تحریر: محمد شاهد رضا خان
مقدمہ
فاطمہ زہرا (س) کے حوالے سے ہم اہل سنت کے ساتھ بہت سی مشابہت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک مشابہت رات کی تدفین سے متعلق ہے جسے بخاری اور شیعہ دونوں نے نقل کیا ہے، لیکن بخاری نے رات کو دفن کرنے کی وجہ نہیں بتائی، لیکن بخاری کے علاوہ دیگر نے رات کو دفن کرنے کی وجہ بیان کی ہے۔
محقق آیت اللہ محمد جعفر مروجی طبسی نے قم سے آیکنا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ۔ مرکز برائے مطالعات اور شکوک و شبہات کے جواب کے 253ویں اجلاس میں جو 19 نومبر کو آن لائن منعقد ہوا تھا کہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیها کا مسئلہ غدیر اور عاشورا سے مختلف ہے اور کہا: مسئلہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں خاص طور پر سنّی علاقوں میں ان لوگوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے اور اختلافات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں زیادہ محتاط رہیں.
حضرت فاطمہ کے بارے میں مشترکات تلاش کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: میں نے اپنی کتاب کے ترجمہ میں اس سلسلے میں 13 شبہات کا ذکر کیا ہے، ان کا جواب دیا ہے اور سکھایا ہے۔
مزید کہا: فاطمہ زہرا (س) کے بارے میں ہم اہل سنت کے ساتھ بہت سی مشترکات رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک مشترک رات کی تدفین سے متعلق ہے جسے بخاری اور شیعہ دونوں نے نقل کیا ہے، لیکن بخاری نے رات کے دفن کی وجہ بیان نہیں کی، لیکن بخاری کے علاوہ دیگر اہل سنت کتب نے رات کو دفن کرنے کی وجہ بیان کی ہے۔
فرمایا: فاطمہ کا ابوبکر پر غصہ دوسری صورتوں میں سے ایک ہے۔ بخاری اس حقیقت کے بارے میں بھی کہتا ہے کہ خلیفہ اول نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو ناراض کیا۔ تیسری صورت فاطمہ زہرا (س) کا خلیفہ اول سے کلام نہ کرنا ہے جس کا ذکر بخاری میں بھی ہے۔ یہ واقعات بخاری میں لکھے گئے ہیں اور اس واقعہ کے بعد حضرت زہرا (س) 6 ماہ تک زندہ رہیں۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ سنی علاقوں میں بات کرنے کے لیے ایک خاص نزاکت کی ضرورت ہوتی ہے، مزید کہا: "ممکن ہے کہ اگر آپ حضرت فاطمہ (س) کے اسقاط کو بیان کریں تو کچھ لوگ حساس ہوں گے، لیکن فاطمہ زہرا (س) ابوبکر سے ناراض تھی اس مسئلہ پر کوئی بھی حساس نہیں ہوگا، کیونکہ اس کو بخاری نے بیان کیا ہے۔”
حضرت زہرا (س) کے گھر میں داخل ہونا اور اس گھر کی اهانت اور توہین کرنا۔ ایل سنت کےمنابع اولیہ میں موجود ہے ، اس لیے ان امور کو حل کرنا چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا: ابن عباس سے کسی نے پوچھا کہ علی کے بارے میں کچھ بتائیں، انہوں نے جواب دیا: "تم ایسے شخص کے بارے میں پوچھ رہے ہو جو اپنے گھر پر جبرائیل کے قدموں کی آواز سنتا ہو، تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس گھر کی توہین کیسے ہو سکتی ہے؟”
یہاں تک کہ بہت سے شیعہ بھی ان معاملات سے ناواقف ہیں اور ان کو حتما بیان کرنا چاہیے تاکہ ہر شخص بالخصوص سنی یہ سمجھ سکے کہ پیغمبر اکرم (ص) کے بعد کچھ خاص لوگوں نے فاطمہ زہرا (س) کو کیا نقصان پہنچایا۔
ایت اللہ طبسی نے کہا۔ثعلبی کی کتاب کشف البیان کے نام سے ہے، جس میں آیت "فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗۙ-یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۔
ان گھروں میں ہے جن کی تعظیم کرنے اوران میں اللہ کا نام ذکر کئے جانے کا اللہ نے حکم دیا ہے، ان میں صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ۔
ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ یہ کون سے گھر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء کے گھر“۔ ابوبکرؓ وہاں بیٹھے ہوئے تھے جب انہوں نے علیؓ اور فاطمہؓ کے مکانات کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ وہی مکانات ہیں ان کے علاوہ کوئی اور نہیں، لیکن ابوبکرؓ نے رسول اللہﷺ کے بعد دوسرے خلیفہ کو اس گھر پر یہ آفت لانے کی اجازت دی۔
آیت اللہ طبسی نے کہا ۔
آیت قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی.
یہ وہ آیت ہے جو اہل بیت رسول (ص) کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور تاکید کرتی ہے کہ رسول خدا (ص) کی رسالت کا مزد و اجر اہل بیت کی مودت ہے
اسمیں اہل سنت بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اس کا نزول اہل بیت (ع) کے لیے ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ فاطمہ الزہرا (س) کے بارے میں اصحاب رسول (ص) سے بہت سی روایتیں ہیں جن میں رسول اللہ (ص) نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن فاطمہ الزہرا (س) مجھ سے پہلے جنت میں داخل ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا: فقہ الحدیث ور فہم روایات بہت اہمیت کی حامل ہیں، لہذا بہتر ہے کہ فاطمہ کو قرآن اور پیغمبر اکرم (ص) کے نقطہ نظر سے اور سنیوں کے نقطہ نظر سے پیش کیا جائے۔
ان دنوں میں لوگوں کو چاہیے کہ وہ فاطمہ الزہرا (س) کے لیے جتنا ہوسکے کریں اور اس کے نتائج دنیا آخرت میں ضرور دیکھیں گے
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






