مئی 20, 2024

امامت یا جمہوریت؟

تحریر: علی سردار سراج 

علمی دنیا سے آشنا لوگ اس بات کو بہتر انداز میں جانتے ہیں کہ شبہات کا ایجاد کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہے ۔

جب کسی مسلک اور مذہب پر کوئی علمی نقد کی سکت نہ ہو تو مختلف شبہات کو ایجاد کرکے انہیں استدلال کی شکل دے کر پیش کیا جاتا ہے،جو اپنے مریدوں کو قانع اور عوام الناس کے ذہنوں میں شک ایجاد کرنے میں موثر ہے۔

طول تاریخ میں مکتب اہل بیت علیہم السلام کے خلاف اکثر اہل سنت علماء کی یہی روش رہی ہے۔ بالخصوص ابن تیمیہ اور فخر رازی، کہ موخر الذکر ” امام المشکیکین ” کے نام سے معروف ہیں ۔

یہ کام بالخصوص ان لوگوں کے لئے زیادہ آسان ہے جن کا تعلق علوم عقلی سے ہو ۔

ایجاد شبہ ضروری نہیں ہے کہ ہمیشہ بد نیتی کی بنیاد پر ہو بلکہ کبھی کبھار کسی مسئلے کی پیچدگی اور اس کی تمام جوانب پر عدم احاطہ کی وجہ سے بھی شبہ وجود میں آتا ہے۔

شبہ گرچہ عوام الناس کے ذہنوں کو مشوش ضرور کرتا ہے ،لیکن علمی مسائل کی بہترین توضیح و تبیین اور پیشرفت میں معاون و مددگار بھی ہے۔

کیونکہ اہل علم مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس شبہ کو برطرف کرنے کے لیے اس مسئلے کو بہتر سے بہتر انداز میں از سر نو تبیین کریں اور نئے افق کو کشف کریں ۔

پچھلے ایک عرصے سے یہ شبہ ایجاد کیا گیا ہے کہ *” شیعہ علماء امامت کا درس پڑھ کر جمہوریت کی تبلیغ اور ترویج کرتے ہیں”*

انتخابات کے ایام میں اس شبے کا زور و شور، ایک طبعی امر ہے ۔

انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہم اپنی علمی رائے کو علمی محفلوں تک محدود رکھتے ہوئے اس مسئلے میں مجتھدین عظام کی رائے کی ہی تشہیر کرتے اور اس پر عمل کی ترغیب دیتے ۔

کیونکہ یہ ایک علمی مسئلہ ہونے سے زیادہ فوری طور پر ایک مبتلا بہ عملی مسئلہ ہے، جس میں شیعہ عوام مجتھدین کے فتوے پر ہی عمل کرنے کے پابند ہیں ۔

لیکن ایسا نہیں کیا گیا، اس کو علمی محفلوں سے زیادہ عوام الناس کے درمیان اچھالا گیا جس سے اس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ اصل مقصد سیاسی ہے جس کو ایک دینی عنوان کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے ۔

بہر حال اب یہ ایک علمی شبہے کے طور پر مطرح ہوا ہے تو کوشش کی جائے گی علمی انداز میں اس کا جواب دیا جائے ۔آسانی کی خاطر مطالب کو فہرست وار بیان کرتے ہیں ۔

1: انسانی معاشرے کے لئے قانون اور اس قانون کے نفاذ کے لئے حکومت کی ضرورت ایک شرعی مسئلہ ہونے سے پہلے ایک عقلائی مسئلہ ہے ۔

لہذا تمام جوامع بشری اپنے نظم و نسق کے لیے اصل قانون اور حکومت کی ضرورت کو قبول کرتے ہیں۔

خوارج نے جب ” لا حکم الا للہ ” کا نعرہ لگا کر امیر المومنین علیہ السلام کی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو آپ علیہ السلام نے ، ان کے اس شبے کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یہ جملہ تو صحیح ہے مگر جو مطلب وہ لیتے ہیں وہ غلط ہے۔ ہاں! بے شک حکم اللہ ہی کیلئے مخصوص ہے، مگر یہ لوگ تو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حکومت بھی اللہ کے علاوہ کسی کی نہیں ہو سکتی۔ حالانکہ لوگوں کیلئے ایک حاکم کا ہونا ضروری ہے۔ خواہ وہ اچھا ہو یا برا۔ (اگر اچھا ہو گا تو) مومن اس کی حکومت میں اچھے عمل کر سکے گا، (اگر برا ہو گا تو) کافر اس کے عہد میں لذائذ سے بہرہ اندوز ہو گا اور اللہ اس نظامِ حکومت میں ہر چیز کو اس کی آخری حدوں تک پہنچا دے گا۔ اسی حاکم کی وجہ سے مال (خراج و غنیمت) جمع ہوتا ہے، دشمن سے لڑا جاتا ہے، راستے پر امن رہتے ہیں اور قوی سے کمزور کا حق دلایا جاتا ہے، یہاں تک کہ نیک حاکم (مر کر یا معزول ہو کر) راحت پائے اور برے حاکم کے مرنے یا معزول ہونے سے دوسروں کو راحت پہنچے۔( نہج البلاغہ خطبہ 40)

2: بسیار روایات میں ائمہ اطہار علیھم السلام نے دستگاہ خلافت-جو دستگاہ جور تھی- میں داخل ہونے سے اپنے پیروکاروں کو شدت سے منع کیا ہے ۔

اور کچھ موارد ایسے بھی ہیں جن میں انہوں نے خود بعض افراد کو دستگاہ خلافت کے اندر کام کرنے کا حکم دیا ہے ۔

یہی چیز باعث شبہ بنی ہے۔

کچھ لوگ ان ارشادات کو دیکھ کر جن میں دستگاہ جور میں شامل ہونے سے منع کیا گیا ہے، یہی کہتے ہیں کہ جب تک امام معصوم علیہ السلام کی کوئی حکومت قائم نہیں ہوتی ہے ہم حکومتی مسائل سے دور رہیں گے ۔ البتہ ولی فقیہ کی حکومت کو کچھ ائمہ اطہار علیھم السلام کی حکومت کا ہی تسلسل سمجھتے ہیں کچھ کو اس میں بھی مسئلہ ہے۔

جبکہ دوسرا گروہ ان موارد کو دیکھ کر کہ جہاں ائمہ اطہار علیھم السلام نے خود ہی کچھ افراد کو دستگاہ خلافت میں شامل کیا ہے، اس قید کے ساتھ اجازت دیتے ہیں کہ اگر پیروان مکتب اہل بیت علیہم السلام کی خدمت کر سکتے ہیں تو جائز ہے ۔

لیکن استدلال کے یہ دونوں طریقے ہمارے مسئلے کے ساتھ منطبق نہیں ہیں، لہذا ہم ان کے استدلال کی صحت اور سقم سے بحث کو ضروری نہیں سمجھتے ہیں ۔

کیونکہ کسی بھی حکم سے پہلے اس کا موضوع ثابت ہونا، اور اس موضوع پر جاری حکم کی دلیل کا معلوم ہونا ضروری ہے۔

کیونکہ ہر موضوع کا اپنا حکم ہوتا ہے ۔ اس لئیے جب کوئی موضوع تبدیل ہو جائے یعنی اس کی ماہیت بدل جائے یا اس موضوع کا نحو استعمال اور استفادہ تبدیل ہو جائے تو اس کا حکم تبدیل ہو جاتا ہے ۔

بطور مثال اگر کتا نمک بن جائے تو پاک ہے کیونکہ اس کی ماہیت تبدیل ہوگئی اور یہ ایک نیا موضوع ہے۔

اسی طرح قدیم زمانے سے علماء خون کی خرید و فروش کو حرام سمجھتے تھے کیونکہ کسی شئی کی خرید و فروش میں ایسی مالیت کا ہونا ضروری ہے جو جائز منفعت کا نتیجہ ہو۔

خون میں ایسی کوئی منفعت نہیں تھی جبکہ آج خون انسان کی جان بچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے لہذا فقہا اس کی خرید و فروش کو جائز سمجھتے ہیں ۔

ایسی مثالیں بہت ہیں جن کا بیان مقصود نہیں ہے، ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں ۔

کیا ائمہ اطہار علیھم السلام نے حکومت کی نفی کی ہے یا ظلم اور ظالم کی تقویت کی نفی کی ہے؟؟

یقینا جواب یہی ہے کہ ائمہ اطہار علیھم السلام نے مطلق حکومت کی نفی نہیں کی ہے بلکہ ایسی حکومت کا حصہ بننے سے منع کیا ہے جس سے ظلم اور ظالم کی تقویت اور حق کی تضعیف ہوتی ہو۔

پہلی بات تو یہ ہے امام نے جس حکومت کا حصہ بننے سے منع کیا ہے اس کی دو عمدہ خصوصیات تھیں، جن میں سے کوئی ایک بھی جمہوریت میں نہیں ہے ۔

الف) خلافت امامت کے مقابلے میں ایک مکتب کا نام ہے اور حکومت اس مکتب کے نفاذ کا ذریعہ ہے ۔

ب) اس دستگاہ میں شمولیت سے باطل کی تقویت اور حق کی تضعیف ہوتی ہے ۔

جبکہ جمہوریت نہ کوئی مکتب ہے اور نہ اس سے باطل کی تقویت اور حق کی تضعیف ہوتی ہے ۔

بلکہ یہ بادشاہت اور آمریت کے مقابلے میں ایک طرز حکومت ہے جس میں فرد کے بجائے جمہور کی رائے موثر ہوتی ہے ۔

حیرت انگیز طور پر جو لوگ جمہوریت کو امامت کے مقابل سمجھ کر اس کی شدت سے نفی کرتے ہیں وہ ان مکاتب کو قبول کرتے ہیں جو امامت کے مقابلے میں وجود میں آئے ہیں ۔

اس بحث سے گریز کرتے ہوئے ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں ۔

جمہوریت کوئی سو فیصد درست طرز حکومت کا نام تو نہیں بے ،لیکن بادشاہت اور آمریت کے مقابلے میں بہتر ہے۔ لہذا اس کے اندر موجود خامیاں اس بات کی موجب نہیں بنتی ہیں کہ ہم آمریت یا بادشاہت کا انتخاب کریں ۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے پاس دو آپشن ہیں ۔

ہم حق رائے دہی کے ساتھ ملک کے امور میں دخالت دے کر ملک، قوم اور جمہوریت کی تقویت کریں یا کنارہ کش ہو کر ملک کے مسائل کو دوسروں کے حوالہ کریں کہ وہ جس طرح چاہیں ملک کے قوانین بنائیں اور ان کو لوگوں پر لاگو کریں؟

یقینا ہر عقل مند انسان اس بات کو جانتا ہے کہ اپنی قسمت کا قلمدان دوسروں کے ہاتھ میں سونپ کر تماشائی بننا حماقت ہے ۔

پس نہ جمہوریت امامت کے مقابلے میں کسی مکتب کا نام ہے اور نہ اس میں شمولیت باطل کی تقویت کا موجب ہے ،بلکہ اس سے دوری کم از کم حق اور اہل حق کی تضعیف کا باعث ہے لہذا تمام مجتھدین نے با الاتفاق جمہوری عمل میں حصہ لینے کو جائز سمجھا ہے اور بعض نے اس کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔

یہی معقول ترین رائے ہے۔

جمہوریت کے مخالفین کے پاس اپنے مدعا کی حقانیت پر ایک عینی دلیل ہے۔

وہ یہ کہ پچھلے پچھتر سالوں سے ملک میں جمہوریت ہے اور ملک نہ فقط آگے نہیں گیا ہے بلکہ زوال کی طرف گیا ہے لہذا ہمیں اپنے نظام حکومت پر تجدید نظر کرنا چاہیے اور اگر آپ جمہوریت پر ہی مصر ہیں تو کم از کم اتنی گنجائش پیدا کریں کہ وہ فوجی جمہوریت ہو۔

سب اس بات کو جانتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت سے زیادہ آمریت کا قبضہ رہا ہے اور جو جمہوری حکومتیں رہی ہیں وہ بھی آمریت ہی کی پیداوار اور آمریت کی زیر اثر رہی ہیں لہذا اصل اعتراض آمریت پر ہے نہ جمہوریت پر ۔

پاکستان کے علاوہ دنیا میں کئی ممالک ہیں جو جمہوری طرز حکومت میں آگے بڑھے ہیں،اگر جمہوریت کے اندر ہی مشکل ہوتی تو وہ ممالک بھی آگے نہ بڑھتے، لہذا معلوم ہوتا ہے کہ اصل مشکل جمہوریت سے زیادہ کہیں اور ہے۔

فوجی جمہوریت کی اصطلاح آمریت کو عوامی مشروعیت دینے کا ذریعہ تو بن سکتی ہے لیکن جمہوریت سے اس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ۔

یہ بات صحیح ہے کہ جمہوری عمل میں حصہ لینے والے علماء کا اصل کام صحیح ہونے کے باوجود ان کی روش اور طرز عمل قابل دفاع نہیں ہے ۔

شیعہ عمائدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شیعہ ووٹ کو موثر بنانے کے لیے اپنے ذاتی اور حزبی مفادات اور اختلافات سے بالاتر ہوکر حکمت عملی بنائیں ۔

یہ بات قطعا ملت تشیع کے حق میں نہیں ہے کہ ہم گروہوں میں بٹ کر دوسری جماعتوں کے لئے سہولت کاری کا کردار ادا کرتے رہیں ۔

نہیں معلوم ہمارے پاس وہ کونسا اختلاف ہے جو ہمیں ایک دوسرے کے نزدیک ہونے سے تو رکاوٹ بنتا ہے لیکن دوسری کسی بھی سیاسی پارٹی کے نزدیک ہونے سے مانع نہیں ہے ۔

اس شبے کو تقویت پہنچانے میں اس طرز عمل کا اہم کردار ہے ۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

2 × 2 =