مئی 20, 2024

شیعہ ماتم کیوں کرتے ہیں۔۔۔؟

تحریر: سید اعجاز اصغر

(پہلا حصہ)

عقیدہ ماتم و عزاداری پر اعتراضات کافی حد تک کم ہوتے جارہے ہیں، دور حاضر میں اکثریت تعلیم یافتہ افراد سیاسی، مذہبی امور میں تحقیق اور جستجو کے متمنی نظر آرہے ہیں، تعصب اور فرقہ واریت جہالت اور گمراہی کی وجہ سے ہی پھیلتا ہے، کسی شخص کے عقیدہ پر حملہ کرنا شرعی طور پر دین اسلام میں ناجائز ہے، ہر انسان اپنے عقیدہ وعمل میں آزاد ہے، کیونکہ عقیدہ اس اعتقاد کو کہا جاتا ہے جو انسان اپنے دل میں کسی چیز کے بارے میں رکھتا ہے، عقیدہ درحقیقت دل کے یقین کرنے کے عمل کا نام ہے اور وہ ہے دل کا کسی بات پر ایمان رکھنا اور اس کی تصدیق کرنا، حق اور سچ جان کر دل میں مضبوط اور راسخ کر لینا ہی عقیدہ ہے، جب کہ ایمان دین اسلام کی سب سے بڑی تعلیم ہے  جو اللہ اور رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم و آل محمد علیہم السّلام کو ماننے اور انہیں سچا جان کر ان پر یقین کرنے کا تقاضا کرتی ہے، مسلمان کا دین اسلام کی تعلیمات کو سچا جاننا اور دل سے ان کی تصدیق کرنا ایمان ہے اور یہی اگر راسخ ہوجائے تو اس کا عقیدہ ہے،

ایام محرم الحرام کی عقیدت تمام مکتبہ فکر کی نظر میں انتہائی درجہ اہمیت کی حامل ہے، تمام مسلمان اپنے اپنے عقیدہ کے مطابق محسن انسانیت حضرت امام حسین علیہ السّلام کی یاد مناتا ہے، ایام محرم الحرام ایام غم کہلاتے ہیں، اس کی وجہ تسمیہ ہر ذی شعور اہل علم کو معلوم ہے، اس مہینے میں خاندان رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسے مظالم ڈھائے گئے جن کی مثال دنیا میں نہیں ملتی، ایام محرم الحرام فقط ایام غم ہی نہیں بلکہ صاحبان عقل و بصیرت کے لئے باعث عبرت و نصیحت بھی ہیں، یعنی ایک طالب حقیقت ان ایام میں ہونے والے واقعات کا مطالعہ کرکے صحیح دیندار بن سکتا ہے اور اس کا عقیدہ راسخ ہو جاتا ہے، اس کے لئے اپنی مطلوبہ حقیقت منکشف و واضح ہو جاتی ہے اور غرض خلقت کو سمجھ سکتا ہے، لیکن افسوس کچھ تنگ نظر ، متعصب اور کم علم جو اپنے آپ کو کلمہ گو مسلمان تو سمجھتے ہیں، مگر ان ایام غم کے افادی پہلو کو نظرانداز کرتے ہیں، یوم عاشور کو فتح اور خوشی کا دن گردانتے ہیں کہ نواسہ رسول کو فتح ملی تھی، یہ بات تو درست ہے کہ فتح ملی تھی، کیونکہ امام حسین علیہ السّلام حق پر تھے اور یزیدی فوج باطل پر تھی، مگر فتح کی حصولی بہت بڑی قربانیاں دے کر ممکن ہوئی تھی، امام حسین علیہ السّلام کو یزیدیت کی بربریت کا سامنا کرنا پڑا تھا، یوم عاشور ظالم اور مظلوم کے درمیان فرق کرنے کا دن ہے، مظلوم کربلا کا غم منانا قیامت تک کے مظلوم کی طرفداری کا ثبوت ہے، اگر مظلوم کربلا کی مظلومیت کو مسلم اقوام صحیح معنوں میں ادراک کر جاتی تو کئی دہائیوں پر محیط کشمیر و فلسطین کے مسلمان آگ اور خون کی ہولی میں نہ دھکیلے جاتے، خون ریزی کا سلسلہ بند ہو جاتا، اس سے ثابت ہوتا ہےکہ امام حسین علیہ السّلام اور آل محمد علیہم السّلام کی عزاداری نہ منانے سے باطل، استعماری، اور سامراجی قوتوں کو تقویت ملتی ہے اور یزیدیت کی طرفداری میں اضافہ ہوتا ہے،

ہر کلمہ گو مسلمان کو غور کرنا چاہیے کہ نواسہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ پر خطر اقدام کیوں کیا  ؟

امام حسین علیہ السّلام کا اصلی مقصد اس عظیم قربانی سے کیا تھا  ؟

ہم نے کبھی غور نہیں کیا کہ وہ کونسی قیمتی چیز تھی جس کی خاطر امام حسین علیہ السّلام نے عظیم قربانی پیش کی،

وہ نواسہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم جس کی شان اقدس میں حدیث نبوی ہے کہ

جو شخص چاہتا ہے کہ اللہ کو دوست رکھے وہ حسین علیہ السلام سے محبت کرے، اور جگہ فرمایا میرے یہ دو بیٹے حسن مجتبی اور حسین علیہ السّلام اٹھتے بیٹھتے خواہ قیام فرمائیں یا گوشہ نشینی اختیار کریں ہر حالت میں امام ہیں،

پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، حسین علیہ السلام سید الاسباط یعنی بنی اسرائیل کے پیغمبروں کے سردار ہیں،

کئی مرتبہ مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جب حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام کو آتے ہوئے دیکھتے تو منبر سے نیچے اتر کر دونوں بچوں کو گود میں بٹھاتے اور یوں قرآن پاک کی آیت پڑھتے

” اللّٰہ نے سچ فرمایا تمہاری اولاد معرض امتحان و ابتلا ہے،  ”

کئی بار ایسا ہوا کہ حضرت امام حسین علیہ السّلام حالت سجدہ میں اپنے نانا جان کی پشت پر سوار ہو جاتے تو حضور پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کو طول دے دیتے، کبھی فرماتے حسن و حسین علیھم السلام میرے لئے دنیا کے دو پھول ہیں،

کبھی یہ کہہ کر لوگوں کو امام حسین علیہ السّلام کی عظمت و شان جتلائی کہ میرے دو بیٹے حسن و حسین علیھم السلام جوانان جنت کے سردار ہیں،

قارئین محترم  !

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نواسوں کی پہچان اور معرفت اس لئے کرائی کہ ان کی امامت و ولایت پوری انسانیت کی فلاح اور بہتری کا سبب ہے، ان کے غم میں غمی اور ان کی خوشی میں خوشی منانے سے اللّٰہ و رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی ہے،

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

20 + twelve =