مترجم: حجت الاسلام والمسلمین محمد شاہد رضا خان
تمہید
سب سے پہلے یہ حقیقت قابلِ توجہ ہے کہ معتبر اور مستند اہلِ سنت مآخذ میں ایسے نصوص کثرت سے موجود ہیں جو پیغمبرِ اسلامﷺ کی دختِ گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر ہونے والے ظلم و ناانصافی کی صراحت کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف شیعہ مصادر تک محدود نہیں، بلکہ متعدد سنی مصادر بھی اس حقائق کو بیان ہوا
ذیل میں ان میں سے چند اہم مصادر اور روایات اہل سنت پیش ہیں۔
- صحیح بخاری
اہلِ سنت کے نزدیک صحیح بخاری سب سے زیادہ قابلِ اعتماد کتاب ہے۔ جلد 5، صفحہ 82، ’’باب غزوۂ خیبر‘‘ میں عروہ کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں مذکور ہے کہ: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے نمائندے کو خلیفہ ابوبکر کے پاس بھیجا تاکہ رسول اللہ ﷺ سے ملنے والی فدک کی میراث طلب کی جائے۔
لیکن ابوبکر نے جواب دیا:
> ’’ہم (انبیا) میراث نہیں چھوڑتے۔ جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے، اور میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلے میں تبدیلی نہیں کروں گا۔‘‘
اس طرح حضرت ابوبکر نے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی درخواست کو رد کر دیا۔
بخاری اسی روایت میں لکھتا ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اس انکار پر ناراض ہو گئیں اور وفات تک ابوبکر سے گفتگو نہیں کی۔اسی روایت میں مذکور ہے کہ آپؑ رسول اللہ ﷺ کے بعد صرف چھ ماہ زندہ رہیں، اور آپ کی وفات کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے آپ کو رات کے وقت دفن کیا، اور ابوبکر کو اطلاع تک نہ دی۔
یہ تمام تفصیلات صحیح بخاری میں مذکور ہیں اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت کو واضح کرتی ہیں۔
- لفظ "وجدت” کے معنی
اس واقعہ میں بخاری نے ’’فَغَضِبَت فاطمہ‘‘ اور ’’وَجَدَت‘‘ جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔
ابنِ منظور لسان العرب میں لکھتے ہیں:
> ’’وَجَدَت‘‘ غضب اور ناراضگی کے معنی میں آتا ہے۔
یعنی بخاری کے مطابق حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی ناراضی واضح اور ثابت ہے۔
اہل سنت کے عظیم محدث حاکم نیشاپوری (متوفی 405ھ) المستدرک (ج 3، ص 118، حدیث 4773) میں حضرت علی علیہ السلام سے صحیح سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> ’’فاطمہ کی رضا اللہ کی رضا ہے، اور فاطمہ کا غضب اللہ کا غضب ہے۔‘‘
لہٰذا بخاری کی روایت کے مطابق فاطمہؑ کا غضب… اللہ کے غضب کے مترادف قرار پایا۔
- رات کے وقت تدفین
صحیح بخاری میں یہ امر مذکور ہے کہ حضرت علیؑ نے فاطمہؑ کو رات میں دفن کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا؟
بخاری نے اس کی وجہ بیان نہیں کی، مگر دیگر اہل سنت مآخذ میں اس کی وراثت ملتی ہے
حافظ عبدالرزاق صنعانی (متوفی 210ھ) المصنّف (ج 3، ص 521، حدیث 6554) میں لکھتے ہیں:
> ’’فاطمہؑ نے وصیت کی تھی کہ ان کی تدفین رات میں کی جائے تاکہ خلیفہ ابوبکر ان کے جنازے پر نماز نہیں پڑھیں۔‘‘
عبدالرزاق سنی محدثین میں معتبر اور ثقہ ہیں۔
ذہبی ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
> ’’الحافظ الکبیر… ثقہ شیعی۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء، ج 9، ص 536)
- ابن قتیبہ: امامت و سیاست
اہل سنت کے مؤرخ ابن قتیبہ دینوری (متوفی 276ھ) الامامۃ والسیاسۃ (ج 2، ص 20) میں نقل کرتے ہیں کہ:
خلیفہ اول اور خلیفہ دوم فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے پاس ان کی ناراضی دور کرنے آئے۔
حضرت فاطمہؑ نے ان دونوں کے سلام کا جواب تک نہ دیا اور فرمایا:
> ’’کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ نہیں کہتے سنا کہ جس نے فاطمہ کو راضی کیا، اس نے مجھے راضی کیا، اور جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا؟‘‘
دونوں نے کہا: ’’ہاں، ہم نے یہ خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔‘‘
حضرت فاطمہؑ نے فرمایا:
> ’’میں اللہ اور اس کے فرشتوں کو گواہ بناتی ہوں کہ تم نے مجھے ناراض کیا ہے۔
اور میں ہر نماز کے بعد تمہارے لیے بددعا کروں گی۔‘‘
یہ عبارت واضح طور پر ان کی شدید ناراضی، اور ان پر ہونے والی ناانصافی کی نشاندہی کرتی ہے۔
ابنِ قتیبہ کو سنی علماء میں ’’ثقہ‘‘ اور ’’علامہ‘‘ مانا جاتا ہے۔
ذہبی: ’’الإمام العلامہ‘‘
خطیب بغدادی: ’’کان ثقہ‘‘ (سیر اعلام النبلاء، ج 13، ص 296)
- ابن زنجویہ: اموال
محدث ابن زنجویہ (متوفی 251ھ) الأموال (ج 1، ص 364) میں روایت کرتے ہیں کہ:
جب حضرت ابوبکر اپنی بیماری میں تھے تو عبدالرحمٰن بن عوف ان کی عیادت کو آئے۔ ابوبکر نے حسرت سے کہا:
> ’’کاش میں نے فاطمہ کے گھر (گرفتاری و دھاوا) کے لیے قدم نہ اٹھایا ہوتا۔‘‘
یہ اعتراف ظاہر کرتا ہے کہ حضرت فاطمہؑ کے گھر پر اہل حکومت کے داخلے پر بعد میں خود ابوبکر کو بھی افسوس تھا۔
- رسول اللہ ﷺ کا فاطمہؑ کے گھر کا احترام
اہل سنت کے عظیم مورخ ابن عساکر دمشقی (شافعی، متوفی 571ھ) تاریخ دمشق (ج 45، ص 103) میں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فاطمہؑ کے گھر کے باہر آکر اجازت طلب کرتے:
> ’’السلام علیکم اہلِ بیت النبوۃ… کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟‘‘
لیکن انہی باوقار و مقدس دروازوں کو بعد میں کھولنے کے لیے جبر و اکراہ استعمال کیا گیا، جیسا کہ متعدد سنی روایات میں اشارے موجود ہیں۔
حاکم نیشاپوری المستدرک (ج 3، ص 123) میں لکھتے ہیں:
> رسول اللہ ﷺ چھ مہینے تک ہر روز فاطمہؑ کے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر آیتِ تطہیر تلاوت کرتے تھے:
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ…
- آیاتِ تعظیم اور اہل بیتؑ
سیوطی شافعی (متوفی 912ھ) الدرّ المنثور (ج 6، ص 186) میں آیت:
> "فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ…”
کے تحت لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: ’’یہ گھر کون سے ہیں؟‘‘
آپؐ نے فرمایا:
> ’’یہ انبیاء کے گھر ہیں۔‘‘
حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا:
> ’’یا رسول اللہ! کیا علی اور فاطمہ کا گھر بھی ان میں شامل ہے؟‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا:
> ’’ہاں، بلکہ یہ ان گھروں میں سب سے افضل گھر ہے۔‘‘
یہ روایت ثعلبی (الکشف والبیان، ج 7، ص 107) اور حسکانی حنفی (شواہد التنزیل، ج 1، ص 410) نے بھی نقل کی ہے
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






