جولائی 16, 2024

ڈی آئی خان میں دہشتگردانہ حملہ، افغانستان ٹی ٹی پی قیادت کو ہمارے حوالے کرے۔ پاکستان

سیاسیات- وزارت خارجہ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر دہشتگردانہ حملے کے بعد افغان ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج، مرتکب افراد کے خلاف سخت کاروائی اور  ٹی ٹی پی کی قیادت کو پاکستان کےحوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر منگل کو دہشت گردانہ حملے، جس میں 25 اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے، کے بعد سیکریٹری خارجہ نے افغان عبوری حکومت کے ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا۔

دہشت گردانہ حملے کی ذمےداری تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ ایک دہشت گرد گروپ تحریک جہاد پاکستان نے قبول کی ہے۔

سیکریٹری خارجہ نے افغان  ناظم الامور سے دہشت گردانہ حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر افغان عبوری حکومت کو آگاہ کریں کہ حملے کے مرتکب افراد اور افغانستان میں ٹی ٹی پی کی قیادت کو پکڑ کر حکومت پاکستان کے حوالے کیا جائے۔

سیکریٹری خارجہ  نے مزید کہا  کہ  افغان حکومت حالیہ حملے کے مرتکب افراد کے خلاف مکمل تحقیقات اور سخت کاروائی کی جائے، اور دیگر تمام دہشت گرد گروہوں (ان کی قیادت سمیت) اور ان کی پناہ گاہوں کے خلاف فوری طور پر کاروائیاں کرے۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق افغان ناظم  الامور سے کہا گیا کہ افغان حکومت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے مسلسل استعمال کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔

ترجمان کے مطابق آج کا دہشت گردانہ حملہ خطے میں امن و استحکام کے لیے دہشت گردی کے خطرے کی ایک اور یاد دہانی ہے، اس لعنت کو شکست دینے کے لیے ہمیں اپنی تمام تر اجتماعی طاقت کے ساتھ عزم سے کام لینا چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی سے نمٹنے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

eleven − three =