جون 12, 2024

پُرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل کیا ہے؟

سیاسیات- سینیٹ میں پُرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل آج پیش کیا جائے گا۔ روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ بل کے متن کے مطابق پُرتشدد انتہاپسندی سے مراد نظریاتی عقائد، مذہبی و سیاسی معاملات میں طاقت کا استعمال، تشدد، فرقہ واریت کی خاطر دھمکانا یا اکسانا، فرقہ واریت کی ایسی حمایت کرنا جس کی قانون میں ممانعت ہے۔ پُر تشدد انتہا پسندی میں کسی فرد یا تنظیم کی مالی معاونت کرنا ہے جو پُر تشدد انتہا پسند ہو، پُر تشدد انتہا پسندی میں دوسرے کو طاقت کے استعمال، تشدد اور دشمنی کیلئے اکسانا شامل ہے۔ بل کے مطابق شیڈول میں شامل شخص کو تحفظ اور پناہ دینا پُر تشدد انتہا پسندی ہے، پُر تشدد انتہا پسندی کی تعریف کرنا اور اس کے لیے معلومات پھیلانا پُر تشدد انتہا پسندی میں شامل ہے، حکومت کسی شخص یا تنظیم کو پُر تشدد انتہا پسندی پر لسٹ 1 اور 2 میں شامل کر سکتی ہے۔ لسٹ ون میں وہ تنظیم ہو گی جو پُر تشدد انتہا پسندی میں ملوث ہو، جس کا سربراہ پُر تشدد ہو، لسٹ ون میں نام بدل کر دوبارہ منظرِ عام پر آنے والی تنظیمیں بھی شامل ہوں گی۔

“جنگ” کے مطابق مجوزہ بل کے مطابق لسٹ 2 میں ایسے افراد شامل ہیں جو پُر تشدد انتہا پسندی میں ملوث ہوں، لسٹ 2 میں پُر تشدد ادارے، لیڈر یا پُر تشدد ادارے کی مالی معاونت کرنیوالے بھی شامل ہوں گے، حکومت پُر تشدد فرد اور پُر تشدد تنظیم کی میڈیا تک رسائی یا اشاعت پر پابندی لگائے گی۔ پُر تشدد فرد یا تنظیم کے لیڈر یا فرد کی پاکستان میں نقل وحرکت یا باہر جانے پر پابندی ہو گی، حکومت پُر تشدد تنظیم کے اثاثوں کی چھان بین کرے گی اور اس کے لیڈر، عہدے داروں اور ممبران کی سرگرمیاں مانیٹر کرے گی۔ بل کے مطابق پُر تشدد تنظیم کے لیڈر، عہدے داروں اور ممبران کا پاسپورٹ ضبط ہو گا، بیرونِ ملک سفر کی اجازت نہیں ہو گی، اس تنظیم کے لیڈر، عہدے دارن، ممبران کا اسلحہ لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا اور ان کے اثاثے، پراپرٹی اور بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیے جائیں گے۔ پُر تشدد تنظیم کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہو گی، کوئی مالیاتی ادارہ اس تنظیم کے لیڈر، ممبر یا عہدے دار کو مالی معاونت نہیں دے گا، حکومت پُرتشدد فرد کو علاقہ چھوڑنے یا علاقے میں رہنے کی ہدایت کرے گی اور اس شخص اور اہلِ خانہ، بہن بھائی، رشتے داروں کے اثاثوں کی چھان بین کرے گی۔ حکومت پُر تشدد شخص کی مانیٹرنگ کرے گی، متعلقہ شخص کو ڈی ریڈیکلائزیشن کی تربیت دے گی اور اس شخص کا پاسپورٹ ضبط کیا جائے گا، بیرونِ ملک سفر کی اجازت نہیں ہو گی۔

بل کے مطابق پُر تشدد شخص کا اسلحہ لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا، اس کے اثاثے منجمد کر دیئے جائیں گے اور کوئی مالیاتی ادارہ قرض نہیں دے گا، اس کو کسی بھی سطح پر الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ حکومت تنظیم کا رویہ دیکھ کر اسے لسٹ ون یا 2 سے نکالنے کا دوبارہ جائزہ لے سکتی ہے، متاثرہ تنظیم یا فرد 30 دن میں جائزہ کمیٹی کے سامنے درخواست دائر کر سکے گا، متاثرہ تنطیم یا فرد درخواست مسترد ہونے پر ہائیکورٹ میں اپیل کر سکیں گے۔ متعلقہ محکمہ کسی بھی وقت فرد یا تنظیم کو لسٹ سے نکال سکتا ہے، ڈی لسٹ ہونے پر فرد یا تنظیم 6 ماہ زیرِ مشاہدہ رہے گی اور مدت بڑھائی بھی جا سکتی ہے، حکومت پُر تشدد افراد کی بحالی اور ڈی ریڈیکلائزیشن کیلئے ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹر بنائے گی اور پُر تشدد انتہا پسندی کے مقابلے کا ریسرچ سینٹر قائم کرے گی۔ مجوزہ بل کے متن کے مطابق تعلیمی ادارے پُر تشدد انتہا پسندی کے اقدام کی حکومت کو فوری اطلاع دیں گے، تعلیمی اداروں میں کسی شخص کو پُر تشدد انتہا پسندی میں ملوث ہونے یا پرچار کی اجازت نہیں ہو گی، کوئی سرکاری ملازم نہ خود نہ اپنے اہلِ خانہ کو پُر تشدد انتہا پسندی میں ملوث ہونے دے گا۔ پُر تشدد انتہا پسندی کے مواد کو سوشل میڈیا سے فوری ہٹا دیا جائے گا یا بلاک کر دیا جائے گا، قابلِ سزا جرم سیشن کورٹ کے ذریعے قابلِ سماعت ہو گا، معاملے کی پولیس یا کوئی اور ادارہ تحقیقات اور انکوائری کرے گا۔

بل کے مطابق پُر تشدد انتہا پسندی پر 3 سے 10 سال تک قید کی سزا اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا، اس قانون کی خلاف ورزی پر 1 سے 5 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گاْ۔ پُر تشدد انتہا پسندی میں ملوث تنظیم کو 50 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا اور تنظیم تحلیل کر دی جائے، قانون کی خلاف ورزی کرنے والی تنظیم کو 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا، جرم ثابت ہونے پر فرد یا تنظیم کی پراپرٹی اور اثاثے ضبط کر لیے جائیں گے۔ مجوزہ بل کے متن کے مطابق معاونت یا سازش یا اکسانے پر بھی 10 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا، جرم کرنے والے شخص کو پناہ دینے والے کو بھی قید اور جرمانہ ہو گا، حکومت کو معلومات یا معاونت دینے والے شخص کو تحفظ فراہم کیا جائے گا، لسٹ میں شامل شخص کو 90 دن سے 12 ماہ تک حراست میں رکھا جا سکے گا، متاثرہ شخص کو ہائیکورٹ میں اپیل کا حق حاصل ہو گا۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

fourteen + 4 =