تحریر: شکور نورزئی
اس وقت بلوچستان میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کی حکومت ہے دونوں جماعتوں نے بلوچستان کو خوبصورت ،بے روزگاری کا خاتمہ اور خوشحال بلوچستان بنانے کا عہد کیا اس وقت بلوچستان میں وزیراعلی پیپلز پارٹی سے اور گورنر مسلم لیگ (ن ) سے ہیں جب سے بلوچستان میں گورنمنٹ بنی اس وقت سے اب تک بلوچستان میں سینکڑوں دہشتگردی کے واقعات سامنے آئیں ہیں بلوچستان میں پہلے ہی سے مسائل کے انبار تھے لیکن کچھ نام نہاد وزیر اور ایم پی اے نے مسائل حل کرنے کی بجائے انہوں نے صوبہ کو مسائل ستان بنادیا ہے ۔
ایک طرف بلوچستان غربت اور لاچاری کا شکار ہے دوسری طرف کچھ ایم پی اے اور وزیر عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے اپنی ہی صوبےکی لوٹ مار میں مصروف عمل ہیں۔ دوسری طرف کچھ ایم پی اے نے بلوچستان سے ناگہانی کرکے علیحدہ پسند یعنی دہشتگرد تنظیموں کو سپورٹ کررہے ہیں بلوچستان میں امن وامان کا فقدان ہے بلوچستان میں ہرطرف دہشتگردی کےخوف میں مبتلا عوام پریشان ہیں آج بلوچستان میں خاص کرکے سریاب کے بے روزگار نوجوان موبائل چوری ڈاکہ زنی میں ملوث پائے جاتے ہیں ۔ پکڑنے کی صورت میں وہ اپنے تمام دوستوں کے نام ان کے ساتھ شامل پولیس اہلکاروں کے نام بھی بتاتے ہیں لیکن بلوچستان کی قسمت پھوٹی ان پولیس اہلکاروں کی نشان دہی ہونے کی صورت میں ان کےخلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے کیا بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے کیا بلوچستان کا کوئی ولی وارث نہیں ہے اس بلوچستان میں دو بجٹ پیش کردئیے ان دو بجٹ میں تقریباً 38000ہزار ملازمتیں کا اعلان کیا جس کو ملازمتیں دیی گئیں ان کا احتساب کیاجائے سب ملازمتیں مل بانٹھ کر بیچ دی گئیں یا اپنے عزیز و اقارب میں تقسیم کی ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی جوکہ میڈیا کے سامنے روڈوں پر آڈرز تقسیم کا ڈھونگ رچاتے رہے ہیں۔
کیا انہوں نے اپنی پارٹی کے کسی کارکن کا کبھی جائز کام کیا ہے۔ صرف میڈیا کی سامنے ڈھونگ رچا کر کہتے ہیں کہ میں نے دہشتگردی کو ختم کرناہے ۔ کیا اس نے دہشتگردی اور بے روزگاری کو ختم کیا۔وزیراعلی بلوچستان نے تو اپنی خاندانی دشمنی نبھائی جن سے ان کی اپنی ذاتی دشمنی تھی انہوں نے تو اپنی ذاتی اور سیاسی دشمنوں کودہشتگردی کے کھاتے ڈال کر ختم کردیے لیکن اصل دہشتگرد کیوں نہیں پکڑے جاتے ہیں ۔ قاضی کو پکڑا لیکن ان کے گروپ کا کیا ہوا ۔ ٹرین پر حملے ہوئے لیکن یہ دہشت گرد اتنا پاپولر کسے بنے اس کی سرپرستی کون کررہاہے کچھ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ہمارے کچھ وزیر اور ایم اے کی زیر سرپرستی میں ہورہاہے تاکہ افواہیں پھیلا جائے کہ بلوچستان میں بد امنی ہے تاکہ ترقی کاکام نہ ہو اور کوئی سرکاری نمائندہ یہاں کا جائزہ نہیں لے ایک اطلاع کے مطابق جو سابقہ وزیر تھے اس کے پی ایس نے 35 کروڑ کرپشن صرف 9ماہ میں کی اور کوئٹہ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کاکام اپنے نام سے منسوب کررہے ہیں حالانکہ وہ پراجیکٹ سابقہ وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک بلوچ کا مہربانی ہے سریاب کے عوام پر۔
اب سردیاں شروع ہوگئی ہے اگر بارش ہوئی تو ہمارے منسٹر صاحبان سرکاری کا غذی کاروائی مکمل کرکے فنڈ ہڑپ کرلیتے ہیں اس وقت ہمارے ایم پی اے مسئلہ مہاجرین بناکر کاموں کو پیچھے دھکیل رہے ہیں اگر اب احتساب شروع ہو جائے تو شاید پھر پانی کی ٹینکیوں سے پانی نہیں بلکہ نوٹ نکلے ایک وزیر نے 1 ارب 80کروڑ بلوچستان کے خزانے نکالے ہے کوئی مائی کا لالا ہوگا کہ ان سے سوال کریں کہ یہ پیسے کہا پر خرچ ہوگئے ۔ بلوچستان میں ہر چیز کا سودا ہورہاہے خدا را اب بھی وقت ہے
یہاں پر لوگ اپنے گھر پر خود حملہ کرکے مختلف مقاصد حاصل کررہے ہیں صدر مملکت آصف علی زرداری ۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف بلوچستان کی غیور عوام پر ایک نظر ڈالیں ۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






