سیاسیات- شام میں معزول صدر بشار الاسد کے حامیوں کے ساتھ جھڑپ میں تحریر الشام کے 16 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
شامی ذرائع نے ایک بیان میں کہا کہ منگل کو اسد کے علوی فرقے کے گڑھ طرطوس کے قریب لڑائی میں 16 دہشتگرد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردوں پر اُس وقت گھات لگا کر حملہ کیا گیا جب وہ دمشق کی بدنام زمانہ سیدنایا جیل میں ایک سابق افسر محمد کانجو حسن کو اس کے کردار کے سلسلے میں گرفتار کرنے پہنچی تھیں جسے 20 دیگر لوگوں کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا۔
برطانیہ میں قائم مانیٹرنگ گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق جھڑپوں میں تین مسلح افراد بھی مارے گئے جن کی شناخت نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب علوی کے مزار پر حملے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد شام کے وسطی شہر حمص میں کشیدگی روکنے کیلئے رات کا کرفیو نافذ کردیا گیا۔
شامی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ فوٹیج پرانی ہے جو نومبر کے آخر میں حلب پر باغیوں کے حملے کی ہے اور تشدد نامعلوم گروہوں نے کیا تھا۔
شام کے علوی اکثریتی علاقوں میں مظاہروں کی اطلاع ملی ہے جن میں طرطوس اور لطاکیہ شہر اور اسد کے آبائی شہر قردہہ شامل ہیں۔
واضح رہے کہ معزول شامی صدر بشار الاسد سمیت سابقہ حکومت کی سیاسی اور فوجی اشرافیہ میں سے بہت سے افراد کا تعلق تھا علوی فرقے سے تھا۔