جون 3, 2024

وفاقی بجٹ: پیپلز پارٹی کی مسلم لیگ ن پر شدید تنقید

سیاسیات- قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد میں دراڑیں اس وقت نظر آئیں جب وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے سندھ حکومت کوسیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے وعدے کے مطابق فنڈز فراہم نہ کرنے اور ٹیکس میں صوبے کے حصے کی رقم سے انکار کرنے پر حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ذرائع  کے مطابق پیپلز پارٹی کے قانون سازوں نے اپنی تقاریر میں مسلم لیگ (ن) پر غریبوں کو ریلیف دینے، قیمتوں میں کمی اور توانائی کے بحران کے حل کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کا الزام لگایا اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے ابہام پر تشویش کا اظہار کیا۔

بجٹ میں تمام خرابیوں اور نقائص کا ذمہ دار مسلم لیگ (ن) کو ٹھہراتے ہوئے پیپلز پارٹی کے قانون سازوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا کریڈٹ سابق صدر آصف علی زرداری کو جاتا ہے، جن کے اصرار پر حکومت اضافہ کرنے پر راضی ہوئی۔

اسی طرح پیپلزپارٹی کے متعدد اراکین قومی اسمبلی نے اپنی پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی ’کامیاب‘ خارجہ پالیسی اور سیلاب زدہ علاقوں کے لیے امداد حاصل کرنے پر تعریف کی اور عالمی فورمز پر ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے کو مؤثر طریقے سے اٹھایا۔

تاہم مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کسی نے بھی پیپلزپارٹی کے ارکان کو براہ راست جواب نہیں دیا بلکہ وہ اپنی تقاریر میں موجودہ معاشی حالات میں ’بہترین ممکنہ بجٹ‘ پیش کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی تعریفیں کرتے رہے۔

سندھ کے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے فنڈز جاری نہ کرنے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے اراکین کی شکایات کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے مختصراً کہا کہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکز سندھ حکومت کے ساتھ مل کر گزشتہ سال شدید سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہونے والے لوگوں کی امداد اور بحالی سے متعلق معاملات پر مزید غور کرے گا۔

اس سے پہلے دن میں پیپلز پارٹی کے ایک رکن نے بھی بجٹ کو ’غیر حقیقی‘ قرار دیتے ہوئے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے دوران یہ مسئلہ اٹھایا تھا تاہم وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے زبردستی بجٹ کا دفاع کیا اور اس تاثر کی تردید کی کہ انہوں نے اسے متوقع بجٹ کو مدنظر رکھ کر پیش کیا ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

8 − 2 =