مئی 20, 2024

یوم یک جہتی کشمیر، پس منظر اور پیش منظر

تحریر: میجر (ر) ساجد مسعود صادق

ڈاکٹر فوزیہ لون (ایسوسی ایٹ پروفیسر یونیورسٹی آف ہانگ کانگ) کی ایک محقق کے مطابق سن 1846میں Amritsar Sale Deal کے تحت کشمیر کو ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ ایسٹ انڈیا کمپنی نے تقریباً پچھتر لاکھ روپے میں (اْس دور کے لگ بھگ ایک لاکھ پاؤنڈ) میں بیچ دیا۔

مصنف Alastair Lamb (کشمیر کے حوالے سے شہرہ آفاق محقق) اپنی کتاب Incomplete Partition: The Gensis of the Kashmir Dispute میں لکھتے ہیں کہ کشمیر پر حملے سے پہلے انڈیا نے مکمل تیاری کرلی تھی اور یہ بھی کہ لیفٹیننٹ جنرل ڈولی رسل نے ذاتی طور پر اس منصوبہ بندی کی نگرانی کی، جب کہ ماؤنٹ بیٹن نے بھی مدد کی۔ کیبنٹ مشن جو ہندوستان کے مسئلہ کے لیے بنایا گیا اس کے سب ممبرز پاکستان کے خلاف کام کر رہے تھے اور 30 جون 1947 کو ریڈ کلف کمیشن نے تو پنجاب کا مسلم اکثریتی علاقہ گرداس پور انڈیا کے حصے میں ڈال دیا، جس سے انڈیا کو کشمیر تک رسائی کا واحد راستہ مل گیا۔

لیاقت علی خان نے اس بارے میںLord Baron Ismay (سیکریٹری کامن ویلتھ) کو خط لکھا، جس پر لارڈ نے اسے لکھا، ’’آپ کا ذاتی پیغام دیکھ کر میں دنگ رہ گیا ہوں۔ یہ ایک منصفانہ فیصلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی فیصلہ ہے: اگر ایسا ہے تو یہ بہت بڑی نا انصافی ہے اور یہ برطانیہ کی طرف سے اعتماد اور بھروسے کو توڑنے کے مترادف ہوگا۔‘‘

کشمیری تحریک آزادی کا باقاعدہ آغاز علامہ اقبالؒ نے 1931میں کیا تھا۔ 13 جولائی 1931 کو سرینگر میں بیس کشمیری مسلمانوں کی شہادت پر پہلا احتجاجی جلوس ہوا۔ اسی طرح کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے ڈاکٹر محمد اقبالؒ کی زیر قیادت 14 اگست 1931کو باغ بیرون موچی دروازہ لاہور میں ایک جلسہ منعقد ہوا جس نے کشمیریوں کو ہمت اور حوصلہ بخشا اور 1932میں کشمیری سیاسی پارٹی ’’آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس‘‘ معرض وجود میں آئی، جس کا مقصد ریاست سے ڈوگرہ راج ختم کر کے برٹش انڈیا سے الحاق کرنا تھا (یہ وہ وقت تھا جب تک ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ نہیں ہوا تھا)

اکتوبر 1947 میں نہرو نے اپنے قریبی دوست مینن کو کرنل سیم مانیک شا کے ساتھ (فضائیہ کا افسر)، رائل انڈین ایئر فورس کے ڈی سی تھری جہاز میں سرینگر بھیجا ۔ مینن کے مطابق انڈیا نے 24 اکتوبر 1947 کے بعد فضائی اور زمینی راستے سے انڈین فوج کو کشمیر بھیجنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ جس کے ظاہر ہونے پر پاکستانی صوبہ سرحد کے قبائلیوں نے جوابی حملہ کردیا اور مہاراجہ ہری سنگھ بھاگ کر جموں چلا گیا اور اپنے نئے وزیر اعظم مہاجن کو (جو جنگ سنگھ کے بعد اس عہدے پر تعینات تھا) فوجی مدد حاصل کرنے کے لیے دہلی بھیجا۔ انڈیا نے الحاق کے بغیر مدد کرنے سے انکار کر دیا۔

26 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ نے پریشر میں آکر اور مجبور ہو کر ماؤنٹ بیٹن کو انڈیا کے ساتھ الحاق کے متعلق ایک خط لکھا اور جموں میں معاہدہ الحاق پر دستخط کیے۔ 1949 میں کامن ویلتھ ریلیشنز آفس کی درخواست پر سرجی فٹز ماریس نے (برطانوی فارن آفس کے قانونی مشیر) انڈیا کے ساتھ کشمیر کے الحاق پر اپنی رائے دی جس میں انھوں نے اعتراف کیا کہ ’’انڈیا کے ساتھ کشمیر کا الحاق در اصل نا جائز تھا۔‘‘

کشمیری مسلمانوں نے 19 جولائی 1947 اپنی جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے پاکستان سے الحاق کی متفقہ قرار داد منظور کی تھی۔ لارڈ مائونٹ بیٹن ، نہرو، مہاراجہ ڈاکٹر ہری سنگھ ڈوگرہ اور سرحدی گاندھی عبد الغفار خان نے شیخ عبد اللہ کو غداری کے لیے قائل کیا۔ 27 اکتوبر 1947کو رات کے اندھیرے میں مقبوضہ کشمیر میں فوجیں اتار دیں۔

27 اکتوبر 1947 کو لیفٹیننٹ کرنل دیوان رنجیت سنگھ کی قیادت میں فرسٹ سکھ بٹالین کے فوجیوں کو ہوائی جہازوں کے ذریعے کشمیر میں اتارا گیا۔ جب مجاہدین کامیابی کی طرف گامزن تھے تو نہرو اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ لے گیا اور 2 نومبر 1947 کی نشری تقریر میں نہرو نے وعدہ کیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کریں گے اور ہم پوری دنیا، کشمیریوں اور پاکستان سے بھی وعدہ کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کروانے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

آج تک کشمیری ہمت نہیں ہارے اور اپنے مطالبے پر استقامت سے ڈٹے ہیں۔ بھارت کے 5 اگست 2019 کو کشمیر کی حیثیت کو بدلنے کے غیر قانونی اقدام اور مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش پر پورا کشمیر سراپا احتجاج ہے۔ 1947سے لے کر آج تک اڑھائی لاکھ کشمیری شہید، پچیس ہزار عورتوں کی عصمت دری اور لاکھوں بچے یتیم ہو چکے ہیں لیکن کشمیریوں کو بھارت تمام تر جبرو استبداد اور دس لاکھ فوج سے 76 سالوں سے شکست دینے میں ناکام رہا ہے۔

کل تک پاکستان کی سیکیورٹی کا محور و مقصد کسی حد تک مسئلہ کشمیر اور بھارتی جارحیت سے بھرا تھا لیکن دہشت گردی کی جنگ کے بعد بین الاقوامی گٹھ جوڑ نے ایک نئی جہت یعنی ’’مغرب سے خطرہ‘‘ بھی پیدا کر دی ہے۔ بلوچستان اور کے پی کے میں مسلسل گڑبڑ افواج پاکستان پر حملے اور دہشت گرد کاروائیاں بتا رہی ہیں کہ بھارت ایک دفعہ پھر جدید مکتی باہنی کے ساتھ پاکستان کے خلاف کام کر رہا ہے۔

دہشت گردی کی جنگ کے بعد سے پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف ایک بین الاقوامی نیٹ ورک جس کا روح رواں بھارت ہے اور در پردہ اسے امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے ایک تسلسل سے منفی پراپیگنڈے (جس میں کئی پاکستانی بھی نجانے انجانے میں شامل ہو چکے ہیں) کے ساتھ ساتھ کئی عملی اقدامات میں بھی ملوث ہے۔

خواہ کشمیر ہو یا فلسطین پاکستان نے ہمیشہ ہی ریاستی جبر کے خلاف دنیا کے ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے۔ جدید ریاستیں جو کالونیلزم کے بعد معرض وجود میں آئیں ان کی کیمسٹری میں ثقافت، جغرافیہ، مذہب ، مشترکہ دشمن اور مشترکہ مفادات اہم رول ادا کرتے ہیں اور نظریہ ریاست کے افراد کو باندھنے کا باعث بنتا ہے۔

پوری دنیا میں آج مسئلہ کشمیر کے حل کے متعلق ایک بیانیہ معروف کیا گیا ہے جس کے روح رواں امریکی مصنف بروس رڈل، اسٹیفن کو ہن اور ڈینئیل مرکی ہیں۔ اس بیانیے میں یہ کہا گیا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا واحد حل Status quo ہے یعنی جس کے پاس جتنا ہے وہ رکھ لے۔ پاکستان کو یاد رکھنا چاہیے کہ کشمیر کا وہ حصہ بھی بھارت کے پاس ہے جس سے پاکستان میں آنے والے تمام دریا بہتے ہیں اور یہ بیانیہ دراصل پاکستان کا کنٹرول بھارت کے ہاتھ دینے پر مبنی ہے جسے پاکستان کو ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے۔

آج بھارت امریکہ گٹھ جوڑ پاکستان کو مشرق اور مغرب دونوں اطراف سے ہر طرح سے مجبور اور پریشان کر رہا ہے لیکن پاکستانی قوم کو 8 فروری کے دان قومی الیکشن میں مگن ہو کر اس اہم دن اور مسئلہ کشمیر سے ہرگز غفلت ہے نہیں برتنی چاہیے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی دباؤ برداشت کرنا ہوگا بلکہ ’’یوم یک جہتی کشمیر‘‘ کو پہلے سے بھی زیادہ بھر پور طریقے سے منانا ہوگا کیونکہ کشمیر کے ساتھ پاکستان کی بقاء جڑی ہوئی ہے۔

 

بشکریہ ایکسپریس اردو

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

one × two =