اپریل 24, 2024

سانحہ چلاس میں ملوث تمام دہشتگردوں کی نشاہدہی ہو چکی ہے، صوبائی وزیر

سیاسیات- گلگت بلتستان حکومت نے سانحہ ہڈور چلاس کے ملزمان کی جلد گرفتاری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ملزمان کی نشاہدہی ہو چکی ہے جلد گرفتار ہونگے۔

صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن حاجی رحمت خالق نے کہا ہے کہ سانحہ ہڈور میں ملوث ملزموں کی نشاندہی ہو چکی ہے حکومت اور اداروں کو معلوم ہے کہ اس حادثے میں کون کون ملوث ہے، سب کے نام سامنے آچکے ہیں، عنقریب ان کی گرفتاریاں ہوں گی۔ وزیر ایکسائز نے جی بی اسمبلی سیشن کے دوران جاوید علی منوا کے ایک سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن متحد ہیں اور ہم سب کی مشترکہ آواز ہے کہ ہڈور واقعے میں ملوث ملزموں کے ساتھ ساتھ سہولت کاروں کی بھی گرفتاری ہونی چاہئے تاکہ آئندہ ہم اس قسم کے حادثات سے بچ سکیں،

اگر اس واقعہ میں ملوث ملزموں اور سہولت کاروں کی گرفتاری نہیں ہوتی تو پھر کچھ دنوں بعد اس قسم کا ایک اور واقعہ رونما ہوگا۔ ہفتے دس دن بعد پھر ایک حادثہ ہوگا اور پورا گلگت بلتستان آگ کی لپیٹ میں آئے گا۔ ہم اپنے آپ کو آگ میں ڈالنا نہیں چاہتے، اگر ہم متحد ہوں تو اس واقعہ میں ملوث ملزموں کے گرفتار نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ اگر ہم تقسیم ہوئے تو ملزم پھر بچ نکلنے میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں متحد ہو کر حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہئے کہ وہ ملزموں کو گرفتار کرے، مٹی پاؤ والا معاملہ نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ہڈور کی تحقیقات مکمل ہو کر رزلٹ فائنل ہوا ہے، اب صرف گرفتاریوں کا مرحلہ باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ہڈور کے حوالے سے جن لوگوں پر ہمارا شک اور شبہ تھا ان کے خلاف گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے اس لئے سوشل میڈیا پر اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2019ء میں جو معاہدہ ہوا تھا وہ دہشت گردوں سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہوا تھا جو کشمیر اور افغانستاں کے مختلف علاقوں میں جہاد میں شریک تھے اور وہاں سے یہاں آئے تھے، ان کے ساتھ اس وقت کی حکومت نے اس شرئط پر معاہدہ کیا تھا کہ وہ آئندہ کسی بھی قسم کی منفی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گے اور ایک عام شہری کی طرح زندگی گزاریں گے۔وزیر داخلہ شمس الحق لون نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جو ویڈیو وائرل ہوئی ہے وہ میں نے بھی دیکھی ہے، ایک جنگل میں چند طالبان ہیں یا مجاہدین ہیں یا جو بھی اپنے آپ کو کہتے ہیں، وہ خود کہتے ہیں کہ 2019ء میں حکومت کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا۔

2019ء میں گلگت بلتستان میں حکومت مسلم لیگ (ن) کی تھی اس وقت میں وزیرداخلہ نہیں تھا اس لئے ان کے ساتھ کیا معاہدہ ہوا ہے میرے علم میں نہیں ہے۔ اس سے قبل وقفہ سوالات میں جاوید علی منوا نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں حکومت پر معاہدے کی خلاف وزری کا الزام لگایا ہے حکومت بتائے کہ اس نے کس قسم کا معاہدہ کیا ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

15 + thirteen =