تحریر: علی سردار سراج
قرآنی نقطۂ نظر سے صرف فرد ہی نہیں بلکہ معاشرہ بھی ایک زندہ اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح فرد کی زندگی میں عروج و زوال کے مراحل آتے ہیں، اسی طرح معاشرے بھی ترقی یا انحطاط کی راہوں پر گامزن ہوتے ہیں۔ قرآنِ کریم نے متعدد مقامات پر سابقہ اقوام کے عروج و زوال کا ذکر کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کوئی بھی معاشرہ نہ تو حادثاتی طور پر ترقی کرتا ہے اور نہ ہی بلا سبب زوال کا شکار ہوتا ہے، بلکہ اس کے پیچھے مخصوص اخلاقی، سماجی اور سیاسی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔
قرآنِ کریم کی طرف سے سابقہ اقوام کے حالات پر غور و فکر کی دعوت اس امر کی دلیل ہے کہ معاشرتی عروج و زوال کچھ آفاقی اور ثابت قوانین کے تحت وقوع پذیر ہوتا ہے۔ انہی قوانین میں سے ایک بنیادی قانون امن ہے، جو کسی بھی معاشرے کی اخلاقی، معاشی اور سیاسی ساخت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اگر معاشرے میں امن میسر نہ ہو تو اخلاقیات کمزور، معیشت غیر مستحکم اور سیاست انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر حضرت ابراہیمؑ نے شہرِ مکہ کے لیے سب سے پہلے امن کی دعا کی، اس کے بعد رزق اور معاشی خوشحالی کی درخواست کی:
“اور جب ابراہیمؑ نے دعا کی: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے اور اس کے رہنے والوں کو پھلوں سے رزق عطا فرما” (البقرہ: 126)
گلگت بلتستان صدیوں تک مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر کے ماننے والوں کا مشترکہ اور پُرامن خطہ رہا ہے۔ یہاں کے باسی نہ صرف باہمی رواداری کے ساتھ زندگی گزارتے رہے بلکہ رشتہ داریوں اور سماجی تعلقات کے مضبوط بندھنوں میں بھی جڑے رہے۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں سے یہ خطہ فرقہ وارانہ کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، جس کے نتیجے میں صبر، برداشت، رواداری اور انصاف جیسے سماجی اوصاف بتدریج کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔
معاشرے میں فکری اور اخلاقی رہنمائی کا اہم فریضہ علماء کے سپرد سمجھا جاتا ہے، مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض حلقوں میں دینی خطاب کا انداز اصلاح اور اخلاق کے بجائے اشتعال اور جذبات انگیزی کی طرف مائل ہو گیا ہے۔ نتیجتاً وہ علمی اور اخلاقی آوازیں پس منظر میں چلی گئی ہیں جو اعتدال، حکمت اور مکالمے کو فروغ دیتی تھیں۔
اسی طرح بعض مذہبی و سماجی قائدین کی گفتگو میں بھی انصاف، تحمل اور اخلاقی ذمہ داری کے بجائے اشتعال انگیز زبان، سخت بیانی اور مخالفین کے مقدسات کے حوالے سے غیر محتاط طرزِ عمل دیکھنے میں آتا ہے، جو نہ اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی سیرتِ نبوی ﷺ کے اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
ریاست اور حکومت کا بنیادی فریضہ عوام کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ہے۔ اگر کوئی حکومت اس بنیادی ذمہ داری کی ادائیگی میں ناکام ہو جائے تو اس کی کارکردگی اور اہلیت پر سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں امن و امان کے حوالے سے حکومتی کارکردگی پر عوامی سطح پر تحفظات پائے جاتے ہیں، جن کا بروقت اور سنجیدہ تدارک ناگزیر ہے۔
قاضی نثار صاحب پر حملے کے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اس بات کی متقاضی تھی کہ ریاستی ادارے انتہائی احتیاط، قانونی اصولوں اور غیر جانبداری کے ساتھ معاملہ نمٹاتے۔ کسی بھی فرد یا واقعے کو اجتماعی یا فرقہ وارانہ تناظر میں پیش کرنے کے بجائے اسے ایک انفرادی اور قانونی معاملہ سمجھا جانا چاہیے تھا۔ اس اصول کو ملحوظ رکھنا ریاستی ذمہ داری کا حصہ ہے، تاکہ معاشرے میں مزید تقسیم اور بداعتمادی جنم نہ لے۔
یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ محض الزام کسی شخص کو مجرم ثابت نہیں کرتا، بلکہ جرم کا تعین عدالتی فیصلے کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔ زیرِ تفتیش افراد کی ذاتی معلومات کو غیر ذمہ دارانہ انداز میں عام کرنا نہ صرف ان کی جان و مال کے لیے خطرہ بن سکتا ہے بلکہ مجموعی سماجی امن کو بھی متاثر کرتا ہے۔
ان تمام چیلنجز کے باوجود ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی نوجوان نسل میں سیاسی و سماجی شعور میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نوجوان اس حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں کہ علاقے کے بنیادی مسائل—جیسے انسانی حقوق، وسائل پر اختیار اور سیاسی خودمختاری—فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر ہو کر مشترکہ جدوجہد کے متقاضی ہیں۔
گلگت بلتستان کے عوام کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے خطے میں امن کو برقرار رکھیں، اپنے قدرتی و سماجی وسائل کا تحفظ کریں اور اپنے جائز حقوق کے لیے پرامن، آئینی اور مشترکہ جدوجہد کریں۔ مذہبی آزادی ہر فرد کا بنیادی حق ہے، اور ہر شخص اپنے عقائد اور عبادات کی ادائیگی میں آزاد ہے، بشرطیکہ اس آزادی سے دوسروں کے حقوق اور معاشرتی امن کو نقصان نہ پہنچے۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






