مئی 20, 2024

پاک ایران تعلقات

تحریر: زمرد نقوی

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبدالہیان نے گزشتہ ہفتے پاکستان پہنچنے پر کہا کہ ہم دشمنوں کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ خطے میں دوستی امن سیکیورٹی کو ہدف بنائیں۔ اچھی ہمسائیگی کے ذریعے ہی سلامتی کا حصول ممکن ہے۔ تہران ایرپورٹ پر ایران میں پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو اور ایرانی حکام نے ایرانی وزیر خارجہ کو اسلام آباد کے لیے الوداع کہا۔ دوسری طرف اعلیٰ پاکستانی ذرایع کے مطابق ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ جو 2014 سے تعطل کا شکار ہے۔ امریکی پابندیوں کے حوالے سے پاکستان کو تکنیکی اور قانونی مہارت فراہم کرنے والی ایرانی ٹیم جس نے جنوری کے آخر میں پاکستان آنا تھا اب پاک ایران تعلقات میں وقتی خرابی کے باعث فروری کے دوسرے ہفتے میں پاکستان آئے گی۔

اس معاملے پر پاکستان اور ایران کی اعلیٰ سطح کی قیادت مسلسل رابطے میں ہے پاکستان اسپیشل انوسمنٹ کونسل کو بھی اس حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کو پائپ لائن بچھانے کے معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا بصورت دیگر اسے 18ارب ڈالر جرمانے کا سامنا ہوگا۔

بہر حال یہ بات انتہائی خوش آیند ہے کہ جو خوفناک بحران پاک ایران تعلقات میں پیدا ہوا تھا وہ دونوں ملکوں کی قیادت نے انتہائی دانش مندی سے کام لیتے ہوئے چند دنوں میں ہی اس کا خاتمہ کر دیا اور یوں اس طرح پاک ایران دوستی کو دشمنی میں بدلنے والی قوتیں شکست فاش کھا گئیں۔

ان قوتوں سے اب تو اظہار ہمدردی ہی کیا جا سکتا ہے بہت مدت سے ان قوتوں کی آرزو یہ ہے کہ پاکستان ایران دشمن ملک بن جائیں۔ پہلے ان کی خواہشات امریکہ اور اسرائیل سے یہ تھیں کہ امریکہ نہیں تو کم از کم اسرائیل ہی ایران پر ایٹم بم گرا کر اسے نیست نابود کر دے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ایک مدت ہو گئی یہ آرزو ہی پوری ہونے میں نہیں آرہی۔

یہ طاقتیں صرف اندرونی ہی نہیں بیرونی بھی ہیں، بیرونی اسرائیل اور امریکہ ہیں ۔ ان قوتوں کو سب سے بڑی شکست تب ہوئی جب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کی دوراندیش قیادت نے امریکی اسرائیلی دباؤ سے نکلتے ہوئے نہ صرف سفارتی تعلقات بحال کیے بلکہ سعودی ایران دوستی کا طویل معاہدہ بھی طے پا گیا۔

یہ تو اسرائیل امریکہ اور اس کے حواریوں کی خطے میں بہت بڑی شکست تھی۔ گزشتہ سال ہی دوسری بڑی شکست امریکہ اسرائیل کو اس وقت ہوئی جب حماس نے اسرائیل پر اچانک حملہ کر دیا۔ حماس کے عسکری ونگ نے اس حملے کا اپنی سیاسی قیادت کو بھی پتہ نہیں چلنے دیا۔ ایران کے علم میں ہونا تو دور کی بات ہے۔

اس بات کی تصدیق امریکی انٹیلی جنس نے بھی کی کہ اس حملے کا ایرانی قیادت کو بھی نہیں پتہ تھا۔ ایران کا حماس کو میزائل بنانے کی ٹیکنالوجی اور عسکری امداد ایران کا ناقابل معافی جرم ہے۔ وہ میزائل جو اسرائیل 50ہزار ڈالر میں بناتا ہے حماس ایران کی ٹیکنالوجیکل مدد سے اب 5ہزار ڈالر میں بنا رہا ہے۔ جب پاک ایران تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تو امریکہ نے ایران پر الزام لگایا کہ یہ خطے میں دہشت گردوں کی مدد کرتا ہے۔

کون دہشت گرد ۔آپ کا کیا خیال ہے؟یہ دہشت گرد حماس اور فلسطینی مسلمان ہیں۔ اگر ایران گزشتہ 45برسوں سے فلسطینی مسلمانوں کی مدد نہ کر رہا ہوتا تو اسرائیل اور امریکہ پوری کی پوری فلسطینی آبادی کو فلسطین بدر کر کے صحراؤں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتے۔ وہ دہشت گرد گروہ جو پاکستانی بلوچستان اور ایرانی بلوچستان کے انتہائی طویل دشوار گزار پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل نے ان کی عسکری تربیت اور ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے کثیر سرمایہ صرف کیا ہے۔ ان کے اشاروں پر یہ دہشت گرد گروہ کبھی پاکستانی بلوچستان پر حملہ کر کہ ایرانی بلوچستان میں چھپ جاتے ہیں تو کبھی ایران پر حملہ کر کے پاکستانی بلوچستان کے انتہائی دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں غائب ہوجاتے ہیں۔

طویل عرصے سے یہی کھیل ہو رہا ہے۔ پاکستان اور ایران طویل مشترکہ سرحد کے حامل ہیں۔ دونوں اطراف میں دہشت گردوں نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں جو پاکستان اور ایران کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ لیکن اب اس کا علاج دونوں ملکوں کی قیادت نے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ آپریشن میں ڈھونڈ لیا ہے ۔

اگر حالیہ پاک ایران کشیدگی جنگ میں بدل جاتی تو اسرائیل اور امریکہ کا سر کڑاھی میں اور انگلیاں گھی میں ہوتیں۔ ایران کی ساری توجہ حماس سے ہٹ جاتی۔ پاکستان بھی یہ نہیں چاہتا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان فوری کشیدگی کے خاتمے کی وجہ یہ بنی۔ اس بات کا شدید خطرہ ہے کہ اسرائیل حماس جنگ پاکستان سمیت اس خطے کے دوسرے ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔

ہماری بے بسی دیکھیں 9سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے کہ امریکی دباؤ پر ہم ایرانی گیس حاصل نہیں کر پائے۔ سستی گیس پٹرول ہماری جاں بلب معیشت کے لیے آب حیات ہے۔ اس سے ہزاروں فیکٹریاں چل پڑیں گی۔ لاکھوں لوگوں کو روزگار حاصل ہوگا۔

 

بشکریہ ایکسپریس نیوز

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

4 × two =