مئی 20, 2024

پاکستان اور پنجاب کی سیاست کا مرکز لاہور اس دفعہ بھی توجہ کا مرکز

سیاسیات-عام انتخابات 2024 کے لیے ملک بھر میں الیکشن کا پنڈال سج چکا ہے اور سیاست کے بڑے بُرج زندہ دلان لاہور میں ووٹ کی طاقت کے ذریعے عوامی مقبولیت دکھانے کے لیے تیار ہیں۔ 

انتخابی معرکوں میں سابق اراکین اسمبلی، سابق وزیراعظم و وزرائے اعلیٰ، سابق گورنر اور پارٹی سربراہان اپنی جیت کے لیے پر عزم ہیں۔

لاہور جسے زندہ دلانِ لاہور کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ہمیشہ سے پاکستان اور پنجاب کی سیاست کا مرکز و محور رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہاں سے نامور سیاستدانوں کا انتخابات میں حصہ لینا ہے۔

عام انتخابات 2024 میں بھی لاہور سے قومی اسمبلی کی 14 نشستوں پر مختلف سیاسی مخالفین مدِ مقابل ہیں اور اس بار لاہور پہلے سے زیادہ توجہ کا مرکز و محور بنا ہوا ہے۔

عبدالعلیم خان بمقابلہ علی اعجاز بٹر

عبدالعلیم خان استحکام پاکستان پارٹی کے صدر ہیں اور وہ حلقہ 117 لاہور سے مسلم لیگ ن کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ الیکشن لڑ  رہے ہیں۔

ان کے مد مقابل پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار علی اعجاز بٹر اور پیپلز  پارٹی کے آصف ہاشمی اہم امیدوار ہیں۔

عبدالعلیم خان نے اپنی سیاست کا آغاز سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ ق سے کیا اور 2002 میں پہلی مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر بنے، وہ 2018 میں بھی پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن جیتے تاہم پارٹی قیادت سے اختلافات کے باعث انہوں نے تحریک انصاف سے اپنی راہیں جدا کر لی تھیں۔

حمزہ شہباز شریف بمقابلہ شاہد عباس

سابق وزیر اعلی پنجاب محمد حمزہ شہباز شریف حلقہ 118 لاہور سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جس میں ان کے مدِ مقابل پاکستان پیپلز  پارٹی سے تعلق رکھنے والے امیدوار شاہد عباس ہیں۔

اس کے علاوہ اس حلقے سے تحریک لبیک پاکستان کے امید وار عابد حسین، جماعت اسلامی کے محمد شوکت اور جے یو آئی کے محمد افضل سمیت دیگر امید وار شامل ہیں۔

حمزہ شہباز شریف سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے بڑے بیٹے ہیں، انہوں نے ستمبر 2018 سے اپریل 2022 تک پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور 20 کتوبر کو دوبارہ یہ ذمہ داری شروع کی اور اسمبلی کی تحلیل تک جاری رہے، وہ مختصر عرصے کے لیے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر بھی فائز  رہے۔

مریم نواز شریف بمقابلہ شہزاد فاروق

مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر مریم نواز  کو  لاہور کے حلقہ این اے 119 سے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار شہزاد فاروق اور  پیپلز پارٹی سے مقابلے کا چیلنج درپیش ہے۔

اس حلقے کو مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھا جا تا ہے، اسی وجہ سے مریم نواز کے لیے یہ حلقہ منتخب کیا گیا اور وہ پہلی بار یہاں سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑ رہی ہیں۔

مریم نواز نے 2018 میں بھی اسی حلقے سےکاغذات جمع کروائے تھے لیکن الیکشن سے پہلے ہی انہیں نا اہل کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ گزشتہ عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکی تھیں۔

خواجہ سعد رفیق بمقابلہ سردار لطیف کھوسہ

این اے 122 لاہور سے ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امید وار اور سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ میں اہم مقابلہ متوقع ہے۔

دیگر امیدواروں میں جماعت اسلامی کی ڈاکٹر زیبا اور مرکزی مسلم لیگ سے حافظ سعید کے صاحبزادے حافظ طلحہ سعید بھی میدان میں ہیں۔

اس حلقے سے سعد رفیق متعدد بار  رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، حالیہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سردارلطیف کھوسہ ہیں جنہوں نے حال ہی میں پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحر یک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے۔

میاں شہباز شریف بمقابلہ لیاقت بلوچ

میاں شہباز شریف قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 123 لاہور اور این اے 132 قصور سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔

این اے 123 لاہور سے شہباز شریف کے مدمقابل جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ ہیں جبکہ این اے 132 قصور میں ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سردار محمد حسین ڈوگر، تحریک لبیک کے فقیر حسین اور ابتسام الہٰی ظہیر ہیں۔

تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سردار محمد حسین ڈوگر 2 مرتبہ ایم پی اے رہ چکے ہیں جبکہ معروف عالم دین ابتسام الہٰی ظہیر مشہور عالم دین علامہ احسان الہٰی ظہیر کے صاحبزادے ہیں۔

بلاول بمقابلہ عطا تارڑ

اس بار چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی کراچی کو چھوڑ کر لاہور سے اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔

این اے 127 لاہور میں چیئرمین پیپلز پارٹی کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے متحرک وکیل رہنما عطا تارڑ سے ہے اور یہ حلقہ بلاول بھٹو زرداری کے الیکشن میں حصہ لینے کی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

نواز شریف بمقابلہ ڈاکٹر یاسمین راشد

نواز شریف کے آبائی حلقہ این اے 130 لاہور سے کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جارہی ہے، یہ نشست مسلم لیگ ن کی محفوظ نشست تصور کی جاتی ہے، یہاں سے ن لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف اور تحریک انصاف کی حمایت یافتہ ڈاکٹر یاسمین راشد مدمقابل ہیں۔

اس کے علاوہ اس نشست پر پیپلز پارٹی سے اقبال احمد خان، جماعت اسلامی سے خلیق احمد بٹ اور تحریک لبیک پاکستان سے خرم ریاض پنجہ آزمائی کر رہے ہیں۔

میاں محمد نواز شریف تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب اور صوبائی وزیر خزانہ رہ چکے ہیں جبکہ یاسمین راشد پی ٹی آئی کی حکومت میں وزیر صحت کی ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں۔

علاوہ ازیں نواز شریف این اے 15 مانسہرہ سے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں، ان کے مدمقابل مضبوط امیدواروں میں تجربہ کار سیاست دان پی ٹی آئی کے شہزادہ گستاسپ خان اور پیپلز پارٹی کے زرگل خان ہیں۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

19 + eleven =