مئی 18, 2024

مسلم لیگ ن کا انتخابی اتحاد کے لئے اسلامی تحریک پاکستان سے رابطہ

سیاسیات-سیاسی اتحاد کیلئے مسلم لیگ نون کا اسلامی تحریک پاکستان کیساتھ رابطہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے گلبرگ میں خصوصی میٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔ مسلم لیگ نون کی جانب سے خواجہ سعد رفیق جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کی جانب سے علامہ ڈاکٹر شبیر میثمی نے وفد کی قیادت کی۔ اسلامی تحریک کے وفد میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی اخونزادہ، علامہ حافظ کاظم رضا نقوی، قاسم علی قاسمی، چودھری صغیر عباس ورک شامل تھے جبکہ لیگی وفد میں خواجہ سعد رفیق کے ہمراہ سردار ایاز صادق، زاہد بخاری اور مردان علی زیدی شامل تھے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا کہ مسلم لیگ نون کے صدر میاں شہباز شریف نے علامہ سید ساجد علی نقوی کو ٹیلی فون کیا تھا، میاں شہباز شریف نے آٹھ فروری کو حمایت کرنے کی بات کی تھی۔ علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے مزید کہا کہ اسلامی تحریک کی شوریٰ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے، اس میں حتمی فیصلہ ہوگا کہ مسلم لیگ نون کی حمایت کرنی ہے یا نہیں۔

اس موقع صحافیوں نے خواجہ سعد رفیق سے پوچھا کہ گذشتہ روز تحریک انصاف کے رہنماوں کی گرفتاریاں ہوئیں کہ انہوں نے ریلیاں نکالی تھیں، آپ انتخابی مہم چلائیں تو ٹھیک، پی ٹی آئی ریلی نکالے تو جرم، یہ کیسی لیول پلینگ فیلڈ ہے، اس کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنماء خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اس وقت ہم انتخابات میں مصروف ہیں، گذشتہ روز ہونیوالی ریلیوں پر موجودہ حکومت سے پوچھیں، موجودہ حالات خان صاحب کی ریڈ لائن کراس کرنے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بھی اختلافات رہے ہیں، تقریر کرتے ہیں، حملہ نہیں کرتے، نہ کسی علاقے میں پوسٹر پھاڑے، نہ ہی کوئی ایسا واقعہ ہوا ہے، ہماری توقع سے زیادہ لوگ ہمیں سپورٹ کر رہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ میں نے لطیف کھوسہ کو فون کرکے کسی قسم کی شکایت کا دریافت کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے میاں اظہر کی گرفتاری کا دکھ ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعد رفیق نے کہا کہ یہ پارٹی الیکشنز ہیں، پارٹی کے امیدوار ہیں جیتیں گے، آزاد امیدوار زیادہ پوزیشن نہیں لے سکیں گے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

nineteen − thirteen =