اپریل 7, 2024

گلیات ریسٹ ہاؤسز کی لیز، پی ٹی آئی دور میں خزانے کو اربوں کا نقصان

سیاسیات-خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی دورحکومت میں گلیات کے ریسٹ ہاؤسز کو من پسند افراد کے ہاتھوں کوڑیوں کے مول لیز پر دینے کے عمل سے قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے، وزیراعلیٰ کے رشتے داروں، عمران کے قریبی ساتھیوں اور چہیتوں کو کوڑیوں کے دام پر لیز دی گئی۔

دستاویزات کے مطابق من پسند افراد کو نوازنے کے لیے 2015میں سیاحتی مقامات گلیات میں واقع سرکاری ریسٹ ہاوسز اور عمارتوں کو پہلے مرحلے میں گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے لے کر ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے زیرانتظام دیا گیا کیونکہ اس وقت عمران خان کے چہیتے بیوروکریٹ اعظم خان سیکرٹری ٹورزم تھے اور بعد ازاں اس ڈیپارٹمنٹ نے بورڈ کو بائی پاس کرکے یا پھر اسے بائس پاس کر انہیں اونے پونے داموں سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور دیگر عمارتیں وزیراعلیٰ کے رشتہ داروں،عمران خان کے قریبی ساتھی، پی ٹی آئی کے وابستکان اور دیگر چہیتوں میں اونے پونے داموں لیز پر الاٹ کروایا۔

تمام ریسٹ ہاؤسز کو مارکیٹ ریٹ کے بجائے نہایت ہی سستے داموں لیز پر دیا گیا اور یہاں تک کہ علاقے کے ڈی سی ریٹ کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا۔ ریٹریٹ ہاؤس نتھیاگلی اور ونڈیا کاٹج کو انضمام الحق نامی شخص کو 33لاکھ اور 10لاکھ سالانہ کرائے پر دیا گیا جس کی مارکیٹ ویلیو 665ملین اور165ملین بنتی تھی۔

ریٹریٹ ہاؤس 13کنال 6 مرلے اور ونڈیا کاٹج 3کنال6 مرلے پر محیط ہے۔ ایڈیشنل کاٹج، سیکریٹریٹ کاٹج اور رئیس خانہ نتھیا گلی کو آئی وی ٹورز کو 5سال کے لیے دیا گیا جس کی مدت مزید 5 سال کے لیے بڑھائی جاسکتی تھی جب کہ اسے غیر قانونی طور پر بعد میں 15سال کر دیا گیا۔ریٹریٹ ہاؤس نتھیاگلی کا رقبہ 1کنال 8مرلے ہے۔

اس کو صرف 12لاکھ سالانہ پر دیا گیا جس کی مارکیٹ ویلیو 98 ملین بنتی ہے۔ معاہدے کی خلاف وزری کرتے ہوئے یہاں 2020میں گرے کیفے کے نام سے کیفے بھی تعمیر کیا گیا۔ یہ کیفے 8مرلے کی جگہ پر 2گیراج کو غیر قانونی طور پر مسمار کر کے تعمیر کیا گیا۔2 سیکریٹریٹ کاٹج کو سالانہ 10لاکھ روپے پر دے دیا گیا۔

 

بشکریہ جیو نیوز

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

sixteen − two =