جون 24, 2024

فیضان نور

تحریر: عمرفاروق

علم پر عمل کرنے کے لئے اور قال سے حال پر آنے کے لئے دو محنتیں بہت ضروری ہیں ۔ایک بیمار دل کو قلب سلیم بنانے کے لئے اور دوسری نفس امارہ کو نفس مطمئنہ بنانے کے لئے۔جب تک یہ محنتیں نہ ہوں اس وقت تک علم کے باوجود آدمی صحیح عمل سے اکثر محروم رہ سکتاہے۔ان محنتوں کو تصوف اور طریقت کے ناموں سے جانا جاتا ہے۔

راہِ طریقت و تصوف کا سفر کسی صاحب نظر کی صحبت اور کسی سلسلہ کے روحانی فیضان کے بغیر طے نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اس روحانی ضرورت کی تکمیل کے لئے بھی بہت سے لوگ از خود روحانی منازل طے کرنے کے لئے مشائخ سے منسلک ہو کر سلسلے قائم کرتے رہے اور یوں مختلف سلاسل وجود میں آتے گئے۔جاننا چاہیے کہ شریعت ایک مکمل نظام حیات ہے ۔اس میں ظاہر کی بھی اصلاح ہے اور باطن کی بھی۔البتہ کسی کی ظاہر یا باطن میں اگراس کی کمی پائی جائے گی تو اس کی اصلاح ضروری ہوگی۔اس میں شرعی مجاہدات کے ذریعے نفس کی اصلاح ہے اور اس میں ذکر کے ذریعے دل کی اصلاح ہے۔

اب اگر شریعت پر ظاہر اور باطن کے مطابق کوئی ٹھیک چل رہا ہے تو اس کو مزید کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں جیسے صحابہ کرام کو ان اضافی مجاہدات کی ضرورت نہیں تھی ۔لیکن دیکھا گیا ہے کہ جب بھی ان کو ضرورت پڑی تو انہوں نے اسی وقت اس کے مطابق مجاہدہ ومراقبہ کرکے اس عمل کو درست کیا۔بعد کے ادوار میں چونکہ کمزوری آئی تو اس کے باقاعدہ طریقے وجود میں آئے گویا طریقت کی بنیاد پڑگئی اور اس کے لئے خانقاہیں بن گئیں جیسے علم کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مدارس وجود میں آئے۔تصوف عملی چیز ہے اور عملی چیز حالات کے مطابق بدلنی پڑتی ہے جو اس کو نہیں جانتا وہ رسمی صوفی ہوتا ہے،عملی نہیں ۔نہ خود پہنچا نہ دوسروں کو پہنچا سکتا ہے۔

حضرت اقدس خادم الامت مفتی سید ابوالحسن نورزمان ہاشمی نے سلسلہ نقشبندیہ شاذلیہ کااحیاء کیااورخصوصااولیاء کرام اورمشائخ کی ترتیب کودوبارہ زندہ کیا اوروجودبخشاہے جسے زمانہ درازسے چھوڑدیاگیاتھا شیخ ابوالحسن نے فیوض النوراورتحفة المشائخ کی صورت میں وظائف (اسباق)سالکین کوعطاء کیے یہ وہ وظائف ہیں کہ جن کانصاب انہیں الہامی طورپرمکمل کروایاگیاہے ۔فیوض النورمیں تمام عام اور خاص اللہ کے متلاشیوں کے لیے روحانی اسباق موجود ہیں خواہ وہ ابتدائی،درمیانی یا آخری سطح پر ہوں۔ یہ کتاب ہر مسلمان کو اللہ کے قرب، بصیرت اور ملاپ کی طرف دعوت دیتی ہے۔

روحانی وظائف پرمشتمل اس کتاب کا کمال یہ ہے کہ صرف ایمان اور سچی عقیدت کے ساتھ پڑھ کر اپنے قارئین کو روحانی طور پر بلند کرتی ہے۔ یہ اس فانی دنیا کی عارضی دولت اور عزت کی خواہشات سے توجہ ہٹا کر آخرت میں اللہ کے قرًٰتنب کے خزانوں اور عزت کی طرف مبذول کر دیتی ہے جوشخص بھی سلسلہ کی ترتیب کے مطابق اس نصاب کومکمل کرے گا اللہ تعالی اسے دنیاوآخرت کی بھلائیاں نصیب کرے گا۔شیخ ابوالحسن سیدنورزمان نقشبندی شاذلی اس کو خزانے اور عزت کی کنجی بھی بتاتے ہیں ۔ یہ بات یقینی ہے کہ جو بھی اس کتاب کو حقیقت کی تلاش کے لیے سچے ارادے سے پڑھے گا، اسے اپنے مقصد کی تکمیل میں ضرور برکت ہوگی اوروہ روحانی منازل حاصل کرکے رہے گا ۔

نوجوان عالم دین مفتی امان اللہ نقشبندی شاذلی نے اب تین جلدوں میں شرح فیوض النورلکھ کراحسان عظیم کیاہے مفتی امان اللہ کاتعلق گھوٹکی سندہ سے ہے،جامعہ بنوریہ عالمیہ کے فاضل ہیں اوراس وقت جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی میں ہی شعبہ تصنیف وتحقیق سے وابستہ ہیں اس کتاب میں انہوں نے فیوض النورمیں موجود تمام اذکارکے اثرات ،ثمرات ان کے مطلب ومعانی اورخصوصاان اذکارکے مجربات کوبڑی جانفشانی اورمحنت سے جمع کیاہے یہ ایک ایسی جامع ومانع کتاب ہے کہ جس میں سالکین اورعوام کومکمل طورپررہنمائی فرمائی گئی ہے کہ سلسلہ نقشبندیہ شاذلیہ صرف عملیات کاسلسلہ نہیں بلکہ تصوف وطریقت کاایک انمول خزانہ ہے جس میں تمام سلاسل کے اسباق بھی کروائے جاتے ہیں اورانہیں اس راہ کی تمام باریکیوں سے بھی آگاہ کیاجاتاہے ۔

جس طر ح شیخ ابوالحسن نورزمان نقشبندی شاذلی اپنے الفاظ کی تائید کے لیے آیات قرآنی، احادیث اور دیگراولیا کرام کے اقوال کو خوبصورتی سے استعمال کرتے ہیں، جو حق کے متلاشیوں کو ان کے اقوال پر بے ساختہ یقین کرنے اور اس پر عمل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔اسی طرح مفتی امان اللہ نے شرح فیوض النورمیں تصوف ،تزکیہ ،روحانی علاج ،عملیات ،علاج بالرقی کے حوالے سے بیش بہامعلومات جمع کی ہیں اورمدلل اندازمیں اپنی بات قارئین کے سامنے رکھی ہے یہ ایک انمول خزانہ ہے جسے ہرسالک کے گھرلازمی ہوناچاہیے، اللہ انہیں جزائے خیرعطاء فرمائے ،امین

شیخ ابوالحسن نورزمان کی ہرمحفل اورمجلس ہی علم ومعرفت کے موتیوں سے مزین ہوتی ہے وہ علوم ومعارف کی گتھیاں نہایت ہی آسان اندازمیں سلجھاتے اورسمجھاتے ہیں نکات واسرارکی مشکل گرہیں چٹکی میں کھول دیتے ہیں شہبات اوراعتراضات احسن اندازمیں زائل کرتے ہیں عبارات کی تحقیق وتطبیق ایسے کرتے ہیں کہ بڑے بڑے علماء بھی عش عش کراٹھتے ہیں جامع اورمانع اندازمیں اپنی بات مخالف کے سامنے رکھتے کاسلیقہ جانتے ہیں غرضیکہ آپ صاحب مراتب ومنازل ،جامع کمال وجمال شخصیت کے مالک ہیں آپ کافیض ہرایک کے لیے یکساں ہے اورہرگزرتے وقت کے ساتھ یہ فیض بڑھتااورپھیلتاجارہاہے ۔

آج کے دور میں ایک طرف ذہنی انتشار ہے تو دوسری طرف نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کا سامان عام ہے ۔اس پر مزید یہ کہ شعبدہ بازوں کی وجہ سے عوام سے اصلی علم اوجھل ہوگیا ہے جس سے جاہل لوگ علما کو جاہل کہنے لگے ہیں ۔ان حالات میں عوام میں صحیح چیز کی طلب کا پیدا کرنا بھی بہت بڑا کام ہے۔اس کے بعد جن میں طلب پیدا ہو ان کی اصلاح کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔

دورحاضرمیں سلسلہ نقشبندیہ شاذلیہ بھی اپنے متعلقین کوکثرت ذکرکرواتاہے تاکہ اس ذکرکی برکت سے تزکیہ نفس اورسلاسل کے فیوضات حاصل ہوں اورگناہ گاروں کوتوبہ کی توفیق نصیب ہوجائے معاملات کی صفائی اوراعمال کرنے کی توفیق ہرلمحہ سنت کے مطابق حاصل ہوجائے اس سلسلے کی کرامت یہ ہے کہ اس سلسلے کامریض جتناکثرت سے ذکرکرتاہے اوروں کے ہاں صحت مندشخص بھی اتناذکرنہیں کرتا۔اس سلسلے میں رہ کراگرکوئی شخص ذکرکرے گا تواللہ تعالی اسے جلدصحت یاب فرماتاہے مجنوں اورپاگل شخص بھی اس سلسلے میں داخل ہوتاہے تواس کوبھی اللہ تعالی کثرت ذکرکی برکت سے صحت عطافرمادیتاہے ۔

یہ شیخ ابوالحسن سیدنورزمان کاہی کمال ہے کہ انہوں نے آج کے دورمیں انہوںنے اپنے متعلقین کو روحانی علاج(عملیات) کی بھی ایک خاص مہارت دی ہے لاکھوں لوگ اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے شیخ ابوالحسن نورزمان جو عقل و شعور میں علم و حکمت کے ایسے چراغ روشن کررہے ہیں کہ آئندہ آنے والی صدیاں بھی ان سے منور ہوتی رہیں گی۔شیخ کی علمی، فکری، نظریاتی اور روحانی تعلیمات اور فیوضات کے حصول کے لیے طویل ریاضت درکار ہے۔ اس لیے کہ شیخ ابوالحسن ایک ایسے منفرد شیخ اور عبدِ صالح ہیں جو مستغرقِ شرابِ طہور اور مستغنی دنیا و مافیہا ہیں؛ جو عالمِ مطمئنہ میں جود و سخاِ قلبی کے باعث عطائے نظری، عطائے علمی، عطائے روحانی، عطائے الوہی اور عطائے مصطفوی ۖ کے جام بھر بھر کر پلاتے ہیں۔ لہذا جو طالب؛ عشق و معرفتِ حقیقی کا پیالہ اپنی وسعتِ حلق میں اتار لیتا ہے، وہی اِن علمی و روحانی فیوضات سے اکتسابِ فیض کرتا ہے اور شیخ ابوالحسن کے فلسفہ عشق اور علم کی گہرائی اور وسعت کو پاجاتا ہے، تاہم شرطِ لازم طالب کی وسعتِ طلبی ہے۔ برتنِ طلب اور جستجو جتنی وسیع ہوگی، عطا کی وسعت اتنی ہی ہوگی۔

نوٹ۔سلسلہ نقشبندیہ شاذلیہ کابارہواں سالانہ اجتماع عام 7-8-9ربیع الاول کوگلشن محمدنزدعبداللہ گبول گوٹھ کراچی میں منعقدہورہاہے جس میں تمام احباب سے شرکت کی درخواست ہے ۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

20 − 15 =