اپریل 12, 2024

نگران حکومت کے اختیارات سے متعلق شق 230 میں ترمیم

سیاسیات-نگران حکومت کے اختیارات سے متعلق حکومت اتحادیوں کو منانے میں کامیاب ہوگئی جس کے بعد شق 230 میں ترمیم کر دی گئی۔

تحفظات دور کرنے کے لیے پارلیمنٹری کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس ہوا جس پی ٹی آئی کے بیرسٹر علی ظفر اور پیپلز پارٹی کے نوید قمر شریک ہوئے۔

تحریک انصاف نے نگراں حکومتوں کو اضافی اختیارات کی مخالفت کر دی، تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر انتخابی اصلاحات کمیٹی سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔

حکومت نے نگراں حکومت کے اختیارات سے متعلق شق 230 بل سے نہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق نگراں حکومت کو دو فریقی اور سہ فریقی معاہدوں کا اختیار ہوگا۔  نگراں حکومت کو پہلے سے جاری منصوبوں پر اداروں سے بات کرنے کا اختیار ہوگا۔

نگراں حکومت کے اختیارات محدود ہوں گے جو کہ کوئی نیا معاہدہ نہیں کر سکے گی، نگراں حکومت پہلے سے جاری پروگرام اور منصوبوں سے متعلق اختیار استعمال کر سکے گی۔

انتخابات ترمیمی بل 2023 پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کر دیا گیا جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ انتخابی اصلاحات بل میں سیکشن 230 کے علاوہ تمام سیکشنز پر کمیٹی کا اتفاق تھا۔

انہوں نے کہا کہ کل نگراں حکومت کے اختیارات کے معاملے پر ایشو بنا لیکن آج سردار ایاز صادق کی سربراہی میں کمیٹی کا ایک وضاحتی اجلاس ہوا ہے جس میں نگراں حکومت کے مزید وضاحت کر دی گئی ہے اور اب تمام ترامیم پر اتفاق ہوگیا ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے سیکشن 230 کے کلاز دو اے کی منظوری دے دی، سیکشن 230نگرں وزیر اعظم کے اختیارات سے متعلق ہے۔ میاں رضا ربانی اور پی ٹی آئی نے نگراں وزیر اعظم کو مزید اختیارات دینے کی مخالفت کی ہے۔

وزیر قانون اعظم تارڑ نے وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی کی ترمیم کی حمایت کی جبکہ سینیٹر مشتاق احمد خان کی ترمیم کی مخالفت کر دی۔ ایوان نے کثرت رائے سے سینیٹر مشتاق کی ترمیم مسترد کر دی۔ پی پی پی جام مہتاب نے اپنی ترمیم واپس لے لی۔

تحریک انصاف نے مشترکہ اجلاس کورم پوائنٹ آؤٹ کر دیا، محسن عزیز نے کورم کی نشاندہی کی۔ کورم کی نشاندہی کے ساتھ ہی پی ٹی آئی ارکان ایوان سے باہر چلے گئے۔

کورم کی نشاندہی پر اسپیکر نے گنتی کی ہدایت کی جس پر انتخابات ایکٹ بل کی منظوری کا عمل رک گیا۔ حکومت کو مشترکہ اجلاس کا کورم پورا کرنے کے لیے 113 ارکان کی ضرورت ہے تاہم کورم پورا ہونے پر قانون سازی کا عمل دوبارہ شروع ہوگیا۔

رضا ربانی

پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما رضا ربانی نے ایک بار پھر نگراں حکومت سے متعلق شق کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے الیکشن ایکٹ میں دیگر ترامیم پر کوئی اختلاف نہیں ہے، سیکشن 230 میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جس پر اختلاف تھا اور وزیر قانون کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ سیکشن 230 سے کچھ شقیں نکال دی گئی ہیں اور کچھ کو بہتر کر لیا گیا ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ نگران حکومت کے اختیارات کو مزید بڑھانا درست نہیں ہے، پہلی بار ہوا کہ وزیراعظم کو خود کئی بار آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر سے ٹیلی فون پر بات کرنی پڑی، نئی نئی روایات رکھی جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی سامراج کے کہنے پر ہمیں اپنی اسکیم سے ہٹنا پڑ رہا ہے، اب نیشنل انٹرسٹ کی جگہ اکنامک اور سیکیورٹی انٹرسٹ نے لے لی ہے۔

پی پی پی کے سینیٹر رضا ربانی نے پھر نگراں وزیر اعظم کو آئی ایم ایف طرز کے معاہدوں جیسے اختیارات دینے کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ جب بھی نگرانوں نے ایسے معاہدے کیے اس کے نتائج بھگتنا پڑے، پاکستان کے وزیر اعظم کے اسٹیٹس کے خلاف تھا کہ وہ آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر سے بات کریں اور یہ کہاں ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف سیاسی جماعتوں کے پاس جاکر پوچھیں کہ کیا وہ آئی ایم ایف کے معاہدے کی سپورٹ کریں گے۔ آئی ایم ایف کا سیاسی جماعتوں سے پوچھنا پاکستان کی خود مختاری میں مداخلت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج نگرانوں کو جو اختیارات دیے جا رہے ہیں وہ آپ منتخب وزیر اعظم کو بھی نہیں دے سکتے، سامراج کے بازو مروڑنے کے طریقے بدل گئے ہیں اور آج ہمیں آئینی اسکیم بدلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ بتایا جائے نجکاری کس ڈے ٹو ڈے بزنس میں آتی ہے، جس نگراں نے 60 روز میں انتخابات کرانے ہیں اس کو نجکاری کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں۔ معین قریشی کے آئی ایم ایف سے معاہدے کے نتائج ہم بھگت چکے ہیں، میں نگراں وزیر اعظم کو سیکشن 230 کے اختیارات دینے کی مخالفت کرتا ہوں اس لیے سیکشن 230 کی ترمیم کو واپس لیا جائے۔

سینیٹر علی ظفر تحریک انصاف

اضافی اختیارات کی مخالفت کرنے والے تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ انتخابات ترمیمی بل میں تین ترامیم شامل تھیں، بل میں دو ترامیم صرف پی ٹی آئی کے لیے شامل کی گئی تھیں لیکن انتخابات ترمیمی بل بارے پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت حکومت پارلیمان کے تابع ہے، آئین میں نگران حکومت اور وزیراعظم کی تعریف مخصوص ہے، آئین میں نگراں حکومت کی ذمہ داری اور دائرہ کار واضح ہے۔ نگراں حکومت منتخب حکومت کی جگہ نہیں لے سکتی، نگراں کو منتخب حکومت کے اختیارات دینا آئین کا قتل ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نگراں حکومت کو اختیار دینا آئین کی خلاف ورزی ہے، نگراں حکومت کو اختیار دینے والے خواجہ آصف خود نگراں حکومت کے اختیارات کے خلاف سپریم کورٹ گئے تھے۔ نگراں حکومت کے اختیار سے متعلق شق میں ترمیم کرنا کافی نہیں اور اگر نگراں حکومت کے اختیارات سے متعلق شق نہ ختم کی تو سپریم کورٹ اڑا دے گی۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ کل ایسی ترامیم پارلیمنٹ میں لائی گئی جس سے پارلیمانی جمہوریت کا سارا تصور تبدیل ہو جائے گا، اس ترمیم کا وزیر قانون نے بھی اعتراف کیا ہے اور نگراں حکومت کو مستقل سیٹ اَپ نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی ترمیمی بل میں کی گئی ترامیم کافی نہیں ہیں اگر پارلیمنٹ نے ترامیم مسترد نہیں کیں تو دس دن بعد سپریم کورٹ کر دے گی، نگراں حکومت ایسے اقدامات نہیں کر سکتی جسے بعد میں تبدیل نہ کیا جا سکے، نگراں حکومت کا کام صرف شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانا ہے۔

نگراں سیٹ اَپ سے متعلق بل

واضح رہے کہ حکومت نے نگراں سیٹ اَپ کو مزید اختیارات دینے کے لیے ارکان کو اعتماد میں لیے بغیر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکشن ایکٹ میں مزید ترامیم پیش کی تھیں جس پر اتحادی اور اپوزیشن ارکان برہم ہوئے اور اعتماد میں لیے بغیر ترامیم منظور کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

الیکشن ایکٹ 2023ء بل کے مسودے میں 54 ترامیم شامل ہیں، شق 230 میں ترامیم کے ذریعے نگراں حکومت دیگر ممالک اور عالمی اداروں سے معاہدے کرسکے گی، اسے ملکی معیشت کے مفاد میں اہم فیصلوں کا اختیار حاصل ہوگا۔

الیکشن ایکٹ کی شق 230 کی سب کلاز 2 اے میں ترمیم کے ذریعے نگران حکومت کو اضافی اختیارات حاصل ہوں گے، نگران حکومت کو ملکی معیشت کے بہتر مفاد سے متعلق ضروری فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، نگراں حکومت ایسے اقدامات کرنے کی مجاز ہوگی جو بین الاقوامی اداروں اور غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ معاہدوں سے متعلق ہو۔

الیکشن ایکٹ میں شامل دیگر ترامیم کے مطابق پریذائیڈنگ آفیسر نتیجہ فوری طور پر الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ آفیسر کو بھیجنے کا پابند ہوگا، پریذائیڈنگ آفیسر حتمی نتیجے کی تصویر بنا کر ریٹرننگ آفیسر اور الیکشن کمیشن کو بھیجے گا، انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی صورت میں پریذائیڈنگ آفیسر اصل نتیجہ فیزیکلی پہنچانے کا پابند ہو گا۔

پریذائیڈنگ آفیسر الیکشن کی رات 2 بجے تک نتائج دینے کا پابند ہوگا، پریذائیڈنگ آفیسر کو تاخیر کی صورت میں ٹھوس وجہ بتانی ہوگی،  پریذائیڈنگ آفیسر کے پاس الیکشن نتائج کے لیے اگلے دن صبح دس بجے کی ڈیڈ لائن ہوگی۔

الیکشن کمیشن پولنگ سے ایک روز قبل شکایات نمٹانے کا پابند ہوگا، نادرا کا ادارہ الیکشن کمیشن کو نئے شناختی کارڈ کے ریکارڈ کی فراہمی کا پابند ہوگا، امیدوار 60 روز میں قومی اسمبلی یا سینیٹ کی نشست پر حلف لینے کا پابند ہوگا، حلف نہ لینے پر سیٹ خالی تصور کی جائے گی، سینیٹ  اور ٹیکنو کریٹ کی نشست پر تعلیمی قابلیت کے علاوہ 20 سالہ تجربہ بھی درکار ہوگا۔

پولنگ ڈے سے 5 روز قبل پولنگ اسٹیشن تبدیل نہیں کیا جاسکے گا، انتخابی اخراجات کے لیے امیدوار پہلے سے زیر استعمال بینک اکاؤنٹ استعمال کرسکیں گے، حلقہ بندیاں رجسٹرڈ ووٹرز کی مساوی تعداد کی بنیاد پر کی جائیں گی، حلقہ بندیوں کا عمل انتخابی شیڈول کےاعلان کے 4 ماہ قبل مکمل ہوگا۔

تمام انتخابی حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد برابر ہوگی، حلقوں میں ووٹرز کی تعداد میں فرق 5 فیصد سے زائد نہیں ہوگا، حلقہ بندیوں کے خلاف شکایت 30 روز میں کی جاسکے گی۔

الیکشن کمیشن پولنگ عملے کی تفصیلات ویب سائٹس پر جاری کرے گا، پولنگ عملہ انتخابات کے دوران اپنی تحصیل میں ڈیوٹی نہیں دے گا، پولنگ اسٹیشن میں کیمروں کی تنصیب میں ووٹ کی رازداری یقینی بنائی جائے گی، کاعذات نامزدگی مسترد یا واپس لینے پر امیدوار کو فیس واپس کی جائےگی، امیدوار ٹھوس وجوہات پر پولنگ اسٹسشن کے قیام پراعتراض کرسکےگا۔

حتمی نتائج کے تین روز کے اندر سیاسی جماعتیں مخصوص نشستوں کی حتمی ترجیحی فہرست فراہم کریں گی، قومی اسمبلی کی نشست کیلئے 40 لاکھ سے ایک کروڑ تک خرچ کرنے کی حد ہوگی، صوبائی نشست کے لیے انتخابی مہم پر 20 سے 40 لاکھ روپے تک خرچ کیے جاسکیں گے۔

غفلت پر پریزائیڈنگ اور ریٹرنگ افسر کے خلاف فوج داری کارروائی کی جائے گی، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا فیصلہ 15 کے بجائے 7 روز میں کیا جائے گا، پولنگ عملے کی حتمی فہرست الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جائے گی، امیدوار 10 روز کے اندر حلقے میں پولنگ عملے کی تعیناتی چیلنج کرسکے گا۔

سیکیورٹی اہلکار پولنگ اسٹیشن کے باہر ڈیوٹی دیں گے، ہنگامی صورتحال میں پرائیڈنگ افسر کی اجازت سے پولنگ اسٹیشن کے اندر آسکے گے، الیکشن کمیشن ریٹرننگ آفیسر کو ماتحت حلقے کی ووٹر لسٹ پولنگ سے 30 روز قبل فراہم کرنے کا پابند ہوگا، معذور افراد کو ووٹ کی سہولیات پریزائڈنگ آفیسر دینے کا پابند ہوگا، الیکشن ٹریبونل 180 دن امیدوار کی جانب سے دائر پٹیشن پر فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا، انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروانے کی صورت میں پارٹی کو 2 لاکھ جرمانہ ہوگا۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

15 + nine =