مئی 18, 2024

افغان طالبان کچھ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے پابند ہیں اور کچھ کے خلاف نہیں ؟ خواجہ آصف

سیاسیات- وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کا مؤقف کچھ بھی ہو، پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پُرعزم ہے چاہے اس کا ذریعہ کچھ بھی ہو۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اس بات سے قطع نظر کہ کابل اپنی سرحدی حدود سے عسکریت پسندوں کے خاتمے کی خواہش رکھتا ہے یا نہیں، پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پُرعزم ہے۔

خواجہ آصف نے یہ ردعمل رہنما پیپلز پارٹی فرحت اللہ بابر کی ایک ٹوئٹ پر دیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ’طالبان نے دوحہ معاہدہ امریکہ کے ساتھ کیا ہے، پاکستان کے ساتھ نہیں، اور اس کی پاکستان کے ساتھ پالیسی مختلف ہے۔‘

انہوں نے ذبیح اللہ مجاہد کے بیان پر ردعمل دیا کہ ’کیا اس بیان سے یہ سمجھا جائے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ افغان طالبان کو کچھ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کا پابند بناتا ہے اور کچھ کے خلاف نہیں؟ یہ پریشان کن ہے۔‘

خیال رہے کہ دو روز قبل (15 جولائی) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان ہمسایہ اور برادر ملک ہونے کا حق ادا نہیں کر رہا اور نہ ہی دوحہ معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

8 − three =