جون 19, 2026

تحریر: علی سردار سراج

اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ محسن علی نجفیؒ ایک مسلم مجتہد تھے، اور ان کے اجتہاد پر اس فن کے ماہرین کی شہادتیں موجود ہیں۔ حوزۂ علمیہ کی رائج اصطلاح کے مطابق درجۂ اجتہاد پر فائز افراد کو “آیت اللہ” کہا اور لکھا جاتا ہے، مگر اس کے باوجود ہم محسنِ ملت کو “شیخ صاحب” ہی کہتے اور لکھتے ہیں، اور اس عنوان میں جو مٹھاس اور اپنائیت محسوس کرتے ہیں وہ کسی اور لقب میں نہیں ملتی۔

شیخ صاحب کے شاگردوں کے درمیان گویا “شیخ صاحب” ان کے لیے ایک عَلَم بن گیا تھا۔ اس کی اصل وجہ تو مجھے معلوم نہیں، تاہم قرینِ قیاس یہ ہے کہ خود شیخ صاحب اپنے نام کے ساتھ کسی بھی قسم کے القاب یا عناوین کے استعمال سے سختی سے منع فرمایا کرتے تھے، اسی بنا پر ان کے ابتدائی شاگردوں نے انہیں “شیخ صاحب” کہنے پر اکتفا کیا ہوگا۔

یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ اسم کو عظمت، مسمّیٰ کی عظمت سے حاصل ہوتی ہے، لیکن اکثر سادہ لوگ اپنی شخصیت میں عظمت پیدا کرنے کے بجائے نام اور عناوین کے ذریعے بڑا بننے کی کوشش کرتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ خود تو بڑے نہیں ہو پاتے، البتہ ان کے نام ضرور چھوٹے ہو جاتے ہیں۔

شیخ صاحب نے اپنی شخصیت کے ذریعے اس عنوان کو عظمت و رفعت عطا کی تھی، اسی لیے ہم جرأت نہیں کرتے تھے کہ محسنِ ملت کے علاوہ کسی اور استاد کو — گرچہ ان کی عظمت میں کوئی شک نہیں— “شیخ صاحب” کہہ کر مخاطب کریں۔

محسنِ ملت کی زندگی میں عظمت و بزرگی کے کئی نمایاں پہلو موجود تھے، جنہیں قلم بند کرنا اس لیے ضروری ہے کہ یہ معاشرے، بالخصوص دینی طلاب کے لیے ایک عملی نمونہ بن سکیں۔

ذیل میں ان کی زندگی کے دس اہم اور نمایاں پہلوؤں کو مختصر بیان کرتے ہیں۔

1۔ ایمان و یقین

شیخ صاحب کی شخصیت میں پائی جانے والی دیگر صفات کی بنیاد ان کا اللہ تعالیٰ اور روزِ حساب پر غیر متزلزل ایمان و یقین تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ یقین کی کس منزل پر فائز تھے، مگر یقیناً وہ علم الیقین کی سطح سے بہت آگے نکل چکے تھے۔

ایسا محسوس ہوتا تھا کہ قیامت ان کی نگاہوں کے سامنے مجسم ہے۔ وہ بارہا اس آیت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے:

﴿يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ﴾ (الطارق: 9)

“اس دن تمام راز کھول دیے جائیں گے۔”

2۔ زہد و تقویٰ

شیخ صاحب کے عملی کاموں کو دیکھنے والا شخص بظاہر یہ گمان کر سکتا تھا کہ شاید ان کی نگاہ میں دنیا کی بڑی اہمیت ہوگی، کیونکہ جو شخص دوسروں کو بے گھر نہ دیکھ سکے، وہ یقیناً اپنے لیے شاندار محل تعمیر کرے گا۔

لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ شیخ صاحب ایک زاہد، متقی اور دنیا سے بے رغبت انسان تھے۔ دنیا کی حقیقت کی گہری معرفت اور قیامت پر راسخ ایمان نے انہیں حضرت یوسفؑ کی مانند دنیا کے ظاہری حسن و جمال سے بے نیاز بنا دیا تھا۔

یہ ان کی شخصیت کا ایسا نمایاں پہلو تھا جسے ان کے ساتھ مختصر تعلق رکھنے والا شخص بھی فوراً محسوس کر لیتا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں دو ایسی شخصیات کو قریب سے دیکھا جو اس درجے کی زاہدانہ زندگی گزار رہی تھیں، اور اتفاق سے دونوں نے چند برس کے فاصلے سے جنوری کی آٹھ اور نو تاریخ کو داغ مفارقت دے گئیں:

ایک شہید سید ضیاء الدین رضویؒ اور دوسری شخصیت محسنِ ملتؒ ہیں۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا دنیا واقعی اتنی حقیر ہے، یا ان شخصیات کی عظمت اتنی بلند تھی کہ دنیا ان کے سامنے حقیر نظر آنے لگتی تھی۔

شیخ صاحب جب بھی دنیا اور اہلِ دنیا کی اس سے محبت کا ذکر فرماتے تو ان کے چہرے پر ایک خاص قسم کی ناگواری نمایاں ہو جاتی تھی۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا کی محبت انسان کی قدروں کو بدل دیتی ہے اور اچھے بُرے کا معیار تبدیل ہو جاتا ہے۔

وہ ایک مثال دیا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ کسی نہایت مالدار شخص کے پاس امام بارگاہ کے لیے چندہ مانگنے گئے تو اس نے محض دو سو روپے دیے، حالانکہ انہی دنوں اس شخص نے دو لاکھ روپے میں ایک یا دو بلیاں خریدی تھیں (ایک یا دو کی مجھے تصدیق یاد نہیں)۔ یہ مثال بیان کرنے کے بعد شیخ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ دیکھیں، کس طرح اس کی نگاہ میں قدریں تبدیل ہو چکی تھیں۔

شیخ صاحب کی ایک صاحبزادی کی شادی ہوئی، اور اس قدر سادگی سے ہوئی کہ میں نے کسی غریب کی بیٹی کی شادی بھی اس سادگی سے نہیں دیکھی تھی۔ انہی دنوں — یعنی دوہزار ایک ، دو یا تین کے آس پاس — شیخ صاحب طلبہ کی شادی کے لیے چالیس ہزار روپے کی مدد فرمایا کرتے تھے، جو اس زمانے میں ایک معقول رقم تھی۔

3۔ عقل و دور اندیشی

اگرچہ منطقی ترتیب کے اعتبار سے یہ خصوصیت دوسری ہونی چاہیے تھی، تاہم اسے تیسرے نمبر پر اس لیے رکھا گیا کہ ایمان و یقین اور زہد و تقویٰ ان کی شخصیت میں زیادہ نمایاں اور ملموس تھے۔

شیخ صاحب نہایت دور اندیش، موقع شناس اور صاحبِ عقل انسان تھے۔ وہ پیچیدہ علمی مسائل کو نہایت سادہ اور عام فہم زبان میں بیان کرنے کا غیر معمولی ملکہ رکھتے تھے اور اپنی بات دلیل کے ذریعے منواتے تھے۔ ان کی جانب سے محض ایک مدیر یا سربراہ کے طور پر احکام صادر نہیں ہوتے تھے، بلکہ وہ مستدل گفتگو کے ذریعے اپنی بات دوسروں تک پہنچاتے تھے۔

4۔ شخصیت شناسی

شیخ صاحب کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ بہترین انسان شناس تھے۔ وہ خود کبھی کبھار فرمایا کرتے تھے کہ جب لوگ چلتے ہیں تو ہمیں ان کی شخصیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔

5۔ کرامتِ انسانی

شیخ صاحب انسانی شخصیت کی کرامت کے شدید قائل تھے۔ ان کے نزدیک کسی انسان کی توہین ایک ناقابلِ معافی گناہ کے مترادف تھی۔ شاید ہی کوئی موضوع ہو جس پر وہ اس قدر زور دیتے ہوں۔ وہ بار بار فرمایا کرتے تھے کہ نہ تمہیں یہ حق حاصل ہے کہ اپنی شخصیت کو مجروح کرو اور نہ ہی دوسروں کی شخصیت کو۔

یہاں تک کہ وہ کبھی کبھی یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے ساتھ تربیت کے نام پر جو کچھ کیا گیا، اگر وہ نہ ہوتا تو ہم اس سے کہیں بہتر انسان بن سکتے تھے۔

شیخ صاحب واضح الفاظ میں فرمایا کرتے تھے کہ ان کے مدرسے میں کسی استاد کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی طالب علم کی توہین کرے۔ حتیٰ کہ جب طلبہ ایک دوسرے کو محض نام لے کر پکارتے تھے تو اس پر بھی اعتراض کرتے اور فرماتے تھے کہ نام سے پہلے “آقا” کہا جائے۔

6۔ ضبطِ نفس

شیخ صاحب کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو ان کا ضبطِ نفس تھا۔ اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ جامعہ اہل بیتؑ محض ایک دینی درسگاہ نہیں بلکہ ایک قومی مرکز بھی تھا، جہاں ہر وقت ملت کے اہم مسائل کے ساتھ شخصیات کا آنا جانا رہتا تھا، اور نہایت حساس موضوعات پر گفتگو ہوتی تھی۔

بالخصوص وہ ایام جب ملتِ تشیع داخلی اختلافات کا شکار تھی اور فضا خاصی کشیدہ تھی، ان تمام حالات کے باوجود جب شیخ صاحب تفسیرِ قرآن یا درسِ اخلاق کے لیے تشریف لاتے تو کوئی یہ گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس شخص کی زندگی میں تدریس کے علاوہ بھی کوئی اور مشغلہ موجود ہے۔

7۔ خلوص

شیخ صاحب محض مخلص نہیں بلکہ مجسمۂ خلوص تھے۔ جب وہ دوسروں سے اپنی تعریف سنتے تو گویا مضطرب ہو جاتے تھے۔ اکثر آیت اللہ بروجردیؒ کی مثال دیتے تھے کہ وفات کے وقت وہ اپنے انجام کے بارے میں فکرمند ہوئے تو اطرافیان نے عرض کیا کہ آپ کی اتنی عظیم خدمات ہیں، تو انہوں نے فرمایا: “نہیں معلوم کہ یہ سب واقعی خدا کے لیے تھیں یا نہیں۔”

8۔ توکل

شیخ صاحب کو اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ تھا۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ شیخ صاحب! آپ کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ تو میں کہتا ہوں: “خدا پر توکل اور مہمان — یہ دو میرے آمدن کے ذرائع ہیں۔”

9۔ صاف گوئی

زہد و تقویٰ نے شیخ صاحب کو یہ جرأت عطا کی تھی کہ وہ کسی کے سامنے مرعوب نہیں ہوتے تھے اور اپنی بات نہایت واضح اور شفاف انداز میں بیان کرتے تھے۔ ایران کے دورے کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کی بعض پالیسیوں پر انہوں نے جس صراحت کے ساتھ تنقید کی، وہ عام تصور سے کہیں بڑھ کر تھی۔

10۔ غریب پروری

شیخ صاحب اپنی بے شمار مصروفیات کے باوجود غریبوں اور نادار لوگوں سے غافل نہیں رہتے تھے۔ وہ خود فرمایا کرتے تھے کہ یہ ذمہ داری ہمیشہ اہل بیتؑ نے خود اپنے ذمہ لی ہے۔

اگر انہیں “محسنِ ملت” کہا گیا تو یہ محض ایک تعارفی عنوان نہیں تھا، بلکہ انہوں نے ملت کے مسائل کو اپنے ذاتی مسائل سمجھا اور ان کے حل کے لیے عملی جدوجہد کی۔

وہ کرامتِ انسانی کے اس قدر قائل تھے کہ دنیا کے لیے کسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرنا گوارا نہیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اپنے طلبہ سے بھی فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی ضرورت ہو تو ہمیں بتاؤ، مگر دوسروں کے سامنے اظہارِ حاجت نہ کرو۔

اس کے باوجود، دوسروں کے لیے، بالخصوص بیماروں کے لیے، وہ کبھی کبھی اپنی آبرو کو داؤ پر لگا کر مخیر حضرات سے مدد طلب کر لیتے تھے۔

شیخ صاحب کی شخصیت اس سے کہیں بلند ہے کہ مجھ جیسا حقیر انسان اس کا مکمل احاطہ کر سکے۔ میں نے محض ان دس نمایاں خصوصیات کو بطور خلاصہ بیان کیا ہے، جن کا اعتراف دوست ہی نہیں بلکہ دشمن بھی کریں گے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

seven + 15 =