جون 13, 2024

محرم اور افغان طالبان

ترتیب و تنظیم: علی واحدی

افغانستان میں امام حسین (ع) کی عزاداری کے پروگراموں کے انعقاد کے حوالے سے متضاد خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ اس سلسلے میں گذشتہ جمعہ کو افغانستان کے شیعہ علماء کی کونسل نے ایک بیان جاری کیا، جس میں طالبان سے کہا گیا کہ وہ مذہبی جھنڈوں کی تنصیب اور ماہ محرم سے متعلق تقریبات کے انعقاد سے نہ  روکیں۔ افغانستان کی شیعہ علماء کونسل نے اس بیان کا اعلان “غیر معمولی” اجلاس کے دوران کیا۔ یہ اجلاس کابل میں درجنوں مذہبی اسکالرز کی موجودگی میں منعقد ہوا اور افغان شیعہ رہنماؤں نے طالبان سے محرم کے پروگراموں کے حوالے سے تمام پابندیاں منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس اجلاس میں، جو 22 جولائی بروز ہفتہ افغان شیعہ علماء کونسل کے سربراہ، امامیہ علماء کی سپریم کونسل کے سربراہ اور کابل شہر کے تمام علاقوں کی مساجد اور دینی مراکز کے ذمہ داروں کی موجودگی میں منعقد ہوا، طالبان سے کہا گیا کہ وہ پابندیاں ہٹاتے ہوئے محرم کے ان مذہبی پروگراموں میں شرکت کریں۔

نیز اس اجلاس میں متعدد مذہبی علماء نے حسینی عزاداروں کے ساتھ طالبان کی سکیورٹی فورسز کے پرتشدد سلوک اور کابل کے بعض علاقوں سے امام حسین (ع) سے متعلق جھنڈوں اور پرچموں کو گرائے جانے پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔ اس اجلاس کے بیان میں اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ: “عزاداروں کی خواہشات کے مطابق، تمام شیعہ علمائے کرام امارت اسلامیہ سے کہتے ہیں کہ وہ محرم کی ماتمی تقریبات پر عائد پابندیاں ہٹائیں اور امام حسین (ع) کے نام پر سوگ کی علامت کے طور پر لہرائے جانے والے ماتمی جھنڈوں کو نصب کرنے سے نہ روکیں۔” اس میٹنگ میں وہ طومار بھی دکھائی گئیں، جن پر گذشتہ دنوں کابل اور دیگر شہروں کی مختلف مساجد میں عائد پابندیوں کے خاتمے کے لیے دستخط کیے گئے تھے۔ ان درخواستوں میں ملک بھر کے شہریوں اور ماہ محرم کے عزاداروں نے طالبان کے سکیورٹی حکام سے کہا کہ وہ سکیورٹی فراہم کریں اور محرم و عاشورہ کی مجالس پر پابندیاں ختم کریں۔

افغان شیعہ علماء کونسل کے سربراہ آیت اللہ صالحی مدرس نے اس ملاقات میں کہا کہ کابل اور افغانستان کے دیگر شہروں میں محرم اور عاشورہ کے حوالے سے حالیہ پابندیوں کی وجہ سے انہوں نے اس اجلاس میں اس قرارداد کو طالبان حکام تک پہنچانے پر اتفاق کیا، تاکہ طالبان اس پر عمل درآمد کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خواہش ہے کہ محرم کی تقریب پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور پرچموں کی تنصیب کو نہ روکا جائے۔ دوسری جانب افغانستان کی شیعہ علماء کونسل کے نائب سید حسین عالمی بلخی نے گذشتہ سال محرم کے مہینے میں سکیورٹی فراہم کرنے پر طالبان کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ عوام موجودہ حکمرانوں سے سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کی توقع رکھتے ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ موجودہ حکام محرم کے عزاداروں میں شامل ہوں گے اور تعزیتی پروگراموں میں شرکت کریں گے۔

دوسری جانب طالبان گروہ کا دعویٰ ہے کہ محرم کی تقریب کی سکیورٹی اہل تشیع کے لیے فراہم کی جا رہی ہے۔ اتوار کو خبری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ کابل کے گورنر نے دارالحکومت کے سکیورٹی حکام کے ساتھ مل کر کابل شہر میں متعدد امام  بارگاہوں اور مجالس کے مقامات کا دورہ کیا اور محرم کے دنوں میں فول پروف 100 فیصد سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی۔ صوبہ کابل کے عہدیدار کے اعلان میں مزید کہا گیا ہے کہ: “محرم کے ایام کی حفاظت سو فیصد یقینی ہے اور اسی وجہ سے گذشتہ چند دنوں میں کوئی ناگوار سکیورٹی واقعہ پیش نہیں آیا اور نہ آئندہ ایسا ہوگا۔” یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیعہ مساجد اور امام بارگاہوں کے دورے کا مقصد حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینا، تجاویز حاصل کرنا اور اہل تشیع کے مسائل کو حل کرنا تھا۔

قبل ازیں طالبان کے نائب وزیراعظم مولوی عبدالسلام حنفی نے کابل کے گورنر سے ملاقات میں محرم کے دنوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے پر تاکید کی۔ اس ملاقات میں عبدالسلام حنفی نے اس صوبے کے عوام کی خدمت کے لیے کابل کے گورنر کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے، کابل کی موجودہ سکیورٹی کو بے مثال قرار دیا اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو سراہا۔ حنفی نے اس ملاقات میں کہا: سکیورٹی فورسز کو مساجد اور امام بارگاہوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں۔ کابل کے گورنر شیخ محمد قاسم خالد نے بھی کہا: سکیورٹی فورسز چوبیس گھنٹے کی کوششوں سے دارالحکومت کے شہریوں کی سلامتی اور امن قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں اور کابل کے شہر مین مکمل سکیورٹی فراہم ہے۔

گذشتہ ہفتے افغانستان میں محرم کے حوالے سے طالبان کے قائم مقام وزیراعظم مولوی عبدالکبیر نے طالبان حکومت کے ساتھ شیعوں کے “قریبی تعاون” پر زور دیا۔ طالبان وزراء کے دفتر نے قائم مقام وزیراعظم کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا اور بتایا کہ عبدالکبیر نے افغانستان کے مختلف صوبوں کے متعدد شیعہ علماء اور بااثر افراد سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ شیعہ افغانستان کا ایک اہم حصہ ہیں اور ان کے حقوق شریعت کی روشنی میں دیئے گئے ہیں۔ اس طالبانی عہدیدار نے اس سلسلے میں کہا: “شیعہ دوسرے افغانوں کی طرح ملک کا ایک اہم حصہ ہیں اور شریعت کی روشنی میں سب کو مساوی اور منصفانہ حقوق دیئے جاتے ہیں۔”

شیعوں پر عائد پابندیوں کی اطلاعات
اس حقیقت کے باوجود کہ طالبان کا دعویٰ ہے کہ اس نے محرم کی رسومات ادا کرنے کے لیے شیعوں پر پابندیاں عائد نہیں کی ہیں، افغانستان کے بعض علاقوں میں شیعوں پر پابندیاں عائد کیے جانے کی متعدد اطلاعات ملی ہیں۔ بعض افغان خبر رساں ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ طالبان حکام نے شیعہ محلوں اور عوامی سڑکوں پر امام حسین علیہ السلام اور ماہ محرم سے متعلق جھنڈے لگانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اسی سلسلے میں کہا گیا ہے کہ ماہ محرم کے آغاز کے ساتھ ہی طالبان حکام نے افغانستان کے شیعوں کو حکم دیا کہ وہ مذہبی پرچم لہرانے، گلیوں اور شہروں میں ماتم کرنے اور گھروں اور دکانوں کے دروازوں پر پرچم  لگانے سے گریز کریں۔

شفقنا ویب سائیٹ نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ پچھلے دو سالوں کے برعکس اس سال طالبان نے عشرہ محرم کے دوران شیعہ پروگراموں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں اور نصف شیعہ مساجد اور امام گاہوں کو بند کر دیا ہے۔ دوسری جانب اس گروہ نے شیعہ محلوں میں ماتمی جھنڈوں کی تنصیب، پانی کی سبیلوں کے قیام، بڑی ماتمی تقریبات کے انعقاد اور شہروں میں ماتمی انجمنوں کے جلوس نکالنے اور مساجد اور حسینیہ کے باہر ماتم کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ کابل میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل کے مغرب میں شیعہ علاقے میں طالبان نے بعض افراد کو بازاروں میں ماتمی پرچم لگانے پر گرفتار کیا اور مارا پیٹا۔ افغانستان کے وسطی صوبے دائی کنڈی کے مقامی ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طالبان فورسز نے اس صوبے کے متعدد بازاروں سے محرم کے عشرے کے سوگ کے پرچم اتار دیئے ہیں۔ افغانستان کے شمال میں واقع شہر مزار شریف میں طالبان فورسز نے بدھ کے روز متعدد دکانداروں کو ماتمی تقریب منعقد کرنے سے روک دیا تھا۔

دوسری جانب اس طرح کی بھی خبرین ہیں کہ طالبان نے جھنڈے، پیشانی کی پٹیاں اور محرم کے ماتمی لباس فروخت کرنے والے بہت سے لوگوں کو “پل سوخته” اور “گولایی دواخانه” کے علاقے میں اپنے سٹال لگانے کی اجازت دے دی ہے۔ دوسری طرف محرم کے پہلے روز کابل کے شیعہ علاقوں میں طالبان کے فوجی دستوں کی موجودگی بہت زیادہ تھی اور ان علاقوں میں مزید فورسز کو تعینات کیا گیا تھا، تاہم متعدد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ طالبان کی یہ افواج پابندیوں کے نفاذ کے لیے ان علاقوں میں تعینات کی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ سال طالبان گروہ نے عاشورہ حسینی کی سرکاری تعطیل کو افغان کیلنڈر سے نکال دیا تھا اور اس سال انہوں نے اس ملک میں عزاداری پر پابندیاں لگانا شروع کر دی ہیں۔

بشکریہ اسلام تائمز

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

eighteen − 10 =