جون 12, 2024

سعودی عرب اور اسرائیل مارچ تک تعلقات معمول پر لا سکتے ہیں، پاکستان کی ہچکچاہٹ میں بھی کمی کا امکان۔ ذرائع

سیاسیات-سعودی عرب اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور ایک دوسرے کو آئندہ سال مارچ تک تسلیم کر لینے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکہ عالمی سفارتکاری کی ہزیمتوں کے بعد بڑی کامیابی حاصل کرنے کا خواہاں ہے، سعودی عرب نے امریکہ سے نیٹو جیسے تحفظ کا تقاضا کیا ہے، جس میں نیٹو کے ایک ملک پر حملہ تمام ممالک پر حملہ شمار ہوگا۔ سعودی عرب اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو آئندہ سال مارچ تک تسلیم کر لینے کا عندیہ دیدیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ ایگی کوہن نے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے اس امر کا اعلان کیا ہے اور بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی چینلز سے بات جاری ہے۔ ان میں واشنگٹن کو اولیت حاصل ہے۔ تل ابیب کے لئے مارچ 2024ء تک ریاض کے ساتھ تعلقات کے امکان کی کھڑکی کھل گئی ہے، جس کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن فاتحانہ اپنے نئے انتخاب کی مہم میں مصروف ہو جائیں گے۔

دفتر خارجہ اسلام آباد کے قابل اعتماد ذرائع نے اس معاملے پر تبصرے سے گریز کیا ہے، تاہم ایک دوسرے کے ذریعہ کے مطابق سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا تو پاکستان مثبت طور پر اس معاملے کا جائزہ لے گا۔ سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے مراسم مرحوم سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کے بیروت فارمولا کی روشنی میں استوار ہوگئے تو پاکستان بھی اس پورے معاملے کا جائزہ لے گا اور اس کی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے ہچکچاہٹ کم ہوسکے گی۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اسرائیل میں امریکہ کے سابق سفیر مارٹن انڈکر نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ مراسم کو معمول پر لانے کے لئے گراں قیمت مطالبات پیش کئے ہیں۔

ایک امریکہ سعودی عرب کو سلامتی کیلئے وہی حمایت دے، جو اس نے نیٹو کے رکن ممالک کو اس کی دفعہ پانچ کے تحت دے رکھی ہے۔ اس کی رو سے نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملہ، امریکہ پر حملہ تصور ہوگا۔ امریکہ کی طرف سے سعودی عرب کو آزادانہ ہتھیاروں کی فراہمی ہوگی، جن میں جدید ترین ایف ۔35 لڑاکا طیاروں کی فراہمی بہم رسانی بھی شامل ہے۔ سعودی عرب نے اپنے پرامن جوہری پروگرام کے لئے یورنیم میں افزودگی کی اجازت کو بھی مطالبات میں درج کر دیا ہے۔ سعودی عرب نے تاحال اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اس نے ابراہم معاہدے میں شمولیت اختیار کی ہے، جس کی روشنی میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل سے تعلقات 2020ء میں استوار ہوئے تھے۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرمان نے ماہ رواں کے اوائل میں رائے ظاہر کی تھی کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین تعلقات کا معمول پر آنا خطے کے مفاد میں ہے، تاہم اس کے لئے تنازع فلسطین کا حل ہونا اشد ضروری ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی اپنی خواہش کا زور دیکر ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان جامع امن کے لئے بہت بڑی جست ہوگی، جس سے عرب، اسرائیل اور فلسطین، اسرائیل کے تصادم کو ختم کیا جا سکے گا۔ امریکی مبصرین کا کہنا ہے کہ یوکرائن میں معاملات امریکی صدر بائیڈن اور وزیر خارجہ انتونی بلنکن کے حسب خواہ نہیں جا رہے، تاہم اس کے باوجود خارجہ محاذ پر اپنی کارکردگی کے حوالے سے ان کے ہاتھ میں بہت کچھ موجود ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات کو ازسر نو پرانے خطوط پر استوار کرنا ان کے لئے چیلنج کا درجہ رکھتا ہے، اسی طرح وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے ضمن میں غیر رسمی طور پر کوئی سودا کرنا چاہتے ہیں۔ عرب ممالک کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ کے 1978ء سے شروع معاہدے کی روداد کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے پورے علاقے کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔

ہر چند امریکہ نے اس میں سہولت کاری کی ہے، تاہم عرب ممالک اسے سہولت کار سے زیادہ اسرائیل کا وکیل تصور کرتے ہیں۔ امریکی ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ اسرائیل کا اب اپنے عرب پڑوسیوں سے کسی حملے یا تصادم کا خطرہ باقی نہیں رہا۔ اسرائیل جسے مختصر عدد کی حیثیت حاصل تھی، عربوں کے خلاف ہر حربی معرکے میں جیتتا رہا ہے۔ آج خطے میں اسرائیل طاقتور ترین ملک ہے۔ سعودی عرب کسی بھی حالت میں اسرائیل پر حملہ آور نہیں ہوگا۔ اردن، متحدہ عرب امارات یا مصر یہ تمام ممالک اسرائیل کے ساتھ اشتراک میں شامل ہوچکے ہیں۔ شام فنی لحاظ سے اسرائیل کے ساتھ حالت تصادم میں ہے، لیکن تباہ حال اسد حکومت اسرائیل کی جانب انگشت نمائی سے بھی قاصر ہے۔ یہ تمام عرب ریاستیں غزہ میں حماس اور ایران کے ساتھ لڑنے میں اسرائیل کے ساتھ ساز باز کئے ہیں، جو عرصہ دراز سے جاری ہے۔ یہ کھلا راز ہے کہ سعودی عرب اور بعض دوسری خلیجی ریاستوں نے تزویراتی طور پر اسرائیل کو عرصہ دراز پہلے تسلیم کر رکھا ہے، تاہم وہ اس کا کھلے بندوں اعتراف کرنے سے گریزاں ہیں۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

fourteen + 3 =