جون 23, 2024

تین نسلوں کا معشوق

تحریر: علی سردار سراج 

آپ کو ہم سے بچھڑے ہوئے انیس سال بیت گئے ۔ لیکن آپ کی یاد ہے جو گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے ۔

اس کی ایک وجہ تو وہ محبت اور عقیدت ہے جو نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے آپ سے ہوگئی ۔ اور دوسری اور اہم وجہ تمہاری شخصیت کی وہ شناخت اور معرفت ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتی ہی گئی ۔

کبھی خیال آتا ہے کہ تمہاری خدمات کے بارے میں کچھ زیب قرطاس کروں، لیکن عقیدت اور محبت کی ڈوریاں مجھ اپنے حصار سے نکلنے نہیں دیتی ہیں۔

تین نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تمہارے ثناء خواں تھے۔ یقینا ہر ایک نے اپنے انداز میں تمہیں دیکھا اور سمجھا ہوگا۔ پھر بھی تمہاری یہ ظرفیت تھی کہ الگ الگ زمانوں سے تعلق رکھنے والی تین نسلوں کو اپنی طرف جذب کرے ۔

عمر کی ایک سنچری کے قریب پہنچا ہوا میرا دادا مرحوم حاجی لگشیر (رحمة الله عليه) جنہوں نے نزدیک سے آپ کے پدر بزرگوار کو دیکھا تھا، اور اکثر آپ کے نام کے بجائے آپ کے والد محترم کا نام لے کر آپ کو تحسین کرتے تھے ۔

میرے والد محترم حاجی علی گوہر، جو آپ کی شہادت تک آپ کے ساتھ رہے اور آج بھی وہ آپ کی یاد پر مغموم ہوجاتے ہیں ۔

اور بندہ حقیر سراپا تقصیر جن کی عقیدت کے آغاز میں آپ کی شجاعت اور صاف گوئی کا پہلو نمایاں تھا۔

یہ صرف میرے گھر کی کہانی نہیں بلکہ گلگت کے ہر گھر کی یہی کہانی ہے ۔

گلگت کے لوگوں نے عاشقانہ انداز میں شہید سید ضیاء الدین رضوی اعلی اللہ مقامہ کو چاہا ،اور مثالی طور پر اپنے عشق کا اظہار کیا ۔

یقینا اس محبت و چاہت کے پیچھے ہر کسی کے پاس اپنی دلیل ہوگی اور اظہار عقیدت کا ہر ایک کا اپنا انداز ۔

کیوں نہ ایسا ہو؟

چونکہ انہوں نے اپنے مولا امیر المومنین علیہ السلام کی پیروی کرتے ہوئے اپنے اندر کئی متضاد صفات کو پروان چڑھایا تھا ۔

وہ رات کا شب زندہ دار عابد تھا تو دن کا مجاہد فی سبیل اللہ ۔

انہوں نے علم کے ساتھ حلم کو اور عقل کے ساتھ عشق کو اپنے اندر سمویا تھا ۔

شجاعت اور غیرت کا پیکر تھا ۔

ان کی بصیرت کے لئے یہی بس کہ نصاب تعلیم کے موجودہ مسائل کو وہ بیس سال پہلے بھانپ گیا تھا ۔

جب ملک کے نامور افراد اس کو ایک معمولی مسئلہ سمجھتے تھے ۔ انہوں نے اس مسئلے کی حساسیت کا اندازہ کرکے جہاں حکومتی ایوانوں تک اپنی آواز پہنچائی وہاں شیعہ قوم کے عوام کو بالعموم اور علماء کو بالخصوص اس خطرے سے متنبہ کیا ۔

گلگت بلتستان کے لوگوں نے مثالی حد تک شہید کی آواز پر لبیک کیا ۔

لیکن باقی صوبوں سے کوئی مثبت رد عمل سامنے نہیں آیا ۔ وہ کراچی تک جا کر ایک ایک ذمہ دار شخص کو یہ بتاتے رہے کہ یہ مسئلہ قابل اغماض نہیں ہے ۔ کیونکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت نصاب تعلیم کو تکفیری سوچ کی بنیادوں پر مرتب کیا جا رہا ہے ۔

شہید سیاست کو عبادت اور خدمت سمجھتے تھے ۔ اور اپنے موقف میں صاف و شفاف تھے۔

قیادت کے مسئلے میں وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے ۔

اسی طرح جب نصاب کا مسئلہ درپیش ہوا تو اپنے ہی پلیٹ فارم کی کئی شخصیات کا ان سے اختلاف ہوا۔

لیکن وہ ثابت قدم رہے۔حتی کہ ملک کے کئے بزرگ علماء کے مشورے پر عمل کرنے سے اظہار معذرت کی۔

جبکہ سیاسی اختلاف کے باوجود شہید منا علامہ فخر الدین اعلی اللہ مقامہ اور ان کے ساتھیوں کو گلے سے لگایا اور انہوں نے بھی اپنی تمام توانائیوں کو شہید کے مشن کی تکمیل کے لئے بروئے کار لائے ۔

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ اگر سیاست بھی کرتے تھے تو اس کو عبادت سمجھ کر کرتے تھے ۔

لہذا جہاں وہ اپنی دینی ذمہ داری اور دوسروں کی رائے میں تعارض دیکھتے تھے تو بلا جھجک اپنی شرعی تکلیف کو ہی مقدم سمجھتے تھے ۔

شاید یہی وہ اصلی نقطہ تھا جس نے ان کے تمام کاموں کو با ارزش بنایا تھا ۔ کیوں کہ وہ صرف اپنے رب کی مرضی کے متلاشی تھے۔

شہید ضیاء الدین اتحاد بین المسلیمن کے داعی تھے اور توحید باری تعالی، قرآن کریم،پیغمبر اکرم اور آپ کے اہل بیت علیہم السلام اور مشترک فروعات دین اور ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین سے گریز اور مذہبی آزادی کے زمرے میں اتحاد کو ممکن سمجھتے تھے ۔

وہ مسلمانوں کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کو بحث اور گفتگو کے ذریعے برطرف کرنے کے حامی تھے ۔

اور امن کے داعی تھے اور امن کو سب کی ضرورت سمجھتے تھے ۔

اور گلگت بلتستان کے حقوق کے لئے بلند ہونے والی سب سے توانا آواز تھے۔

منطق اور اخلاق سے عاری وقت کے فرعونوں نے درک کیا کہ یہ اعلی اقدار کا مالک شخص نہ ڈرایا جا سکتا ہے اور نہ خریدا جا سکتا ہے۔

بس ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ نہ جھکنے والے سر کو نوک نیزہ پر بلند کیا جائے ۔

آٹھ جنوری دو ہزار پانچ کے دن نماز ظہر کے لئے محراب عبادت کی طرف جانے والے، امیر المومنین علیہ السلام کے شیدائی پر کچھ کرائے کے بزدل قاتلوں نے اپنے اسلاف کی پیروی کرتے ہوئے چھپ کر وار کیا تو وہ اپنے با وفا ساتھیوں کے ساتھ یہ کہتے ہوئے شہادت کے جام نوش کرنے کے لئے پیش قدم ہوئے۔

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا

ابھی تو آئے تھے مقتل کو سرخرو کرکے۔

روحش شاد و یادش گرامی.

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

one × 4 =