مئی 18, 2024

تحریک اسرائیل ۔۔۔!

تحریر: عمر فاروق

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے 53 ویں اجلاس میں اسرائیل کی نائب مستقل مندوب آدی فرزون نے کہا کہ ، اسرائیل کو پاکستان میں انسانی حقوق کی مجموعی صورت حال پرگہری تشویش ہے جہاں جبری گمشدگیاں، تشدد، پرامن احتجاج پرکریک ڈائون، مذہبی اقلیتوںو دیگر پسماندہ گروپوں کیخلاف تشدد جاری ہے۔ پاکستان من مانی گرفتاریوں، تشدد، دیگر ناروا سلوک کو روک اجائے اور ایسی کارروائیوں کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔اسرائیل پاکستان پر زور دیتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی معیارات کے مطابق ہم جنس پرستی کو قانونی اجازت دے اور امتیازی سلوک کے خلاف جامع قانون سازی کرے جو جنسی رجحان اور صنفی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا خاتمہ کرے۔

اسرائیلی مندوب کایہ بیان آب زرسے لکھنے کے قابل ہے کیوں کہ یہ وہ سرٹیفکیٹ ہے کہ جویہودیوںنے خود جاری کرتے ہوئے بتادیاہے کہ پاکستان میں ان کا،مہرہ ،صرف ایک ہی ہے ۔اس بیان نے حکیم سعید،ڈاکٹراسراراورمولانافضل الرحمن کے ان دعووں پرمہرتصدیق ثبت کردی ہے جوانہوں نے عمران نیازی کے متعلق فرمایاتھا ۔اسرائیل کااس طرح کھل کربیان دینااوربے چین ہونابلاوجہ نہیں ہے ورنہ پاکستان میں تووزیراعظم کوپھانسی کے پھندے پرلٹکادیاگیا غیرآئینی طریقے سے کئی وزارائے اعظم کوگھربھیجاگیا مگراس موقع پراسرائیل نے توکوئی بیان نہیں دیا ؟

پی ٹی آئی کے حامی خوش ہیں کہ عالمی فورم پران کے حق میں بڑی آوازبلندہوئی ہے اس لیے پاکستان تحریک اسرائیل کے حامیوں کوچاہیے کہ وہ یہ بیان فریم کرواکراپنے گھروں میں آویزاں کریںپی ٹی آئی کے بچے کھچے رہنماء وصیت میں لکھ لیں کہ یہ تاریخی دستاویزان کے ساتھ قبرمیں ساتھ رکھی جائے کیوں کہ یہ وہ پروانہ ہے کہ جوان کی دنیاوآخرت میں کامیابی کاضامن ہے ،یوتھیے اس بیان کوتعویزبناکراورپنکی پیرنی سے دم کرواکرگلے میں لٹکائیں شایدانہیں اس طرح سے دوبارہ حکومت مل جائے ،عمران نیازی نومئی کے واقعات میں اعلی کارکردگی دکھانے والے کارکنوں کوبطورسرٹیفکیٹ وسندکے اس کوتقسیم کریں ۔اورکارکن اس تاریخی دستاویزات کواپنے آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے لیے حفاظت کابندوبست کریں ۔

اس بیان کے دوسرے حصے میں ہم جنس پرستی کوغیرمجرمانہ قراردینے کامطالبہ کیاگیاہے دراصل یہی تو تحریک انصاف کاایجنڈہ ہے بلکہ اسرائیل اوراسلام دشمن قوتوں کاٹارگٹ ہے جس کوپوراکرنے کے لیے عمران نیازی گزشتہ کئی سالوں سے محنت کررہاہے اورخاص کرکے انہوں نے ہمارے معاشرے میں جس بے حیائی اوربداخلاقی کے کلچرکوفروغ دیاہے جس کے کئی مظاہرے آپ سوشل میڈیاپردیکھ سکتے ہیں یہ اسی ایجنڈے کاتوحصہ ہے۔

اسرائیلی فنڈنگ سے پاکستان میں سیاست کرنے والاعمران نیازی جب سے اقتدارسے بے دخل ہواہے اس کے عالمی سرپرستوں امریکہ ،برطانیہ ،کینیڈا،یورپی یونین اوراسرائیل کوسخت پریشانی لاحق ہے وہ مسلسل پاکستان کے خلاف بیان بازی کررہے ہیں اوران کایہ حق بھی بنتاہے کیوں کہ عمران نیازی نے حکومت میں رہے کران کے ایجنڈے کوہی توآگے بڑھایاتھا خاص کرکے اسرائیل نوازی میں توعمران نیازی توتمام حدیں کراس کردی تھیں ۔ہماری قوم بھی بہت جلدبھول جاتی ہے میں یادہانی کے لیے چنداقعات لکھ رہاہوں تاکہ سندرہیں کہ عمران کی اسرائیل نوازی اوراسرائیل کی عمران نوازی کی وجوہات کیاہیں اوراسرائیل عمران خان کے حوالے سے کیوں پریشان ہے ؟

تحریک انصاف کی طرف سے اسرائیل کی طرف سب سے پہلے یہ پیش قدمی کی کہ پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی اسما حدید11نومبر2018کوقومی اسمبلی میں تقریرکرتے ہوئے کہاکہ یہودیوں کا قبلہ بیت المقدس ہے،مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو نماز کعبہ کی طرف منہ کرکے پڑھنے کا حکم دیا لیکن جب یہودیوں کے اعتراض پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یروشلم کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دے دیا۔پھر اللہ کی طرف سے جب حکم آگیا کہ جس میں اللہ نے فیصلہ کردیا۔کہ یہودیوں کا کعبہ یروشلم مسجد اقصی ہوگا۔ جبکہ مسلمانوں کا کعبہ ہوگا جوعرب میں ہے۔اس لیے اب مسلمانوں اور یہودیوں کی لڑائی اس معاملے پر توختم ہوجانی چاہیے۔ نبی پاک صلی علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنے دشمن کو دوست بنا لو۔نبی پاک نے یہودیوں کے ساتھ کام کرکے ایک مثال قائم کردی ہے۔اسما حدیدکایہ بیان ریکارڈ پرموجود ہے اس پراگرعمران نیازی کی طرف سے کوئی سرزنش کی گئی ہوتوضرورآگاہ کیجیے گا۔

اسرائیل کی طرف دوسری پیش قدمی یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک یہودی فشیل بن خالدکوپاسپورٹ جاری کیااوربعدزاں اسے پاکستانی پاسپورٹ پراسرائیل کے سفرکی اجازت بھی دی ،جنوری2019میں دی نیوز میں سینئرصحافی عمر چیمہ نے یہ رپورٹ شائع کی کہ پی ٹی آئی حکومت نے 31 سالہ فشل خالدکونہ صرف اسرائیل کا سفر کرنے کی اجازت دی ہے۔بلکہ اس اجازت کی تشہیر کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔فشل خالد کراچی کا رہائشی اور اپنے مذہبی عقائد کا کھل کر اظہار کرتا ہے۔ اس نے نادرا میں خود کو یہودی رجسٹرڈ کرایا۔

تیسری پیش قدمی یہ ہے کہ اسرائیلی اخبار اسرائیل ہایوم جواسرائیل کاسب سے بڑااخبارہے اورعبرانی زبان میں شائع ہوتاہے اس نے جون 2021میں یہ دعوی کیا کہ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی نے اسرائیل کا خفیہ دورہ کیااور نومبر 2020میں اس نے تل ابیب ایئرپورٹ پر اسرائیلی حکام سے ملاقات کی تھی۔بعدازاں برطانوی پاسپورٹ رکھنے والے مشیر کو اسرائیل کی وزارت خارجہ لے جایا گیا جہاں انھوں نے متعدد سیاسی عہدیداران اور سفارت کاروں سے ملاقات کی اور پاکستان کے وزیر اعظم کا پیغام پہنچایا۔واضح رہے کہ اسرائیلی اخبارنے یہ لکھا کہ اسرائیلی سیکورٹی اداروں نے معاون خصوصی کانام شائع کرنے کی کلیئرنس نہیں دی ۔بعدمیں اس حوالے سے زلفی بخاری کانام سامنے آیااگرچہ انہوں نے اس کی تردیدکی تھی مگراخباراپنے دعوے پرقائم رہا۔اس کے علاوہ اکتوبر2018میں جب پاکستان نے بھارتی طیارے کومارگرایااوراس کے پائلٹ ابھی نندن کوگرفتارکیاتواس وقت بھی ایک اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمدکی بازگشت سنی گئی تھی ۔

چوتھی پیش قدمی یہ تھی کہ مولانامحمدخان شیرانی جوآج کل پاکستان تحریک انصاف کے اتحادی ہیں نے دسمبر2020میں ایک انٹرویودیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہیے(واضح رہے کہ اس بیان کے بعد مولانافضل الرحمن نے انہیں جماعت سے فورابے دخل کیا اورپی ٹی آئی کی اس وقت کی حکومت نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر مولاناشیرانی اوران کے ساتھیوں کوچھتری فراہم کرتے ہوئے اپنااتحادی بنالیا )۔مولاناشیرانی نے اس بیان سے تاحال رجوع نہیں کیاہے ۔

پانچویں پیش قدمی یہ تھی کہ ملکی تاریخ میں یہ بھی پہلی مرتبہ ہواکہ 2019میں ایک پاکستانی خلیل الرحمن کانام تبدیل کرکے ڈیوڈآریل David Ariel (یہودی نام )سے نادرہ نے شناختی کارڈ جاری کیاخلیل الرحمن یہودیوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم پاکستان اسرائیل الائنس کے بانی رکن ہیں۔چھٹی پیش قدمی یہ ہے کہ اسی خلیل الرحمن نے اپریل 2020میں نیشنل پریس کلب کے سامنے اسرائیلی جھنڈے کے ساتھ دوہفتے احتجاجی کیمپ لگایاجس میں مطالبہ کیاکہ پاکستانی پاسپورٹ سے اسرائیل کے خلاف نفرت آمیزالفاظ ختم کیے جائیں تاکہ پاکستانی بآسانی اسرائیل جاسکیں۔

آج تک پی ٹی آئی کاکوئی رہنما اورعمران نیازی اس بات کاجواب نہیں دے سکے کہ 2016میں لندن میئرکے الیکشن میں عمران خان نے مسلمان امیدوارصادق خان کے مقابلے میں زیگ گولڈسمتھ کی انتخابی مہم کیوں چلائی ؟زیک سمتھ ایک کٹریہودی اوراسرائیل کاسخت ترین حامی شمارہوتاہے ۔2019میں امریکی صدرسے عمران خان کی ملاقات میں بھی ٹرمپ کے یہودی دامادجارڈکشنرنے اہم کرداراداکیاکبھی کسی نے سوچاکہ یہودیوں کی عمران خان پراورعمران نیازی کی ان پرنوازشات کی کیاوجہ ہے ؟

اسرائیل کی طرف یہ بھی پیش قدمی ہوئی کہ اسی ٹرمپ اوراس کے یہودی دامادنے عربوں کورام کرتے ہوئے اسرائیل کوتسلیم کروانے کے لیے ابراہم اکارڈ کاوہ معاہدہ کیاجو اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے درمیان اگست 2020 میں طے پایا ۔مگرعمران نیازی نے اس معاہدے کی مذمت تک نہیں کی بلکہ درپردہ اس معاہدے کوسپورٹ کیا۔

29مئی 2022کوسرائیلی صدرآئزک ہرزوگ نے کہاکہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے وفدنے اسرائیل کادورہ کیااوران سے ملاقات ہوئی ملاقات اسی ابراہم معاہدے کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے ۔اس خبرکے بعدعمران نیازی نے کہاکہ ایک تصویرآئی ہے کہ ایک پاکستانی وفد پہلی بار اسرئیل گیا ہے، جس میں ایک پاکستانی ٹیلی ویژن میں کام کرنے والا تنخواہ دار بھی شامل ہے، اورحکومت اسرائیل کوتسلیم کرنے جارہی ہے ۔مگرعمران نیازی نے اس وقت یہ نہیں بتایاکہ اس صحافی کوپی ٹی وی میں کس کے دورمیں رکھاگیاتھا ؟اوراس وفدکوویزے کس کے دورمیں جاری کیے گئے تھے ؟

دورہ کرنے والے وفدمیں شامل صحافی احمدقریشی نے دعوی کیا کہ دورے میں شامل ایک پاکستانی نیازی حکومت کی اجازت سے گیاتھا یہ وہی یہودی فشل خالدہے جسے نیازی دوررحکومت میں اسرائیلی سفرکی اجازت دی گئی تھی ۔واضح رہے کہ عمران نیازی نے ایک یہودی کوپاسپورٹ جاری کرنے اوراسرائیلی سفرکی اجازت دینے کی کبھی تردیدنہیں کی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ یااس کاآدھابھی کسی اورسیاسی جماعت نے کیاہوتاتویوتھیوں کابدتمیزبریگیڈاس کوغدار،اسلام دشمن اورنہ جانے کیاکیاثابت کرچکاہوتامگرچوںکہ یہ سب کچھ عالم اسلام کے اس نام نہادلیڈرنے کیاہے اس لیے یوتھیے منافقت کی چادراوڑھ کرسوئے ہوئے ہیں لیکن اس سے اب کوئی فرق نہیں پڑتاکیوں کہ قوم جان چکی ہے عمران نیازی یہودیوں کاسکہ بندایجنٹ ہے اوراسے پاکستان تباہ کرنے کے لیے لانچ کیاگیاتھا ملکی اداروں ،سیاسی جماعتوں اورقوم نے مل کریہ سازش ناکام بنادی ہے ۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

eighteen − four =