جولائی 14, 2024

باجوڑ دھماکہ: ابتدائی تحقیقات میں داعش کے ملوث ہونے کا انکشاف

سیاسیات- خیبر پختون خواہ کے ضلع باجوڑ میں ہونے والے خوکش دھماکے سے متعلق محکمہ انسداد دہشتگردی نے شواہد اکٹھے کرلیے۔

اتوار کو ضلع باجوڑ کے صدر مقام خار میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ورکرز کنونشن میں دھماکے سے 43 افراد جاں بحق جبکہ 150 سے  زائد زخمی ہوگئے۔

جاں بحق ہونے والوں میں جے یو آئی تحصیل خار کے امیر مولانا ضیاء اللہ جان اور تحصیل ناواگئی کے جنرل سیکرٹری حمیداللہ حقانی بھی شامل ہیں جبکہ دھماکے میں جیو نیوز کے کیمرہ مین سمیع اللہ بھی شدید زخمی ہیں۔

دوسری جانب انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس خیبرپختونخوا اختر حیات خان نے دھماکہ خودکش قرار دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے میں 10کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، جائے وقوعہ سے بال بیئرنگ برآمد ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں پتا چلا ہے کہ واقعہ میں کالعدم تنظیم داعش ملوث ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور کے متعلق معلومات حاصل کی جارہی ہیں جبکہ دھماکے کی جگہ کی جیو فینسنگ بھی جاری ہے۔ بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) کی ٹیموں نے بھی دھماکے کی جگہ سے نمونے حاصل کیے ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ سی سی ٹی وی اور کیمرا فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔دھماکے سے متعلق سی ٹی ڈی کا عملہ مزید تحقیقات میں مصروف ہے۔

صدر عارف علوی، وزیرِ اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، سابق صدر آصف زرداری، مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان کی جانب سے باجوڑ دھماکے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

17 − 6 =