جولائی 14, 2024

تحقیق اور دلیل کے بغیر کسی پر توہین مذہب کا الزام لگانا یا اسے قتل کرنا کسی صورت جائز نہیں۔ جامعہ بنوریہ

سیاسیات- رئیس جامعہ بنوریہ عالمیہ ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم کا کہنا ہے کہ تحقیق اور دلیل کے بغیر کسی پر توہین مذہب کا الزام لگانا یا اسے قتل کرنا کسی صورت جائز نہیں ہے۔

دو روز قبل سوات کے علاقے مدین میں مشتعل افراد نے توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص کو زندہ جلا دیا اور تھانے کو بھی آگ لگا دی تھی۔

اس حوالے سے ڈی پی او سوات زاہد اللہ خان نے بتایا تھا کہ قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں علاقہ مکینوں نے شہری پر تشدد کیا اور اسے برہنہ کرکے سڑکوں پر گھسیٹا، جب مدین پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کیا تو مشتعل ہجوم نے تھانے کو بھی آگ لگا دی اور توڑ پھوڑکرکے ملزم کو تھانے سے نکال کر لے گئے۔

 رئیس جامعہ بنوریہ عالمیہ ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم کا بیان

اس حوالے سے رئیس جامعہ بنوریہ عالمیہ ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے کہا ہے کہ  تحقیق اور دلیل کے بغیر کسی پر توہین مذہب کا الزام لگانا یا اسے قتل کرنا کسی صورت جائز نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ گستاخی کے محض الزام پر ہجوم کا کسی کو قتل کرنا غیر اسلامی ہے، سوات میں پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے، تحقیقات کرکے مجرم کو عبرتناک سزائیں دی جائیں۔

ڈاکٹر اسلم خاکی کی رائے

ڈاکٹر اسلم خاکی کا کہنا تھا کہ توہین مذہب کے نام پر جنونی ہجوم کے ہاتھوں قتل کے پے درپے واقعات پاکستان میں ہی کیوں پیش آتے ہیں اور  ریاست انہیں روکنے میں بس کیوں نظر آتی ہے؟ مذہبی شدت پسند ریاست کے اندر ریاست بن چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ناکامی کی ذمہ دار موجودہ اور ماضی کی تمام حکومتیں ہیں، مذہبی شدت پسند ماورائے عدالت قتل کر کے فیصلے کرتے ہیں اور سزائیں دیتے ہیں، توہین مذہب کی تحقیقات کرنا اور سزا دلوانا کسی گروہ کا نہیں بلکہ پولیس کا کام ہے۔

علامہ طاہر اشرفی کی رائے

چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ جنونی ہجوم کے ہاتھوں قتل کے پے درپے واقعات ریاست کی ناکامی ہے، 80 کے عشرے میں کئی مسلم ممالک نے مذہبی گروہوں کی سرپرستی کی مگر وہاں بعد میں ریاستوں نے اپنی اصلاح کر لی تھی، بدقسمتی سے ریاست پاکستان ایسا نہ کر سکی جس کی وجہ سے بار بار ایسے واقعات ہوتے ہیں۔

چیئرمین رحمت للعالمین اتھارٹی خورشید ندیم کی رائے

مزید برآں چیئرمین رحمت للعالمین اتھارٹی خورشید ندیم کا کہنا تھا کہ ریاستی، عدالتی اور سماجی سطح پر ہنگامی صورتِ حال درپیش ہے، اگر ہم نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو معاشرہ رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

13 + twenty =