جون 23, 2024

بابر اعظم کی قیادت پر سنجیدہ سوالات

سیاسیات- کرکٹ ورلڈ کپ سے قبل اہم ٹورنامنٹ ایشیا کپ میں پاکستان فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگیا، جس کے بعد اب قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی قیادت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

گزشتہ روز کھیلے گئے اہم میچ میں بابر اعظم الیون کو سری لنکا نے 2 وکٹ سے شکست دے کر ایونٹ سے باہر کردیا تھا، ایونٹ کا فائنل اب اتوار کو بھارت اور سری لنکا کے درمیان کولمبو میں کھیلا جائے گا۔

ایشیا کپ میں پہلے بھارت اور پھر سری لنکا سے شکست کے بعد ایک بار پھر بابر اعظم کی قیادت پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔

اس سے قبل بھی بابر اعظم کی قیادت پر تنقید کی جارہی تھی جب پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچوں کی سریز میں ایک بھی میچ جیتنے میں ناکام رہی تھی۔

سری لنکا کے خلاف کھیل کے آخری اوورز میں پاکستان ٹیم کی جانب سے فیلڈنگ میں کی جانے والی غلطیاں کپتان بابر اعظم کے چہرے پر واضح طور پر عیاں تھیں۔

سری لنکا سے شکست کے بعد بابر اعظم نے اعتراف کیا کہ سری لنکا کے خلاف میچ کے دوران ہم سے کئی غلطیاں ہوئیں، باؤلنگ اور فیلڈنگ میں ویسا رد عمل نہیں تھا جیسا کہ ہونا چاہیے تھا، ہمارے اہم باؤلرز ان فٹ ہوگئے، اس سے آپ کو تھوڑا سے فرق پڑتا ہے لیکن ورلڈ کپ کے لیے ہماری اچھی تیاری ہے

گزشتہ روز کے میچ کے دوران کمنٹری کرنے والے سابق کپتان اور لیجنڈ وسیم اکرم حیران تھے کہ بابر اعظم نے شاداب خان سے 9 اوورز کیوں کروائے جو سب سے مہنگے باؤلر ثابت ہوئے اور سب سے کم رنز دینے والے محمد نواز سے 7 اوورز کروائے۔

کرکٹ لیجنڈز سمیت ناقدین اور فینز بھی بابر اعظم کی قیادت پر مایوس دکھائی دیے، سری لنکا کے خلاف شکست کے بعد لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان کو حالات کو دیکھتے ہوئے بیٹنگ آرڈر کے حوالے سے بہتر فیصلے کرنے چاہیے تھے تو کسی نے آخری اوور میں کھلاڑیوں کی پوزیشن پر سوالات اٹھائے، فیلڈنگ کے دوران ایک سے زائد بار کیچ ڈراپ پر بھی کافی تنقید کی گئی۔

سابق کپتان شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کیا ہمارے پاس بیٹنگ کے لیے اور بھی کھلاڑی موجود تھے، میرے خیال میں صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ بہترین بیٹنگ آرڈر نہیں تھی۔

سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے بھی ویڈیو پیغام میں زمان خان کی بہترین باؤلنگ کی تعریف کی اور پاکستان کی شکست پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان ایشیا کپ کے فائنل میں جانے کا حقدار تھا لیکن وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا ہے، ان پر کافی تنقید کی جا سکتی ہے کیونکہ انہیں ’فیورٹ‘ کہا جاتا تھا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کو اب سوچنے کی ضرورت ہے، ورلڈکپ کے لیے پاکستان کو فائنل الیون پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے، کنفیوژن پیدا نہ کریں، مڈل آرڈر مضبوط نہیں ہے، اسپنرز نہیں ہیں، بیٹنگ آرڈر مضبوط نہیں ہے، اوپنرز کارکردگی نہیں دکھا رہے، فخر زمان کا ڈراپ ہونا اور پھر واپس آنا یہ تمام غلطیاں پاکستان کو ورلڈ کپ میں بھی مشکلات کھڑی کرسکتی ہیں لیکن اس کے باوجود ورلڈ کپ میں پاکستان فیورٹ رہے گا مگر پاکستان کو اب سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا۔‘

شعیب اختر نے سری لنکا کے خلاف شکست کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اس طرح ٹورنامنٹ سے باہر ہوجانا ٹھیک نہیں ہے، اگر ورلڈ کپ جیتنا ہے تو کپتانی بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثنا میر نے بھی بابر اعظم کی شاداب خان سے 9 اوورز کروانے کی منطق کو سمجھ سے باہر قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ایک ایسا میچ جہاں صرف دو باؤلرز 9، 9 اوورز کرسکتے ہیں، شاداب خان سے 9 اوورز کروانا کتنا اہم ہے؟

بھارتی صحافی وکرانت گپتا نے سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کو برا بھلا کہنے کے بجائے اگر پاکستانی کرکٹ ٹیم کارکردگی پر توجہ دیتی تو بہتر ہوتا، بھارت سے شکست کے بعد ٹیم بوکھلاہٹ کا شکار نظر آئی، سپر فور مرحلے کا کوئی میچ بھی بارش کی وجہ سے منسوخ نہ ہونا بھی پاکستان کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوا۔’

معروف سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے بابر کی بطور کپتان کارکردگی کے اعداد و شمار شئیر کیے جس میں ان کی گزشتہ 3 وائٹ بال ایونٹس میں کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

کرکٹ پریزینٹر زینب عباس نے بھی ایکس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی باؤلرز نے ون ڈے کرکٹ میں ٹی ٹوئنٹی کے طرز کی باؤلنگ کی جس سے سری لنکن بلے بازوں کو دباؤ دینے میں ناکام رہے، ورلڈ کپ سے پہلے ٹیم کو بہت سی خامیوں کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

19 − four =