تحریر: بشارت حسین زاہدی
حضرت ام البنین، فاطمہ بنت حزام بن خالد، ایک ایسی عظیم اور جلیل القدر خاتون ہیں جن کی شخصیت اسلامی تاریخ میں صبر، وفا، ایثار اور ولایت کی عملی تفسیر کے طور پر ہمیشہ درخشاں رہے گی۔ وہ فقط حضرت عباس علمدار علیہ السلام اور ان کے تین بھائیوں کی مادر گرامی ہی نہیں تھیں، بلکہ وہ اسوۂ کمالات ہیں جن کی زندگی کا ہر پہلو نسلوں کے لیے درسگاہ ہے۔
ام البنین کا تعلق عرب کے ایک نجیب اور شریف قبیلے بنی کلاب سے تھا جو شجاعت اور اخلاق میں ممتاز تھا۔ وہ ایک پاکیزہ ماحول میں پروان چڑھیں اور ان کی تربیت میں عرب کی اعلیٰ اخلاقی اقدار اور اسلامی تعلیمات کا عکس نمایاں تھا۔ یہ پس منظر ان کی آیندہ زندگی میں صبر اور استقامت کا عظیم سہارا بنا۔
جب امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے ان سے عقد فرمایا، تو یہ دراصل ایک پاکیزہ روح کا بیتِ نبوت و امامت میں داخلہ تھا۔ حضرت ام البنین نے اس گھر کی حرمت کو پہچانا۔ ان کے کردار کی عظمت کا پہلا باب یہیں سے شروع ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت فاطمہ زہراؑ کی اولاد، حضرت امام حسنؑ اور حضرت امام حسینؑ، کو اپنی سگی اولاد سے بھی زیادہ محبت اور تعظیم دی۔
نکتۂ ایثار: روایت ہے کہ جب وہ حضرت علیؑ کے گھر آئیں تو انہوں نے عرض کیا کہ انہیں "فاطمہ” کے نام سے نہ پکارا جائے، تاکہ یتیم حسنین کریمینؑ کو اپنی مادر گرامی کی یاد تازہ نہ ہو۔ یہ بے مثال ایثار ان کی روحانی بلندی کا ثبوت ہے۔
۳. مادرِ شجاعت – فرزندانِ ام البنین
اللہ تعالیٰ نے انہیں چار بیٹے عطا فرمائے: حضرت عباس، حضرت عبداللہ، حضرت جعفر اور حضرت عثمان۔ یہ چاروں شجاعت، وفاداری اور تقویٰ کے پیکر تھے اور سب کے سب میدانِ کربلا میں نواسۂ رسول، حضرت امام حسینؑ پر قربان ہوئے۔ حضرت عباس علمدار تو وفاداری اور سقاٸی کا وہ عظیم باب ہیں کہ تاریخ جن کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔
حضرت ام البنین کی تربیت کا ہی نتیجہ تھا کہ ان کے بیٹوں نے امامِ وقت پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کو سب سے بڑی سعادت سمجھا۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






