جولائی 17, 2024

نیشنل اپیکس کمیٹی اور انتہا پسندی کا سونامی

تحریر: قادر خان یوسفزئی

پاکستان جنوبی ایشیا میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ میں امریکہ کے بڑے اتحادیوں میں سے ایک اہم ملک ہے لیکن افغانستان سے امریکہ ، نیٹو افواج کی واپسی اور افغان طالبان کی عبوری حکومت آنے کے بعد سے مملکت کو بدترین دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سامنا ہے۔ اگر تین ادوار کا تجزیہ کیا جائے تو اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگجوئوں کی حمایت کے نتیجے میں فرقہ واریت کی لہر خطے میں پھیلی اور اس کے اثرات سے پاکستان شدید متاثر ہوا۔ 27دسمبر1979میں سوویت یونین کے افغانستان پر قبضے کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین کا ریلا پاکستان اور ایران میں داخل ہوا۔ امریکہ نے افغانستان میں بیک وقت دو محاذوں پر عسکریت پسندوں کو استعمال کیا۔سوویت یونین کی افغانستان میں موجودگی کے وقت ایران میں یکم فروری 1979 کو امریکہ مخالف خمینی انقلاب رونما ہو چکا تھا اور اگلے برس افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ جنگجو دنیا بھر سے آنا شروع ہوئے۔ ایران اور افغانستان میں دو مذہبی حکومتوں کا قیام عمل آیا۔ امریکہ، ایران کے خلاف عسکری جنگ کے بجائے افغانستان میں داخل ہوا اور دو دہائیوں کے باوجود وہاں قدم نہیں جما سکا۔ جس کا نتیجہ بالآخر غیر ملکی افواج کی واپسی کی صورت میں نکلا، اگر اسے دوسرے زوایئے سے دیکھاجائے تو امریکہ کا ایران کو کنٹرول کرنے کا مشن بھی ناکام ہوا۔
خطے میں عالمی قوتوں کے مفادات نے پاکستان کو شدید متاثر کیا کیونکہ امریکہ کا اتحادی ہونے کی صور ت میں عسکریت پسندوں نے شمال مغربی سرحدی علاقوں میں اپنے قدم جمانے شروع کئے تو ریاست کے خلاف بدترین دہشت گرد کارروائیوں کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔ ریاست کی جانب سے جب بھی انتہا پسندوں کے ساتھ مذاکرات ہوئے،انہیں مہلت کے وقفے میں خود کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا اور بڑھتے مطالبات نہ ماننے پر شدت کے ساتھ کارروائیاں کی گئیں جس سے قیمتی جانوں کا نقصان ہوا جب کہ127ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوچکا ہے، اکتوبر2010میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بیان دیا کہ جب دہشت گردوں سے لڑنے کی بات آتی ہے تو امریکہ کے پاس پاکستان سے زیادہ قابل اعتماد شراکت دار کوئی نہیں، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مدو جزر کا شکار رہے۔ اب جبکہ امریکہ کے خلاف جنگ، پاکستان کی بن گئی ہے تو اب مملکت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ ماضی کی با نسبت گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کررہا۔ افغان طالبان، افغانستان میں انٹرنیشنل سیکورٹی اسسٹنس فورس کے لیے مقرر کردہ سامان کے ٹرانزٹ روٹس کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کئے جانے پر خوش نہ تھے، افغانستان میں طویل جنگ ہونے کا سبب بھی پاکستان کو جنگی ساز و سامان کی رسد کا سہولت کار قرار دیا جاتا رہا، اس لیے افغان طالبان نے پاکستانی عسکریت پسندوں کو اپنی کارروائیوں میں جگہ دی اور عبوری حکومت کے قائم ہونے کے بعد سے اب تک پاکستانی جنگجوؤں کے خلاف عملی کاروائی سے گریز کیا۔ انہوں نے اپنے طریق کار کے مطابق جیلوں میں قید، جنگجوؤں کو رہائی دلانے کے لیے ریاست اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی، ریاست نے عسکریت پسندوں کو معافیاں بھی دیں لیکن اس کے باوجود ان کے مطالبات بڑھتے چلے گئے۔ جس کا نتیجہ بالآخر خفیہ معاہدے کے اعلانیہ خاتمے کے اعلان کی صورت میں نکلا، توقع کے برخلاف افغان طالبان کی عبوری حکومت کے قیام کے بعد پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں کمی ہو نے کے بجائے شدت ہی دیکھنے میں آئی کیونکہ افغان سر زمین انتہا پسندوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ ثابت ہورہی ہے۔
پاکستان نے افغانستان میں امن کے قیام کے لیے اپنی داخلہ و خارجہ پالیسی تبدیل کی لیکن اس کے نتائج حوصلہ افزا نہیں نکلے بلکہ نقصانات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ضیا الحق کا دور اس حوالے سے انتہائی متنازع قرار دیا جاتا ہے کہ عسکریت پسند جنہیں مجاہدین کہا جاتا تھا، ان کا سرحد سے متصل علاقوں میں اثر رسوخ اتنا بڑھ گیا تھا کہ پشاور جیسے شہر میں مسلح جھتے آزاد گھومتے نظر آتے، کلاشنکوف کلچر کے ساتھ، منشیات کی صورت میں زہر قاتل، ہیروئن نے پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا شروع کردیا، جہاں فرقہ وارنہ انتہا پسندی میں اضافہ ہوا تو لسانی بنیادوں پر ملک کے بڑے شہر بھی کچھ اس طرح متاثر ہوئے جس کے مضر اثرات سے ابھی تک نجات نہیں ملی۔ پرویز مشرف کے دور میں بھی امریکی اتحادی ہونے کی پاداش نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ سکیورٹی کے شعبے سمیت ملک کی صورت حال میں بہتری کی امید فروری 2008 میں اس وقت پیدا ہوئی جب 9 برس کی فوجی حکمرانی میں پہلے جمہوری انتخابات کے نتائج کے بعد یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ایک نئی حکومت برسر اقتدار آئی۔ مارچ 2008میں قبائلی عمائدین نے نئی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا، جو اگلے موسم بہار تک جاری رہا، فروری 2009 میں وادی سوات میں شرعی قانون متعارف کرانے کا غیر معمولی فیصلہ صوبہ پختونخوا کی اے این پی کی حکومت کے ساتھ مل کر کیا ، لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا، ریاست کی جانب سے معاہدے کئے جانے کو کمزوری سمجھا گیا اور علیحدگی پسند جذبات کو تقویت ملی اور اس دوران کالعدم انتہا پسندوں کی تنظیموں کے اثر رسوخ میں اضافہ ہوا۔
طالبانائز یشن کی یہ لہر ملک کے دیگر حصوں میں پھیلنا شروع ہوئی، دہشت گردی اور تشدد کی اس لہر کو کچھ وقت کے لیے کمزور کرنے میں کچھ کامیابی ضرور ہوئی تاہم افغان طالبان کی عبوری حکومت آنے کے بعد تشدد میں اضافے کو کم کرنے کے لیے آپریشن یا مفاہمت کی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے لیکن یہ حتمی ہے کہ انتہا پسندوں سے مذاکرات اور فائر بندی نے ریاست کو ہمیشہ نقصان ہی پہنچایا ہے۔ فائر بندی اسی صورت میں فائدہ مند ہوسکتی ہے جب فریقین ایک دوسرے سے مخلص ہوں اور درمیانہ راستہ اختیار کرنا چاہتے ہوں، انتہا پسندوں کے مطالبات کو ریاست کسی صورت تسلیم نہیں کرسکتی، اس کا واضح مطلب ملک کے اہم حصے کو انتہا پسندوں کی متوازی حکومت ، تسلیم کرکے ایسی پناہ گاہ فراہم کرنا ہوگا جو پوری دنیا میں جنگجوؤں کی کھیپ تیار کریں اور خودکش بمبار سمیت دہشت گرد پیدا کرنے کے کارخانے بن جائیں، انتہا پسندوں کی شرائط میں قیدیوں کی رہائی، قبائلی علاقوں سے حکومتی دست برداری سمیت ڈیورنڈ لائن کے خاتمے جیسے مطالبات کا تسلیم کئے جانا پاکستان کے وجود کو ختم کرنے مترادف ہے۔ بھاری رقوم کی ادائیگیوں کا مطلب حکومت کی جانب سے بھتہ دیا جانا تصور ہوگا اور ہوس زر کی چنگاری کبھی نہیں بجھے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اپنی رٹ قائم کرے، سیکورٹی فورسز کو اپنی توجہ صوبہ پختونخوا پر ہی نہیں بلکہ تمام سرحدی و شہری علاقوں پر رکھنا اور دفاعی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

eighteen + eleven =