تنظیم: علی واحدی
لبنانی پارلیمنٹ میں مزاحمتی دھڑے وفاداری کے سینیئر نمائندے امین شیری نے لبنان کی حالیہ پیشرفت اور حزب اللہ کے خارجہ تعلقات کے سربراہ عمار الموسوی کے سعودی عرب کے دورے کے بارے میں حال ہی میں بعض ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی افواہوں کے بارے میں ایک گفتگو کے دوران کہا ہے کہ اس سفر کے بارے میں ہمیں سعودی عرب کی طرف سے سرکاری بیان یا تصدیق کا انتظار کرنا چاہیئے۔ تسنیم نیوز کے مطابق، گذشتہ ہفتے بدھ کے روز لبنانی اخبار ندا الوطن نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کے خارجہ تعلقات کے سربراہ عمار الموسوی ترکی کی ثالثی سے تین دن کے لیے سعودی عرب کے خفیہ دورے پر ہیں۔ اخبار نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دورہ لبنان کے صدر جوزف عون اور ملکی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے تعاون اور معلومات کے ساتھ انجام دیا گیا ہے، جس کا مقصد حزب اللہ کو یقین اور اعتماد دلانا ہے۔
ذرائع نے کہا اگرچہ تعمیر نو کی فائل اس سفر کے ایجنڈے میں نہیں ہے، لیکن اس سفر کی کامیابی سے لبنان پر سعودی امداد کے مزید دروازے کھل سکتے ہیں۔ دوسری جانب لبنانی فوج کی حمایت کے لیے "پیرس کانفرنس” میں سعودی عرب کی غیر اہم شرکت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ریاض نے ابھی تک لبنان میں اپنا اصل وزن نہیں ڈالا ہے، لیکن وہ اب بھی اس پیش رفت کی نگرانی کر رہا ہے۔ یہ صورتحال مالی عزم کے مرحلے میں داخل ہونے سے پہلے کی ہے۔ یہ لبنانی فوج کو مسلح کرنے کے میدان میں ہو یا تعمیر نو کے میدان میں، ابھی واضح نہیں۔
اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا مطلب اسے مزید رعایتیں دینا ہے
صیہونی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں مزاحمت کے موقف کے بارے میں ایک ریڈیو انٹرویو میں امین شیری نے کہا ہے کہ حزب اللہ کا موقف بالکل واضح ہے۔ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا مطلب اسے مزید رعایتیں دینا ہے اور خود لبنان صیہونیوں سے کوئی رعایت حاصل نہیں کرسکے گا۔ حقیقت یہ سب کچھ بتا رہی ہے اور سب جانتے ہیں کہ لبنان کے لیے کبھی بھی کسی امریکی ایلچی نے اسرائیل سے کوئی رعایت حاصل نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ آج لبنان کو جس چیز کی ضرورت ہے، وہ قومی خودمختاری کے تحفظ، سرزمین کو آزاد کرنے، لبنانی قیدیوں کو صیہونی دشمن کی جیلوں سے آزاد کرانے اور ہمارے ملک کے خلاف اس حکومت کی جارحیت کو روکنے پر مبنی اتحاد کی ہے۔ مطلوبہ مقام تک پہنچنے کے لیے بات چیت اور اندرونی اتحاد بنیادی ضرورت ہے۔
مزاحمتی دھڑے کے اس نمائندے نے تاکید کی ہے کہ حزب اللہ نے اس سے پہلے دفاعی حکمت عملی کی تشکیل کے لیے قومی مذاکرات پر زور دیا تھا، لیکن اس درخواست کو نظر انداز کر دیا گیا۔ حزب اللہ لبنانی جماعتوں اور گروہوں کے ساتھ کسی بھی مفاہمت کے لیے تیار ہے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد لبنانی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ امین شیری نے تاکید کی ہے کہ حزب اللہ تاکید کرتی ہے کہ حکومت تحفظ اور سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری طرح سے ادا کرے۔ انہوں نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے لبنان کو معاہدوں میں گھسیٹنے کی سازشوں کے بارے میں کہا ہے کہ لبنانی عوام اس سلسلے میں فیصلہ کریں گے اور وہ سب جانتے ہیں کہ صیہونی دشمن کے ساتھ ہم آہنگ کسی بھی اقدام کا مطلب لبنان کے وجود کو خطرہ سے دوچار کرنا ہے۔ جیسا کہ صیہونی قابض عرصے سے کھلے عام نام نہاد "گریٹر اسرائیل” منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
حزب اللہ کے اس نمائندے نے کہا ہے کہ علاقے میں امریکہ کا کردار صیہونی غاصب حکومت کے منصوبوں بالخصوص لبنان اور شام میں مکمل طور پر پورا اترتا ہے۔ مزاحمت کے مذکورہ نمائندے نے لبنانی فوج کے ساتھ حزب اللہ کی ہم آہنگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ دریائے لیطانی کے جنوب میں آباد کاری کے منصوبے کے سلسلے میں حزب اللہ اور لبنانی فوج کے درمیان مکمل تعاون موجود ہے۔ ہمیں لبنانی فوج کی حمایت میں بین الاقوامی برادری کی سنجیدگی کے بارے میں شکوک و شبہات ہیں، خاص طور پر پیرس کانفرنس کے ملتوی ہونے پر غور کرنا ہوگا۔ انہوں نے لبنان کی تعمیر نو کی معاملے کے بارے میں بھی اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ نے ضروری مطالعہ کیا ہے اور ہمارے جائزوں کے مطابق تجارتی اداروں کو چھوڑ کر تعمیر نو کی لاگت تقریباً 4 بلین ڈالر ہے۔ لبنان کے انتخابات کے حوالے سے امین شیری نے تاکید کی ہے کہ حزب اللہ انتخابات کے لیے پوری طرح تیار ہے اور کوشش کر رہی ہے کہ مئی میں ان انتخابات کو اپنی مقررہ تاریخ پر کروایا جائے۔
صیہونی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے جنگ بندی کے سمجھوتے کو تسلیم کرتے وقت دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ کو دسیوں سال پیچھے دھکیل دیا گيا ہے اور اب یہ تحریک پہلے جیسی نہیں رہ گئی ہے، تاہم زمینی حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ حزب اللہ کی میزائل صلاحیتوں نے دکھا دیا ہے کہ وہ جب بھی ارادہ کرے، مقبوضہ علاقوں کے اندر تک کسی بھی جگہ کو بڑی باریکی سے نشانہ بنا سکتی ہے اور اس چیز نے صیہونی حکومت کے سارے اندازوں کو فیل کر دیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے 25 نومبر کو بسیجی رضاکاروں سے ملاقات میں صیہونی حکومت کی شکست کی تشریح کرتے ہوئے کہا: "لوگوں کے گھروں پر بمباری فتح نہیں ہے، احمق یہ نہ سوچیں کہ چونکہ وہ لوگوں کے گھروں پر بمباری کر رہے ہیں، چونکہ اسپتالوں پر بمباری کر رہے ہیں، چونکہ لوگوں کے اجتماعات پر بمباری کر رہے ہیں تو وہ فتحیاب ہوگئے، نہیں، دنیا میں کوئی بھی اسے فتح نہیں مانتا، یہ فتح نہیں ہے۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






