اپریل 24, 2024

پاراچنار ایک مرتبہ پھر آگ و خون کی لپیٹ میں

رپورٹ: سید عدیل زیدی

پاراچنار کا امن ایک بار پھر تہہ و بالا کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، گذشتہ اتوار سے اب تک پاراچنار میں رونماء ہونے والے چھوٹے بڑے واقعات کیوجہ سے حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔ دو روز قبل طالبان نواز و تکفیری نشین علاقہ بوشہرہ کے قریب ڈنڈر میں امام بارگاہ کی تعمیر پر دشمن اہلبیتؑ شدت پسندوں نے اہل تشیع آبادی پر بڑے ہتھیاروں سے حملہ کر دیا، اس حملہ میں ایک 18 سالہ نوجوان شہید جبکہ کچھ دیگر زخمی ہوئے۔ واضح رہے کہ گاوں ڈنڈر کی امام بارگاہ کی چھت کی تعمیر کیلئے شیٹرنگ کی گئی تھی، بوشہرہ کے طالبان نواز باشندوں کو اعتراض تھا کہ یہ امام بارگاہ نہیں بلکہ مورچہ ہے، اسی موقف کو جواز بنا کر وہ اہل تشیع آبادی پر حملہ آور ہوگئے۔ اس حملہ کے بعد طرفین مورچہ زن ہوئے اور لڑائی شروع ہوگئی، تکفیریوں کے اس حملہ کے بعد صدہ، خارکلے اور بالشخیل میں بھی جھڑپیں شروع ہوگئیں اور کرم بھر میں حالات کشیدہ ہوگئے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ضلع کرم میں جاری جھڑپوں میں مزید چار افراد جان بحق اور سات افراد زخمی ہوگئے ہیں، جس کے بعد اب تک جھڑپوں میں بارہ افراد جاں بحق اور بیس زخمی ہوچکے ہیں۔ ضلع بھر میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوچکے ہیں، تمام آمدورفت کے راستے، تعلیمی ادارے اور تمام موبائل و انٹرنیٹ سروس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع کا بتانا ہے کہ چند روز قبل ایک سرکاری ٹاوٹ کی جانب سے ایک توہین آمیز وائس مسیج بھیجا گیا، جس کی اہل تشیع مشران نے کھل کر مذمت اور اس شخص سے مکمل برات کا اعلان کیا اور حکومت سے اسے گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا، حتیٰ کہ پولیس نے اس کے بھائی کو گرفتار بھی کرلیا، لیکن اصل ذمہ دار شخص کو بچا لیا گیا۔ صدہ میں موجود زینو منگل اور سیف اللہ نامی شرپسندوں نے لوگوں کو اشتعال دلایا اور سیف اللہ نے اعلان کیا کہ شیعہ واجب القتل ہیں، اس لئے اسرائیل جانے کی ضرورت نہیں، شیعوں کیخلاف جہاد کیا جائے۔

ڈنڈر واقعہ سے قبل تکفیریوں نے اہل تشیع مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر یرغمال بنایا، بدلے میں شیعہ قبائل نے بھی مخالفین کے کچھ افراد کو اپنے لوگوں کی رہائی کیلئے گاڑیوں سے اتار کر اپنے پاس رکھا، جس کے بعد دونوں جانب سے پکڑے گئے لوگوں کا تبادلہ ہوا۔ گذشتہ دو روز سے کئی مقامات سے اہل تشیع کیلئے راستے بعد کرکے تمام گاڑیوں کو واپس کر کر دیا گیا اور انہیں دھمکی دی گئی کہ ’’اب یہاں سے نہ گزرنا، وگرنہ تمہیں گاڑی سمیت جلا دیا جائے گا۔‘‘ اس وقت پاراچنار آنے جانے والی مسافر گاڑیوں کے علاوہ بڑی گاڑیوں کی آمد و رفت مکمل طور پر بند ہے، جس سے پاراچنار میں غذائی اشیاء کی قلت کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔ تکفیری عناصر کی اس دھمکی کے بعد پشاور اور اسلام آباد سے آنے والے اہل تشیع مسافروں کو کانوائے کی صورت میں پاراچنار پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا۔ گذشتہ روز جب کانوائے مسافروں کو لیکر آرہا تھا تو سرکاری سکیورٹی کی موجودگی میں تکفیری دہشتگردوں نے بھگن چار خیل کے مقام پر کانوائے پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 2 افراد شہید اور 6 سے زائد زخمی ہوگئے۔

ڈنڈر لڑائی شروع ہونے سے دو روز قبل شاپو خواڑ شلوزان تنگی میں دہشتگردوں نے ایک ٹریکٹر پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں ایک شیعہ نوجوان شہید اور دوسرا زخمی ہوا تھا۔ علاوہ ازیں تین روز قبل قطر سے واپسی پر اپنے گھر پاراچنار جانے والے مسافروں کی گاڑی پر پشاور میں فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجہ میں عارف حسین نامی شخص شہد ہوا اور دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس تمام تر صورتحال پر سرکاری سرپرستی میں پاراچنار میں ایک جرگہ ہوا، جرگہ میں شریک ایک رہنماء نے  کو بتایا کہ جرگے میں کمانڈنٹ ایف سی منگل قوم (تکفیری قبائل) کے ترجمان ثابت ہوئے، ہماری قوم کا موقف ہے کہ مین روڈ کی حفاظت اور اسے کھلا رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے جبکہ کمانڈنٹ ایف سی مکمل طور پر جانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شام کو جرگہ اٹھ گیا، تاہم ہمارا مطالبہ تھا کہ روڈ کھولا جائے اور لڑائی رکوائی جائے، اس وقت تک حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور حالات کو ٹھیک کرنے کیلئے کوئی خاص اقدام نہیں ہو رہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

five × four =