جون 19, 2026

تحریر: سید اعجاز اصغر 

اہل تشیع پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ شیعہ یاعلی مدد کہنے کی وجہ سے مشرک ہیں۔ اہلسنت و دیوبند حضرات اپنے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں۔ اہلسنت کے بعض علماء غیر اللہ کی مدد جائز قرار دیتے ہیں جبکہ دیوبندی مسلک کے علماء بدعت اور شرک سمجھتے ہیں ۔

اہلسنت کے بعض علماء حضرت علی علیہ السلام کی مدد جائز قرار دیتے ہیں اور بعض ناجائز سمجھتے ہیں۔

جبکہ اہل تشیع قرآن و حدیث کی رو سے یا علی مدد کہنا جائز قرار دیتے ہیں۔

قرآن و حدیث کےمطابق شیعہ سنی اور دیوبندی دلائل مندرجہ ذیل ہیں ۔

"یا علی مدد” کہنا جائز ہے یا نہیں، اس پر مسلمانوں کے مسالک میں اختلاف ہے:

اہل سنت کے بعض مکاتب فکر اسے جائز سمجھتے ہیں، خصوصاً توسل (درمیانی راہ اختیار کرنے) کی نیت سے، کہ یہ اللہ کی بارگاہ میں بزرگان دین کا وسیلہ ہے، جبکہ دیوبندی مکتب فکر اسے شرک کے قریب (مشابہ شرک) قرار دیتا ہے اور منع کرتا ہے، خاص طور پر اس عقیدے کے ساتھ کہ حضرت علی خود مختار ہیں۔

جائز کہنے والے (اہل سنت کے بعض مکاتب) کی دلیلیں:

توسل اور وسیلہ:

ان کے مطابق یہ کہنا کہ "یا علی مدد” اس نیت سے کہ وہ اللہ کے نزدیک عزت والے ہیں اور ان کے وسیلے سے اللہ مدد کرتا ہے، یہ عبادت اور توحید ہے۔

احادیث مبارکہ:

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن حنیف کو دعا سکھائی جس میں حضور کو پکارنا اور آپ سے مدد طلب کرنا شامل ہے، جس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ بزرگان دین سے مدد طلب کرنا جائز ہے۔

ناجائز کہنے والے (دیوبندی مکتب فکر) کی دلیلیں:

شرک سے مشابہت:

ان کے نزدیک اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت علی خود مختار ہیں اور اللہ کے اذن کے بغیر مدد کر سکتے ہیں، تو یہ شرک ہے۔

عقیدہ کا فرق:

ان کا کہنا ہے کہ حضرت علی کو اس طرح پکارنا کہ وہ ہر مشکل میں مدد کر سکتے ہیں، یہ غلط ہے اور اس سے بچنا چاہیے۔

خلاصہ:

اگر "یا علی مدد” سے مراد اللہ سے دعا کرنے میں حضرت علی کو وسیلہ بنانا ہے تو یہ جائز ہے۔

اگر اس سے یہ عقیدہ ہے کہ حضرت علی (یا کوئی اور) خود مختار ہے اور اللہ کے علاوہ مدد کر سکتا ہے، تو یہ شرک ہے اور ناجائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا یا علی مدد کہنا جائز ہے – ۔؟

شیعہ عقیدہ

دعائے توسل میں بھی واضح طور پر چودہ معصومین علیہم السلام کو وسیلے کے طور پر پیش کیا گیا ہے جن کی آبرو اور عظمت کے صدقے ہم اللہ تعالی سے مدد مانگتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنی عقیدہ

یا رسول اللہ مدد یا علی مدد یا غوث المدد کہنا کیسا؟

امام نسائی و امام ترمذی کا حوالہ

یارسول اللہ مدد، یا علی مدد اور یا غوث پاک مدد وغیرہ کہنا شرعاً جائز ہے اور اسے شرک وبدعت کہنے والے جاہل ہیں یا گمراہ۔ … * امام نسائی، امام ترمذی…

سنی عقیدہ

” یا علی مدد “ کہنے کا حکم – جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

لہذا "یا علی مدد” کہنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ اگر اس سے مقصود حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکار کر ان سے استغاثہ ہو اور یہ اعتقاد ہو کہ ان کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہیں…

سنی عقیدہ

” یا علی مدد “ کہنے کا حکم

لہذا "یا علی مدد” کہنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ اگر اس سے مقصود حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکار کر ان سے استغاثہ ہو اور یہ اعتقاد ہو کہ ان کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہیں…

یا رسول اللہ مدد یا علی مدد یا غوث المدد کہنا کیسا؟

یاغوث المدد کہنا اور غیر اللہ سے مدد مانگنا شرک تب ہے جب انہیں ذاتی طور پر بغیر کسی کی عطا کے مدد کرنے والا مانا جائے۔ اگر ان سے یہ سمجھ کر مدد مانگی جائے …

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیعہ عقیدہ

کیا یا علی مدد کہنا جائز ہے

کیا یا علی مدد اور یا علی ادرکنی کہنا جائز ہے؟

جواب: حجت اللہ اور ولی اللہ سے مدد مانگنا اور ان سے استغاثہ کرنا جائز ہے جس کی سب سے اہم دلیل دعائے فَرَج ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیعہ مجتہد کا فتوی

یا علی مدد کہنے کا جواز

استفتاء آیت الله سید سعید الحکیم طباطبائی

سوال: میرے بہت سے شیعہ برادران اپنی زندگی کے تمام اُمور میں عمومی طور پر اور خاص طور پر جب وہ کھڑے ہو رہے ہوتے ہیں تو امام علی علیہ السلام کا اسم مبارک زبان پر جاری کرتے ہیں اور کہتے ہیں یا علی یہ ان چیزوں میں سے ہے جس پر اہل سنت افراد اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم لوگ امام علی کا نام اللہ اور محمد میں ہم سے پہلے لیتے ہو اس طرح وہ ہم میں عیب نکالتے ہیں تو کیا اس طرح سے امام علی علیہ السلام کا نام لینا جائز ہے اور اگر جائز ہے تو کیوں جائز ہے؟

جواب: جی ہاں یہ جائز ہے کیونکہ اللہ کے علاوہ کسی اور سے مدد مانگنا جائز ہے اس ایمان اور اعتقاد کے ساتھ کہ فقط اللہ ہی ہے جو خلق کرنے والا ہے اور تدبیر کرنے والا ہے اور تمام کی تمام قدرت اور

طاقت اسی کی ذات سے شروع ہوتی ہے اور اسی کی ذات کی طرف لوٹتی ہے سے بھی مدد مانگی جا رہی ہے وہ مدد اور اللہ کے علاوہ  نہیں کر سکتا مگر اللہ کے اذن سے۔

جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب انسان مشکل حالات میں مبتلا ہوتا ہے تو دوسروں کی مدد کا محتاج ہوتا ہے کبھی اپنے بھائی سے مدد مانگتا ہے

کبھی اپنے رشتہ داروں وغیرہ سے . وغیرہ سے مدد مانگتا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود "نادِ علی” پڑھی ۔ خیبر کا واقعہ ناد علی کے حوالے سے بہت بڑی دلیل ہے۔

بعض صوفیاء اور اولیاء اللہ کے وظائف میں اس کا ذکر ملتا ہے، اور بعض علماء اس کی اجازت دیتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندوں سے مدد مانگنا جائز ہے (جیسے کہ قرآن میں انبیاء، فرشتے اور صالحین کی مدد کا ذکر ہے)، مگر اس میں غلو سے بچنا چاہیے کیونکہ اس کے اشعار میں بعض لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی نبوت کے برابر ولایت کا دعویٰ کیا ہے، جو کہ غلط ہے.

مختصر وضاحت:

اصل معاملہ: "نادِ علی” دراصل ایک دعا ہے جس کا مطلب ہے "اے علی! مدد کے لیے پکارو”.

ثبوت:  بزرگوں اور مشائخ کے وظائف میں شامل رہی ہے.

علماء کا موقف:

بعض علماء (جیسے امام احمد رضا خان) اسے پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندوں (اولیاء) سے مدد طلب کرنا جائز ہے، جس کی مثال قرآن میں بھی موجود ہے.

بعض علماء (محدث فورم کے مطابق) اس کے اشعار میں غلو (بڑھا چڑھا کر بیان) اور بدعت کی نشاندہی کرتے ہیں، خاص طور پر جب اسے نبی کریم ﷺ کی نبوت کے برابر قرار دیا جائے یا اس سے غلو کیا جائے.

خلاصہ: یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے، جس میں احتیاط اور شرعی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اہل تشیع کے مفسرین کے مطابق

اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ

۵۔ ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

5۔ کسی ذات کی تعظیم و تکریم اور اس کی پرستش کے چار عوامل ہو سکتے ہیں : i۔کمال، ii۔احسان، iii۔ احتیاج اور iv۔ خوف۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں یہ چاروں عوامل موجود ہیں۔ لہٰذا ہر اعتبار سے عبادت صرف اسی کی ہو سکتی ہے۔ مومن جب قوت کے اصل سرچشمے سے وابستہ ہو جائے تو دیگر تمام طاقتوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے: لَہٗ مَقَالِیۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۔ (42 : 12) آسمانوں اور زمین کی کنجیاں صرف اس کے اختیار میں ہیں۔

غیر اللہ سے استمداد (مدد مانگنے) کا مطلب یہ ہو گا کہ سلسلہ استمداد اللہ تعالیٰ پر منتہی نہ ہوتا ہو اور اس غیر اللہ کو اذن خدا بھی حاصل نہ ہو۔ لیکن اگر وہ ماذون من اللہ ہو اور یہ استمداد اللہ کے مقابلے میں نہ ہو، بلکہ اس کی مدد کے ذیل میں آتی ہو تو شرک نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ مَا نَقَمُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ اَغۡنٰہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۔ (9: 74) انہیں اس بات پر غصہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اپنے فضل سے ان کو دولت سے مالا مال کر دیا ہے

اِیَّاکَ  اس سے ثابت ہوا کہ مدد صرف اللہ تعالٰی ہی سے مانگنی جائز ہے اور حقیقی مددگار صرف اللہ تعالٰی ہے لیکن اللہ تعالٰی کو حقیقی مددگار مان کر اس کے مخلص بندوں سے مدد لینا دراصل خدا ہی سے مدد لینا ہے جیسے کہ فرمایا

من یطع الرسول فقد اطاع اللہ

جس نے رسول کی اطاعت کی پس اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

اور قرآن ہی سے ثابت ہے کہ انبیاء علیہم السّلام نے بھی غیر اللہ سے مدد طلب کی ہے مثال کے طور پر حضرت عیسٰی علیہ السلام فرماتے ہیں

من انصاری الی اللہ( پارہ نمبر 3 سورہ آل عمران )

کہ کون ہے جو اللہ کی راہ میں میری مدد کرتا ہے حواری بولے

نحن انصار اللہ

کہ ہم اللہ کے مدد گار ہیں

یہ کہہ کر وہ مسلمان بھی ہو گئے۔

پس خدا کے بنائے ہوئے پیشواؤں سے مدد مانگنا خدا ہی سے مدد مانگنے کے مترادف ہے

مزید اس حوالے سے دلیل پیش کی جاتی ہے کہ

موسٰی و ہارون علیہم السّلام کی مدد کرنے والا کون تھا  ؟

رجب برسی مشارق انوار الیقین میں لکھتے ہیں کہ جب اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی و ہارون علیھم السلام کو حکم دیا کہ وہ فرعون کو جا کر تبلیغ کریں۔ حکم الہی پا کر دونوں بھائی دربار فرعون کی طرف روانہ ہوئے اور دونوں دل ہی دل میں گھبرا رہے تھے کہ نجانے فرعون ہم سے کیا سلوک کر بیٹھے۔ اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک سوار ان کے آگے آیا جس نے زربفت کا لباس پہنا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں سونے کی تلوار تھی۔ اس نے ان سے کہا تم دونوں بے خطر ہو کر میرے پیچھے چلے آو۔

اس سوار نے فرعون کے پاس پہنچ کر فرعون سے کہا ان دونوں بزرگواروں کی اطاعت کرو ورنہ میں تجھے قتل کردوں گا۔

فرعون یہ دھمکی سن کر گھبرا گیا اور پھر وہ شاہسوار اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

فرعون نے موسٰی اور ہارون علیھم السلام سے کہا کہ تم کل میرے پاس آنا اور جو کچھ تمہیں کہنا ہو مجھ سے کہنا۔

جب موسٰی و ہارون علیھم السلام وہاں سے چلے گئے تو فرعون نے اپنے دربانوں سے کہا تم نے اس شاہسوار کو میری اجازت کے بغیر کیوں آنے دیا تھا  ؟

دربانوں نے کہا ہمیں آپ کی عزت کی قسم ہم نے کسی شاہسوار کو یہاں سے گزرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ہمارے سامنے سے تو صرف یہی دو بھائی گزر کر آپ کے پاس آئے ہیں۔

قارئین محترم

وہ شاہسوار مولا کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السّلام تھے۔جن کے ذریعہ سے اللہ تعالٰی نے انبیاء کرام کی چھپ کر تائید کرائی ہے اور محمد مصطفٰی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی کھلم کھلا تائید کرائی ہے۔ کیونکہ علی علیہ السلام ہی اللہ کا وہ کلمہ کبرَی ہیں جسے اللہ نے اپنے اولیاء کرام کی مدد کے لئے مختلف ادوار میں مختلف صورتوں میں بھیجا اور علی نے اولیاء الہی کی ہر دور میں مدد کی اور اسی کلمہ کبرَی کا واسطہ دے کر اولیاء الہی نے خدا سے دعائیں کیں۔ اللہ تعالٰی نے ان کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اور انھیں مشکلات سے نجات دی اور قرآن مجید کی اس آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے

و نجعل لکما سلطانا فلا یصلون الیکما بایاتنا

ہم تم دونوں کے لئے سلطان مقرر کریں گے فرعون اور اس کے پیروکار ہماری آیات کی بدولت تم تک نہ پہنچ پائیں گے۔

ابن عباس نے کہا کہ ان دونوں کے لئے وہ شاہسوار آیت الکبری اور سلطان تھا  ( جس کا نام علی ابن ابی طالب علیہ السّلام ) تھا

بحوالہ مشارق انوار الیقین صفحہ نمبر 81

برسی لکھتے ہیں

مفسرین نے اس آیت مجیدہ کی تفسیر میں لکھا۔ یہ آیت اور سلطان علی علیہ السلام کی صورت تھی۔اسی طرح سے دوسرے انبیاء علیہم السّلام کے لیئے بھی علی علیہ السلام کی صورت آیت الکبری بنتی رہی۔

برسی لکھتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

یاعلی ان اللہ اید بک النبین سرا و ایدنی بک جھرا

علی علیہ السلام  ! اللہ تعالٰی نے باقی انبیاء کرام کی تائید تیرے ذریعہ سے چھپ کر کرائی اور میری تائید تیرے ذریعہ سے کھلم کھلا کرائی۔

قارئین محترم

جو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یا علی مدد کہنا جائز نہیں ان کے لئے مذکورہ بالا تحریر قرآن و حدیث کے ذریعہ دلیل کے ساتھ پیش خدمت ہے اب اگر یاعلی مدد کہنا جائز نہیں تو جان لینا چاہیے کہ

سورہ مائدہ کی آیت نمبر 35 کے مطابق اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ وَ جَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴿۳۵﴾

رضائے رسولؐ رضائے رب کا وسیلہ

۳۵۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف(قربت کا)ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو شاید تمہیں کامیابی نصیب ہو۔

35۔ آیت میں تقویٰ کے بعد اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لیے وسیلہ تلاش کرنے کا حکم ہے چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰ ﷺ کو رسول بنا کر عملاً انہیں وسیلہ بنایا اور قولاً اس وسیلے کے بارے میں فرمایا: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ (آل عمران: 31) چنانچہ اتباع رسول ﷺ رضائے رب کے لیے وسیلہ ہے۔ کچھ حضرات دعائے رسول ﷺ کو تو وسیلہ مانتے ہیں لیکن ذات رسول ﷺ کو وسیلہ نہیں مانتے جبکہ قرآن نے ذات رسول ﷺ کو وسیلہ امن قرار دیا ہے: وَمَا كَانَ اللہُ لِيُعَذِّبَہُمْ وَاَنْتَ فِيْہِمْ (انفال: 33) (اے محمد ﷺ !) جب تک آپ ﷺ ان کے درمیان ہیں اللہ انہیں عذاب نہیں دے گا۔

یاعلی مدد کہنا سنت رسول اللہ و سنت انبیاء علیہم السّلام ہے۔جب محمد و آل محمد علیہم السّلام انبیاء کرام کے ناصر و مددگار ہیں اور انبیاء کرام  اور ملائکہ کا ان معصوم ہستیوں کے علاوہ گزارہ نہیں ہے تو ہم جیسے گناہ گاروں کا ان پاک و مطہر ہستیوں کے علاوہ گزارہ کیسے ہوگا۔ یہی پاک ہستیاں دین و دنیا میں آخرت میں شفاعت کرنے والی ہیں۔ بوقت نزع موت کے وقت ان کی شفاعت تب نصیب ہو گی اگر دنیاوی زندگی میں ہر وقت اللہ و رسول اللہ و آل محمد علیہم السّلام کا کثرت سے دل و جان تذکرہ کیا جائے گا تو ملک الموت کے ہمراہ یہ پاک ہستیاں بھی تشریف لائیں گی اور مومن کی روح انتہائی سکون اور راحت کے عالم جسم سے جدا ہو جائے گی اگر محمد و آل محمد علیہم السّلام کے علاوہ شیطان اور اس کے حواریوں سے تعلق وابستہ رہا تو موت کے وقت شیطان اپنے حواریوں کے ہمراہ انسان کے پاس آئے گا مرنے والے کو گمراہ کرے گا اور ملک الموت ایسے گمراہ کن انسان کو واصل جہنم کرے گا۔

لہٰذا میں گناہ گار ذلیل حقیر انسان دنیا میں محمد و آل محمد علیہم کو اللہ تعالٰی کے حکم کے مطابق اپنا مدد گار مانتا ہوں اور آخرت میں بھی ان کے وسیلے ، ان کی معرفت کی وجہ سے اپنے آپ کو جنت کا حقدار سمجھتا ہوں۔لہذا دنیا و آخرت کی کامیابی کے لئے  چہاردہ معصومین علیہم السّلام کی نصرت طلب کرنا یا علی مدد کہنا میرا پختا عقیدہ ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

five × two =