مئی 18, 2024

طوفان اقصیٰ

تحریر: نوید مسعود ہاشمی 

(آخری قسط )

بیت المقدس، فلسطین کا دارالحکومت تھا جو درمیان کے مذکورہ نوے برس کے عرصہ کے علاوہ حضرت عمر کے دور سے مسلمانوں کے پاس ہی رہا ہے، یہاں تک کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے دسمبر میں اس پر قبضہ کر کے اس پر اپنا اقتدار قائم کر لیا۔اس سے قبل فلسطین خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا، پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ نے جرمنی کاساتھ دیا تھا اس لیے جرمنی کی شکست کے ساتھ ہی خلافت عثمانیہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی تھی اور اس کشمکش میں فلسطین پر برطانیہ کا قبضہ عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا۔ گاڈفرے ڈی بولون نامی انگریز کمشنر نے دسمبر کو فلسطین کا اقتدار سنبھالا اورمئی تک فلسطین پر برطانیہ کا قبضہ رہا۔

خلافت عثمانیہ نے یہودیوں کو ویزے پر بیت المقدس آنے اور اپنے مقدس مقامات کی زیارت اور وہاں عبادت کی آزادی دے رکھی تھی مگر انہیں فلسطین میں زمین خریدنے، کاروبار کرنے اور رہائش اختیار کرنے کا حق قانونی طور پر حاصل نہیں تھا۔اس دوران یہودیوں نے عالمی سطح پر صہیو نیت کے عنوان سے ایک تحریک کا آغاز کیا صہیون بیت المقدس کا ایک پہاڑ ہے جو یہودیوں کے ہاں بہت متبرک سمجھا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس پہاڑی پر حضرت دائود علیہ السلام کی عبادت گاہ تھی۔ اس پہاڑ کے تقدس کوعنوان بنا کر یہودیوں نے تحریک شروع کی جس میں فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن قرار دے کر اسے واپس لینے کا عزم کیا گیا تھا۔ صہیونی تحریکوں کے لیڈروں نے اس وقت کے عثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید دوم مرحوم سے درخواست کی کہ یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کا حق دیا جائے۔ سلطان نے اس سے انکار کر دیا، انہیں بیش بہا مالی مراعات کی پیش کش کی جو انہوں نے قبول نہیں کیں۔ سلطان عبدالحمید دوم نے اپنی یاد داشتوں میں لکھا ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ یہودی صرف فلسطین میں آباد ہونے کا حق نہیں مانگ رہے، بلکہ اس کی آڑ میں بیت المقدس پر قبضہ کرنے کا پروگرام رکھتے ہیں، اس لیے ان کی ملی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ وہ یہودیوں کو اس بات کا موقع فراہم کریں۔ اسی وجہ سے سلطان عبدالحمید دوم یہودیوں کے غیظ و غضب کا نشانہ بنے اور ان کے خلاف وہ تحریک چلی جس کے نتیجے میں وہ خلافت سے محروم ہو کر نظر بندی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے اور اسی نظر بندی میں ان کا انتقال ہوا۔اس موقع پر برطانیہ کے وزیر خارجہ بالفور نے اعلان کیا کہ وہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کرتے ہیں اور موقع ملنے پر انہیں وہاں آباد ہونے کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں، جسے اعلان بالفور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے عوض یہودیوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے مالی نقصانات کی تلافی کرنے کا وعدہ کیا تھا اور ان مالی مفادات کے باعث برطانیہ اور اس کے ساتھی ممالک نے فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔جب فلسطین برطانیہ کے قبضے میں گیا تو وہ قانون منسوخ کر دیا گیا جس کے تحت یہودیوں کو فلسطین میں زمین خریدنے اور سکونت اختیار کرنے سے روکا گیا تھا۔ اس کے بعد دنیا بھر سے یہودی وہاں آنا شروع ہو گئے اور فلسطین میں زمینیں اور مکانات خرید کر انہوں نے آباد ہونے کا آغاز کر دیا۔ اس موقع پر مفتی اعظم فلسطین الحاج سید امین الحسینی نے فتوی جاری کیا کہ چونکہ یہودی بیت المقدس میں آباد ہو کر بیت المقدس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اس لیے فلسطین کی زمین یہودیوں پر فروخت کرنا شرعا جائز نہیں۔

برصغیر کے اکابر علماء کرام نے بھی جن میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اور مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی شامل ہیں اس فتویٰ کی تائید کی۔ مگر اس فتوی کے باوجود فلسطین میں یہودیوں پر زمینوں اور مکانات کی فروخت نہیں رکی۔ صرف اتنا ہوا کہ زمینوں کی قیمتیں بڑھ گئیں اور یہودیوں نے جو دنیا کے مختلف ممالک سے وہاں مسلسل آرہے تھے دگنی چوگنی قیمتوں پر فلسطین کا ایک بڑا حصہ خرید لیا۔اس طرح اسرائیل بننے سے پہلے کی اس خوفناک، خون آلود، دہشت گردی اور بربریت کی جنگ میں ہزاروں فلسطینی بے گھر ہوئے۔ خاندان تباہ ہوئے، فلسطینی خانہ بدوش، مہاجر کیمپوں کے رہائشی بنے، بوڑھے، بچے، بیمار ناتواں پیدل سفر کی صعوبتوں سے جان کی بازی ہار گئے۔ متمول،با اثر اور معتبر افراد فلسطینی مہاجر کیمپوں میں خیراتی راشن کے لیے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوئے۔ جو فلسطین کے پشتوں سے شہری تھے ان کو زبردستی ملک بدر کر کے غیر ملکوں کو ان کے گھروں میں لا کر بسایا جا رہا تھا۔ اس جنگ، اس حادثے اور اس کھلی نا انصافی کو یہودی، اسرائیلی جنگ آزادی کا نام دیتے ہیں، جو قتل و غارت گری ایک سال تک جاری رہی۔ یہودیوں نے برطانیہ کا اقتدار ختم ہونے سے پہلے ہی ایک مسلح آرمی تیار کر لی تھی، یہ آرمی دہشت گردی، لوٹ مار، غنڈہ گردی کی ماہر تھی اور اپنی کارروائیوں سے عام عرب شہریوں کو تباہ کر رہی تھی، اس آرمی نے فلسطینیوں کے سینکڑوں گاں خالی کرا کر دوسرے ممالک سے ترکِ وطن کر کے آنے والے یہودیوں کے حوالے کر دئیے تھے۔مئی کے بعد اسرائیلیوں نے منظم سازش کے تحت بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کے لیے قتل گاہیں سجائیں، میں اس جنگ کے دوران اسرائیل نے فلسطین کے فی صد علاقے پر قبضہ کر کے سات لاکھ پچاس ہزار فلسطینیوں کو ملک بدر کر دیا، یہ فلسطینی مہاجر لبنان، شام، اردن، مغربی کنارے، غزہ، مراکش، تیونس، مصر اور دنیا کے کونے کونے میں جا کر پناہ گزیں ہوئے اور آج تک مہاجر ہیں۔ ان فلسطینی مہاجروں کو اپنے وطن میں واپس آنے کی اجازت نہیں ہے۔اس ستم رسیدہ فلسطینیوں کے ساتھ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اسرائیل نے بین الاقوامی نظروں کے سامنے سفاکی کے ساتھ فلسطینیوں کو اپنی دھرتی سے زبردستی ملک بدر کر دیا اور بین الاقوامی ضمیر سویا رہا یا مصلحت ِ وقت کی بنا پر خاموش رہا۔

ادھر یہودی فلسطینیوں کی جائیداد، گھروں، باغات، فصل سے لدے ہوئے کھیتوں اور زمینوں کے راتوں رات مالک بن گئے۔ اسرائیل میں ایمرجنسی قوانین نافذ کر دئیے گئے جو آج تک لاگو ہیں۔الغرض سے تک برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کی آمد اور آبادی کی سرپرستی کر کے اعلان بالفور کے ذریعہ کیا گیا وعدہ پورا کیا اور جب دیکھا کہ فلسطین کا ایک بڑا حصہ یہودیوں کے قبضے میں آچکا ہے تو انہوں نے اپنے لیے برطانیہ کی طرف سے مخصوص کردہ علاقے میں اسرائیل کے نام سے نئی سلطنت قائم کرنے کا اعلان کر دیا جسے امریکہ اور روس سمیت عالمی طاقتوں نے تسلیم کر لیا اور اقوام متحدہ نے بھی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حد بندی کر کے اسرائیل کو ایک آزاد ریاست قرار دینے کا اعلان کر دیا۔اس کشمکش میں یہودیوں نے اچھے خاصے علاقے پر قبضہ کیا مگر بیت المقدس کا مشرقی حصہ جس میں بیت المقدس کا مقدس احاطہ ہے، اردن کے پاس رہا اور اس پر اس کا انتظامی حق تسلیم کر لیا گیا۔ کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے (مصر، شام اور اردن کے دیگر علاقوں کے ساتھ)یروشلم کے مشرقی حصے اور مسجد اقصی پر بھی قبضہ کر لیا اور اس وقت سے یہ علاقہ اسرائیل کے قبضے میں ہے۔

دنیا بھر میں انسانی حقوق کا پرچار کرنے والے جب اسرائیل کی پیٹھ تھپکتے ہیں تو اس کی دیدہ دلیری اور بڑھ جاتی ہے، پھر وہ اہل فلسطین کے خلاف ایسے اقدام اٹھاتا ہے کہ چنگیز خان اور ہلاکو خان بھی دیکھیں تو لرز اٹھیں۔مظلوم فلسطین مسلمانوں کی ایسی دل خراش داستانیں عالمی ذرائع ابلاغ کا حصہ بنتی رہتی ہیں کہ ان کو پڑھنے کے لیے بھی فولاد کا جگر چاہیے۔ان تمام تاریخی حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ جب تک اسرائیل اپنے ظالمانہ اقدامات سے باز نہیں آجاتا، مسجد اقصی اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقے آزاد نہیں کر دئیے جاتے تب تک امریکی صدر کی خواہش پر اسرائیل کو تسلیم کر لینا سوائے بے غیرتی اور بزدلی کے اور کچھ نہیں ہے۔ اہل ایمان نے نہ تو کل اسرائیل کا ظالمانہ قبضہ جائز تصور کیا تھا اور نہ ہی آئندہ اس کا تصور کیا جا سکتا ہے، البتہ مسلمانوں کے وہ حکمران جو غیروں کے اشارے پر چل رہے ہیں، وہ اپنے سیاہ کارناموں سے اپنی زندگیوں یا حکومتوں میں تو کوئی اضافہ نہیں کر سکیں گے البتہ اپنا نام غداران قوم و ملت کی فہرست میں ضرور لکھوا جائیں گے۔اللہ کریم اہل فلسطین کی مدد فرمائے اور پوری امت کو آزادی کی نعمت عطا فرمائے۔(آمین ثم آمین)

تمام شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

2 × 4 =