اپریل 10, 2024

کیا پاراچنار بھی غزہ میں ہے؟

تحریر: علی سردار سراج

غزہ پر اسرائیلی مظالم پر کچھ لکھ رہا تھا،  ایک واٹساپ وائس میسج نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کی۔

یہ پاراچنار کے ایک مومن کی فریاد تھی۔

جو اپنی درد بھری آواز میں  کہہ رہا  تھا:  کئی دنوں سے ہم محاصرے میں ہیں ۔

اور پوری دنیا سے ہمارا رابطہ  منقطع کیا گیا ہے ۔

عجیب بات تھی  جنگ تو غزہ میں ہے یہاں  لوگ محاصرے میں کیوں ہیں؟

کیا پاراچنار غزہ میں ہے؟؟

ایک دم سٹپٹا گیا اور گوگل کیا تو کہنے لگا:

پاڑہ چنار پاکستان کے قبائلی علاقے ضلع کرم کا دار الحکومت ہے۔ پاڑاچنار پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد سے مغرب کی طرف 574 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جوافغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ ایک تاریخی اہمیت کا حامل شہر ہے۔ جو تمام قبائیل ایجنسیوں کے شہروں سے بڑا اور دلکش خوبصورت شہر ہے۔

دوبارہ وائس میسج سننا شروع کیا تو تعجب ہوا کہ یہ شہر نہ فقط محاصرے میں ہے بلکہ کئی دنوں سے یہاں جنگ ہو رہی ہے۔ اور پاکستانی سرحد پار کرکے افغانستان سے جنگجو  اس جنگ میں  شریک ہو رہے ہیں ۔

اور اب تک تیس کے لگ بھگ مومنین شہید ہوئے ہیں ۔ اور کئی زخمی ہیں ۔

کیا پاکستانی سکورٹی کے ادارے بے خبر ہیں یا بے بس ہیں؟؟

جب میسج دینے والے نے یہ کہا کہ: کچھ حکومتی افراد بمعہ جنگی ساز و سامان ہمارے ہاتھ لگے ہیں جو اس جنگ میں شریک تھے :

تو حیرت اور غصے کے ملے جلے جذبات نے مجھ اپنے لپیٹ میں لیا اور تڑپ، تڑپ کر بے سکوں ہوگیا تو غزہ پر لکھنے سے قلم روک کر پاراچنار پر کچھ رقم کرنا شروع کیا ۔

مجھ لگا کہ شاید اہل غزہ سے زیادہ اہل پاراچنار مظلوم ہوں، کیونکہ وہاں پر ظلم ڈھانے والے غاصب صیہونی ہیں۔

اور اُس ناجائز ملک کی بنیاد ہی مسلمانوں کی دشمنی پر رکھی گئی ہے ۔ ان سے خیر کی توقع بے معنی ہے اور یہاں پر نام نہاد کلمہ گو مسلمان حکومتی سرپرستی میں اپنے مسلم بھائیوں کی جان مال اور ناموس کے درپے ہیں ۔

کیا یہ واقعا مسلمان ہیں؟؟

کیا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمان کی تعریف یوں نہیں فرمائی: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں:

پھر کیا پاراچنار والوں نے ملک عزیز کی سالمیت کے خلاف کوئی اقدام کیا ہے؟؟

معلوم ہوا کہ یہ لوگ نہ فقط ملک عزیز کے لئے کوئی مشکل ایجاد نہیں کرتے ہیں بلکہ بارڈر میں ہونے کی وجہ سے ملکی سالمیت کے لئے پاک فوج کے لئے ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں ۔

پھر اہل پاراچنار کا جرم کیا ہے؟؟

کہا جاتا ہے کہ یہ زینبیون ہیں ۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے  دا عش جیسے خونخوار تکفیری دہشت گرد گروہ  کے ساتھ مبارزہ کیا ۔ اور  اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے  مقامات مقدسہ بالخصوص ثانی زہرا زینب کبری سلام اللہ علیہا کے روضہ اطہر کی حفاظت کی ہے۔

نہیں، یہ نہ فقط دشمنی کی وجہ نہیں ہو سکتی ہے بلکہ اس کارنامے سے تو ان کی عزت افزائی ہونی چاہئے ۔کیونکہ ایک تکفیری اقلیت کے سوا،  دنیا بھر کے مسلمان پیغمبر اکرم اور آپ کے اہل بیت علیہم السلام کی محبت کو ایمان کا جز سمجھتے ہیں اور ان سے منسوب ہر چیز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔یہاں تک کہ  سعودی عرب کا بادشاہ بھی ” خادم حرمین شریفین ” ہونے پر فخر کرتا ہے ۔

پھر وہ کونسی لابی ہے جو پاڑہ چنار میں مومنین کے خلاف برسرپیکار ہے؟؟

عالمی حالات سے تھوڑی سی بھی اطلاع رکھنے والے آسانی سے اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ غزہ کی جنگ اور پاراچنار کی جنگ کے درمیان گہرا تعلق ہے ۔

لہذا اس کو عالمی حالات سے الگ کرکے تجزیہ کرنا، راہ گم کرنے کے مترادف ہے ۔

پاراچنار کے غیور مومنین اسرائیل اور عالمی استکبار سے دشمنی کی سزا بھگت رہے ہیں ۔

اور وہ زیادہ مظلوم واقع ہوئے ہیں کیونکہ عام لوگ اس جنگ کو فرقہ واریت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لہذا اب تک کوئی بھی مضبوط آواز ان  کے حق میں بلند نہیں ہوئی ہے ۔

یہاں تک کہ شیعیان پاکستان اور ان کے قائدین کی طرف سے بھی ابھی تک کوئی  خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آ رہے ہیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاراچنار کی جنگ کو اس عالمی جنگ کے تناظر میں دیکھا جائے جس کی اصلی وجہ اللہ تعالی پر غیر متزلزل ایمان ، اور اس ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے، جس کا بنیادی رکن طاغوت کا انکار ہے۔

وَمَا نَقَمُوا۟ مِنْهُمْ إِلَّآ أَن يُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ

اور انہوں نے ان سے صرف اس بات کا بدلہ لیا ہے کہ وہ خدائے عزیز و حمید پر ایمان لائے تھے

85-Al-Burooj : 8

ملک کے مقتدر ادراے جلد از جلد اس جنگ کو روکنے  کے ساتھ  آزادانہ تحقیق کرائیں،  کہ کیا واقعا اس جنگ میں حکومتی افراد ملوث رہے ہیں؟ کیا کچھ لوگ ملک کے اندر طالبان کے لئے سہولت کاری کر رہے ہیں؟

پھر کیسے یہ لوگ سرحد پار کر رہے ہیں؟

اگر طالبان کی شمولیت ثابت ہو جائے تو اس بات کو بھی تقویت مل جائے گی کہ یہ افغانستان میں امریکہ کا گماشتہ ایک گروہ ہے، جو امریکہ کے مفادات کا ہی تحفظ کرتا ہے ۔

اگر ایسا ہے تو یہ لوگ کسی بھی وقت ملک عزیز کی سالمیت کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں لہذا سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ  ایسی کالی بھیڑوں کو اپنی صفوں سے جدا کرکے ان کو قرار واقعی سزا دیں، جو بیرونی قوتوں کے سہولت کار ہیں ۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

eighteen − 18 =