مئی 21, 2024

کوئی منزل تو ملے!

تحریر: عاصمہ شیرازی

سچ ڈھونڈا نہیں جاتا بلکہ سچ کا ادراک کیا جاتا ہے۔ کیا وطن عزیز میں سچ ڈھونڈنے کے لیے واقعتاً کسی کمیشن کی ضرورت ہے؟ پاکستان میں کب کمیشن سچ ڈھونڈ پائے؟

ایبٹ آباد کمیشن آج تک یہ کھوج نہ لگا پایا کہ اُسامہ بن لادن دھوکا دے رہا تھا یا امریکہ؟ حساس ادارہ فریب دے رہا تھا یا حساس ادارے کا سربراہ؟ امریکہ نے پاکستان کو بتایا کہ اُسامہ ہمارے ہاں رہائش پذیر ہیں یا ہم نے اُسامہ کا پتہ بتایا؟

سلیم شہزاد جیسے نامی گرامی صحافی کے قتل کے بعد تشکیل پایا جانے والا کمیشن اپنی رپورٹ منظرِ عام پر کیوں نہ لا پایا؟ کمیشن بھی چُپ اور کردار بھی خاموش۔ لاپتہ افراد کمیشن گمشدہ افراد کا پتہ کیا لگاتا خود چیئرمین ہی لاپتہ ہو گئے۔

بہرحال پاکستان کے موجودہ بحرانوں کا ایک حل سچائی کمیشن بھی سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستان کی دو سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے قائدین نے 2006 میں میثاقِ جمہوریت میں سچائی اور مفاہمت کمیشن کے قیام کو بھی معاہدے کا حصہ بنایا اور طے پایا کہ مسند اقتدار میں آنے کے بعد ماضی میں پاکستان کی جمہوریت کو لاحق خطرات، ایجنسیوں اور فوج کی بار بار مداخلت کے اسباب اور کردار ڈھونڈے جائیں گے مگر دونوں جماعتیں اقتدار میں آتے ہی نہ صرف سچ ڈھونڈنا بھول گئیں بلکہ سچ بتانا بھی فراموش کر بیٹھیں۔

دو جماعتوں کے معاہدے نے اسٹیبلشمنٹ کو تیسری راہ دکھائی اور تحریک انصاف بظاہر کنگز پارٹی مگر مقبول رہنما کے ساتھ قبولیت کی سند پا گئی۔ اس تفصیل میں جائے بغیر کہ 2014 کے دھرنے میں تحریک انصاف کس کا اور کیوں کندھا بنی، یہ جاننا ضروری ہے کہ اُس کے بعد اسٹیبلشمنٹ سیاسی ادوار میں مسلسل متحرک رہی یہاں تک کہ فیض آباد دھرنے تک کی نوبت آ پہنچی۔

تاریخی طاقتور اسٹیبلشمنٹ اور عدالتی گٹھ جوڑ نے ملک میں وہ فضا بنائی کہ ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوا نتیجتاً ایک صفحے کی حکومت نے ہائبرڈ دور کی بنیاد رکھی اور عسکری، عدالتی اور سیاسی کرداروں نے مملکت کو نئے تجربے سے دوچار کیا۔ بہرحال سیاسی جماعتیں یہ معاملہ اب فقط اللہ پر چھوڑ چکی ہیں۔

اچھا ہوتا اگر اس سلسلے میں سیاسی جماعتیں ایک جگہ اکٹھی ہوتیں مگر سچ تو یہ بھی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے کندھے تلاشنے والی سیاسی جماعتیں یہ سچ کیسے تسلیم کریں گی کہ آمریتوں کا ساتھ کس کس نے کب کب دیا اور کہاں کہاں جمہوری نظام میں نقب لگائی۔ یہ کام اب البتہ سپریم کورٹ کر سکتی ہے۔

جنوبی افریقہ کا سچائی کمیشن اس کی ایک مثال بھی ہے اور راستہ بھی۔ نسل پرستی اور فرقہ واریت کے جرائم پر قائم کردہ کمیشن نے 1960 سے لے کر 1994 تک کے دورانیے میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے نسلی جرائم، سزاؤں اور معافی کا جائزہ لیا۔

احتساب کے اس عمل میں 17 کمیشن بنائے گئے مگر اس سے قبل عوامی سطح پر انسانی حقوق کی پچاس تنظیموں کے تعاون نے عوامی مکالمے کا آغاز کیا۔ ایک سال تک یہ مشاورتی عمل جاری رہا جس کے نتیجے میں 1995 کا ایکٹ 34 عمل میں لایا گیا اور سچائی کمیشن کی داغ بیل ڈالی گئی۔ اس دوران 22 ہزار شکایات موصول ہوئیں جس پر سزا اور جزا کا تعین کیا گیا۔

 

فیض آباد دھرنا کیس ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر کیوں نہیں لیا جا سکتا؟ کیوں نہ پتہ لگایا جائے کہ سیاست میں مداخلت اور تشدد کا راستہ کس طرح اختیار کیا گیا اور کیوں نہ یہ سچ سامنے لایا جائے کہ چند افراد کے ذاتی مفادات نے مملکت کو کس حد تک نقصان پہنچایا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے یہ جملے کہ ’جزا سزا بعد میں ہو گی، کم ازکم اعتراف جرم تو کر لیں‘ ایک نئی منزل کی جانب پیش قدمی ہو سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ سزا دی جائے مگر یہ ضروری ہے کہ گناہ کی نشاندہی کی جائے۔

ضروری نہیں کہ گناہ گار کو سنگسار کیا جائے مگر یہ ضروری ہے کہ گُناہ شمار کیے جائیں۔ ضروری نہیں کہ قصوروار کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے مگر یہ ضروری ہے کہ سوال کیے جائیں۔

جمہوریت کے ساتھ کیا واردات ہوئی؟ نظام کار کو کس طرح پراگندہ کیا گیا؟ معیشت کس کے تجربوں کی بھینٹ چڑھی؟ سماج کیوں تقسیم ہوا؟ ان سب سوالوں کے جواب سچ بولنے میں، سچ کہنے میں اور سچ کا ادراک کرنے میں ہیں۔

سیاسی رہنماؤں سے نہیں مگر سپریم کورٹ اس کیس کے تناظر میں کم از کم راہ کا تعین کر سکتی ہے تاکہ کوئی منزل تو ملے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

16 + seventeen =