جون 17, 2026

سیاسیات- اسلام آباد کے حکام نے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں گائے یا گدھے کے گوشت کو جانچنے کے آلات موجود نہیں ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ ڈاکٹر طاہرہ نے منگل کو انکشاف کیا کہ ’اسلام آباد میں گوشت کو چیک کرنے کا نظام نہیں ہے کہ یہ کس جانور کا گوشت ہے۔ گدھے کا ہے یا گائے کا، پی سی آر کی سہولت ہمارے پاس نہیں ہے۔‘

اسلام آباد میں گدھے کے گوشت کی فروخت کا مبینہ واقعہ جولائی 2025 میں پیش آیا۔ فوڈ اتھارٹی نے ترنول کے علاقے میں چھاپہ مار کر 25 من گوشت اور 50 سے زائد زندہ گدھے برآمد کیے تھے اور ایک غیر ملکی شہری کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ گوشت بیرون ملک سپلائی کیا جانا تھا اور اسلام آباد میں فروخت کے ٹھوس شواہد نہیں ملے تھے۔

پولیس اور فوڈ اتھارٹی نے مقدمہ درج کر کے گوشت تلف کر دیا اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

منگل کو ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ ڈاکٹر طاہرہ نے سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کو بتایا کہ ’شبہ ہونے پر پر ہم گوشت کو پنجاب کی فرانزک لیب بھجواتے ہیں۔ لیب ٹیسٹ کی رپورٹ ایک ہفتے بعد ملتی ہے۔‘

ڈاکٹر طاہرہ نے میڈیا سے گفتگو میں ترنول کے واقعے کے تناظر میں بتایا کہ ’وہاں پر زندہ گدھے موجود جس کی وجہ سے ہمیں اندازا ہوا کہ یہ گدھوں کا گوشت ہے مزید یہ کہ وہاں موجود افراد نے اس کا اقرار بھی کر لیا تھا۔‘

ان سے جب پوچھا کہ ’گدھے کے گوشت کی ترسیل اسلام آباد میں کہاں ہوئی؟‘ تو انہوں نے جواب دیا کہ ’وہ گوشت صرف غیر ملکیوں کو دیا گیا تھا اور یہ پہلی کھیپ ہی تھی اس کے علاوہ یہ گوشت اور کہیں بھی نہیں دیا گیا۔‘

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں چیئرمین کمیٹی فیصل سلیم رحمٰن کی سربراہی میں ہوا انہوں نے کہا کہ ’چند دن قبل گدھے کے گوشت کا معاملہ خبروں میں آیا اس پر بریف کریں۔‘

ڈپٹی ڈائریکٹر اسلام آباد فوڈ اتھارٹی ڈاکٹر طاہرہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد میں فوڈ ٹیسٹنگ کی مینول مشینری موجود ہے، ہمارے پاس فوڈ ٹیسٹنگ کے لیے آلات اور لیبارٹری اسلام آباد میں نہیں ہے۔‘

سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ ’یعنی آپ نے ٹیسٹ نہیں کیا اور ہم گدھے کا گوشت کھا رہے ہیں؟‘

اس موقع پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ’گدھے کا گوشت عام گوشت سے مہنگا ملتا ہے۔ یہ جو تاثر ہے کہ ریسٹورنٹ والے گدھے کا گوشت خریدتے ہیں یہ ان کو مہنگا پڑے گا۔ بدقسمتی سے ریسٹورنٹس ایک دوسرے کے خلاف مہم کے لیے بھی یہ افواہ پھیلاتے ہیں۔‘

رکن کمیٹی فیصل سبزواری نے پوچھا کہ ’کیسے پتہ چلے گا کہ گوشت مردار جانور کا ہے؟‘

اس پر فوڈ ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہرہ نے جواب دیا کہ ’گوشت حلال ہے یا حرام، یہ گوشت کو دیکھ کر پتہ چل جاتا ہے۔ اگر جانور بیمار ہو تو جگر پر خون بھی ہوتا ہے اور چربی بھی سفید ہو جاتی ہے اس سے بھی پتہ چل جاتا ہے۔ کہ گوشت مردار ہے یا نہیں۔‘

چیئرمین کمیٹی کی اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کو ہدایت دی کہ ’آئندہ اجلاس میں مکمل رپورٹ پیش کریں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

sixteen − 5 =