جولائی 17, 2024

پشاور دھماکہ ڈرون نہیں خود کش حملہ تھا حملہ آور کو ٹریس کر لیا گیا ہے۔ آئی جی کے پی کے

سیاسیات- خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس معظم جاہ انصاری نے پشاور پولیس لائنز کی مسجد پر ڈرون حملے کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خودکش دھماکہ تھا اور حملہ آور کو ٹریس کرلیا گیا ہے، جو پولیس کی وردی میں ملبوس تھا۔

30 جنوری کو پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 100 سے زائد اموات ہوچکی ہیں جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ جان سے جانے والوں میں زیادہ تعداد پولیس اہلکاروں کی تھی، جس کے بعد صوبائی پولیس کے سکیورٹی اقدامات پر بھی تنقید کی گئی۔

جمعرات کو پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران معظم جاہ انصاری حملے کے بعد صوبائی پولیس پر ہونے والی تنقید پر سخت برہم نظر آئے۔

انہوں نے پشاور حملے کو ’اپنی کوتاہی‘ قرار دیتے ہوئے خیبرپختونخوا کے پولیس اہلکاروں پر ہونے والی تنقید کا جواب دیا اور کہا کہ ان کے جوانوں سے غلطی ہوئی۔ وہ ہر کسی کو ٹریس نہیں کر سکتے۔

معظم جاہ انصاری کے مطابق حملہ آور پولیس کی وردی میں ملبوس اور موٹر سائیکل پر آیا تھا، جس نے ماسک پہن رکھا تھا، لیکن خیبر روڈ سے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں اس کا چہرہ دیکھ لیا گیا ہے۔

آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ ان کے جوانوں سے غلطی ہوئی کہ انہوں نے اپنی وردی دیکھ کر، اپنا بھائی سمجھ کر اسے جانے دیا۔

ساتھ ہی انہوں نے پشاور دھماکے کے بعد منظر عام پر آنے والی ’سازشی تھیوریوں‘ اور تنقید کے جواب میں کہا: ’میں آپ کو یہ بتاؤں کہ یہ افواہیں، یہ سازشی تھیوریاں، یہ فضول باتیں ہیں۔ میرے لوگوں کو، میرے بچوں کو احتجاج پر اکسانا میری تکلیف میں اضافہ کر رہا ہے۔‘

پولیس لائنز مسجد پر حملے کے بعد گذشتہ روز پشاور پریس کلب کے باہر خیبر پختونخوا پولیس کے جوان نعرہ بازی کرتے ہوئے دھماکے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

18 − thirteen =