جون 13, 2024

کشتی ڈوبنے سے پاکستانیوں کی زیادہ اموات کیوں ہوئیں؟ سنسنی خیز انکشافات

سیاسیات-یونان میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے افسوسناک حادثے میں بچ جانے والے مسافروں نے حادثے میں پاکستانیوں زیادہ اموات ہونے سے متعلق سنسنی خیز انکشاف کیے ہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق یونان کے ساحل کے قریب ڈوبنے والی کشتی کے بچ جانے والے مسافروں نے کوسٹ گارڈز سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستانی مسافروں کو کشتی کے نچلے حصے میں جانے پر مجبور کیا گیا جبکہ دوسری قومیت والوں کو کشتی کے اوپری حصے میں جانے کی اجازت تھی۔

مسافروں نے کوسٹ گارڈز کو بتایا کہ کشتی کے اوپری حصے کے مسافروں کے بچنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، کشتی کے نچلے حصے سے پاکستانی اوپر آنا چاہتے تو ان سے بدسلوکی کی جاتی، خواتین اور بچوں کو بظاہر مردوں کی موجودگی کے سبب بند جگہ پر رکھا گیا تھا۔

بچ جانے والے مسافروں نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈوبنے سے پہلے ہی پانی کی عدم دستیابی پر کشتی میں 6 اموات ہو چکی تھیں، کشتی ڈوبنے سے تین روز پہلے کشتی کا انجن بھی فیل ہو گیا تھا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق کشتی میں 100 سے زیادہ بچے موجود ہونے کا بتایا گیا ہے لیکن بچ جانے والے مسافروں میں کسی خاتون یا بچے کے شامل ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق کشتی کے ڈوبنے والوں میں تقریباً 300 پاکستانی ہیں جبکہ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے اندازے کے مطابق کشتی پر 400 پاکستانی تھے جن میں سے صرف 12 زندہ بچے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یونان کے ساحلی علاقے میں 14 جون بروز بدھ کو کشتی ڈوبنے کا حادثہ ہوا تھا، کشتی ڈوبنے سے 78 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 104 کو بچا لیا گیا تھا، کشتی میں پاکستانی، مصری، شامی اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 750 تارکین وطن سوار تھے۔

ادھر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے یونان میں ہونے والے کشتی حادثے کی وجوہات کے تعین کے لیے تحقیقات کرنے کی ہدایت کر دی ہے اور اس حوالے سے ایک 4 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دیدی گئی ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر ایف آئی اے نے ڈی آئی جی عالم شنواری کو واقعے میں جاں بحق افراد اور زخمیوں کی معلومات اور سہولت کے لیے فوکل پرسن مقرر کر دیا ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

eighteen + 17 =