جون 21, 2026

سیاسیات- سکیورٹی فورسز نے یوم آزادی پر تخریب کاری کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے 18 گریڈ کے سرکاری یونیورسٹی کے پروفیسر کو گرفتار کر لیا جس نے دہشتگردوں کی سہولت کاری کا اعتراف بھی کیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پولیس حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سی ٹی ڈی سمیت سکیورٹی فورسز بلوچستان کے امن کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں، سکیورٹی فورسز نے یوم آزادی پر تباہی کے بڑے منصوبے کو ناکام بنایا اور ایک یونیورسٹی کے پروفیسر کو گرفتار کیا جو دہشت گردوں کی سہولت کاری کر رہا تھا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کی پریس کانفرنس کے دوران بیوٹم یونیورسٹی کے لیکچرار کا اعترافی بیان بھی چلایا گیا جس میں ان کا کہنا تھا ہم دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے ٹیلی گرام ایپلی کیشن کا استعمال کرتے تھے۔

گرفتار لیکچرار نے بتایا کہ ریاست نے عزت اور وقار دیا لیکن میں نے ریاست کے ساتھ غداری کی، دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے سہولت کاری کی تھی، نوجوان اور طلبا اپنے آپ کو انتشار پھیلانے والی تنظیموں سے دور رکھیں۔

ملزم کا کہنا تھا ریاست کے ساتھ غداری کرنے پر شرمندہ ہوں، کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر حملے میں بھی یہی لوگ ملوث تھے، بلوچستان میں محرومی کا صرف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔

گرفتار لیکچرار عثمان قاضی نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ میں تربت کا رہائشی ہوں، وہیں پلا بڑھا، میں نے قائداعظم یونیورسٹی سے ایم فل اور پشاور سے پی ایچ ڈی کیا، وہیں میری ملاقات کچھ لوگوں سے ہوئی اور پھر کوئٹہ واپسی پر مجھے دہشت گرد تنظیم میں شامل کیا گیا، میں بیوٹم یونیورسٹی میں 18گریڈ میں لیکچرار ہوں، بشیر زیب مجھے گائیڈ لائن دیتا تھا۔

ملزم نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ اس نے ایک پستول لیکر تنظیم کی ایک خاتون کو دیا تھا، یہ پستول سرکاری افسران کی ٹارگٹ کلنگ کے لیے استعمال ہوا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

four × one =