جولائی 14, 2024

شیعہ ماتم کیوں کرتے ہیں۔۔۔؟

تحریر: سید اعجاز اصغر 

(دوسرا حصہ)

عقیدہ محبت اہل بیت رسول علیھم السلام و عقیدہ عزاداری کا سب سے پہلا درس حضرت آدم علیہ السلام سے ہی شروع ہو جاتا ہے، حضرت آدم علیہ السلام نے داستان مقتل اپنے عقیدہ سے واضح کی، اسی لئے داستان مقتل اتنی ہی پرانی ہے جتنی حضرت انسان کی کہانی ہے، تاریخ انسان میں مرقوم ہے کہ پھر حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے معذرت کے چند الفاظ سیکھے، ( بحوالہ سورہ بقرہ آیت 37 ) یعنی حضرت آدم علیہ السلام نے ساق عرش پر محمد و آل محمد علیہم السّلام کے ناموں کو تحریر پایا تو جبرائیل علیہ السّلام نے حضرت آدم علیہ السلام کو مشورہ دیا کہ ان اسما مبارکہ کو مناجات اور توبہ کے وقت ورد زبان اور حرز جان بنا لو  !

اے تعریف شدہ خدا  !

تجھے محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا واسطہ  !

اے بلند مرتبہ خدا  !

تجھے علی علیہ السلام کا واسطہ !

اے خالق  !

تجھے فاطمةالزھرا سلام اللّٰہ علیھا کا واسطہ  !

اے احسان کرنے والے  !

حسن و حسین علیہم السّلام کا واسطہ  !

اور احسان فقط تیری جانب سے ہے،

جب نام حسین علیہ السلام آیا تو جبرائیل علیہ السّلام و آدم علیہ السلام ہر دو کے دل مغموم و مخزون ہو گئے، اور آنکھوں سے اشک رواں ہو گئے، آدم علیہ السلام نے وجہ دریافت کی تو جبرائیل امین نے واقعہ کربلا اور خامس انوار خدا پر آنے والے مصائب و آلام کو بیان کیا، پھر دونوں محبوب خدا و رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم حسین علیہ السلام کو آئندہ پیش آنے والے اس سانحہ کربلا پر ایسے گریہ و کناں ہوئے ایسا رونے لگے جیسے کوئی بوڑھی ماں اپنے جواں سال بیٹے کی موت پر روتی ہے،

مقتل کی کتابوں کے مطابق مقتل حسین علیہ السلام کی بنیاد اسی دن پڑ گئی، انبیاء کرام علیہم السلام کا شہادت حسین علیہ السلام کی خبر سن کر مغموم و مخزون اور گریہ کناں ہونے کی روایات سے صرف نظر کرتے ہوئے ایک ہی جست میں اول سے آخر تک کا سفر طے کرتے ہوئے اور حسین حسین علیہ السلام کرتے ہیں، وہ یوں کہ رسول آخر و خاتم کا زمانہ تھا اور اپنے عروج و کمال ہدایت پر قدرت کا کارخانہ تھا، تب حسین مظلوم و بے کس کے بابا امیرالمؤمنین علی علیہ السلام بارگاہ رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم میں موجود تھے، کہ انا من الحسین علیہ السّلام کے مصدر و مصداق نے تناول ما حضر کے بعد وضو کیا قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے، اور مناجات و ذکر الٰہی میں مشغول ہو گئے، رسالت کے شاہد اول حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ یکا یک آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں ساون کے بادلوں کی طرح برسنے لگیں، حتی کہ آنسو چہرہ اطہر کو تر بہ تر ارض مدینہ پر بہنے لگے، مقتول کربلا حسین مظلوم اس وقت آپ کے شانہ اقدس پر سوار تھے، اپنے نانا کو روتے دیکھ کر حسین علیہ السلام بھی رونے لگے،

قارئین محترم  !

حضرت آدم علیہ، حضرت جبرائیل علیہ السّلام، جناب پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت علی علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السّلام کا گریہ، غم عزاداری  متذکرہ بالا تحریر سے ثابت ہوتا ہےکہ واقعہ کربلا سے پہلے ہی غم حسین علیہ السلام منانا سنت رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سنت جبرائیل علیہ السّلام و سنت آل محمد علیہم السّلام ہے  ،  حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم  تک عزاداری سید الشہداء دلائل کے ساتھ تاریخ اسلام میں مرقوم ہے، جب واقعہ کربلا سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام، اوصیا کرام علیہم السلام اور ملائکہ عزاداری کرتے ہوئے ثابت ہوتےہیں تو شیعہ ماتم کیوں کرتے ہیں  ؟ اس کی دلیل مذکورہ بالا حوالہ جات سے بھی ثابت ہے اور بقیہ حوالے بقیہ قسط سوم میں درج ہونگے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

7 − three =