مئی 21, 2024

ہیگ ٹربیونل کے فیصلے نے اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کو ثابت کر دیا ہے، حماس

سیاسیات-فلسطین کی مقاومتی تحریک “حماس” نے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

حماس نے کہا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ اسرائیل پر لگے فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزامات کو ثابت کرتا ہے۔ یہ فیصلہ صیہونی فوج سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ غزہ کا محاصرہ ختم کرے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے۔ حماس نے کہا کہ یہ فیصلہ غزہ میں ملت فلسطین کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کو روکنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ فیصلہ عالمی برادری کو باور کرواتا ہے کہ اسرائیل کو عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد اور فلسطینی عوام کی قتل و غارت گری سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔ عرب میڈیا ایجنسی سماء نیوز نے حماس کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ دی کہ اس ٹربیونل کا فیصلہ انسانی جرائم میں ملوث صیہونی رہنماوں کے احتساب کا مقدمہ ہے۔ یہ فیصلہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور مہاجرین کی اپنے گھروں میں واپسی کے لئے فلسطینی عوام کے لئے نوشتہ دیوار ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزام میں جنوبی افریقہ کی شکایت پر آج ہیگ ٹربیونل نے سماعت کی۔ جس میں عالمی عدالت انصاف کے چیف جسٹس ” جوآن ڈونوگھو” نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جو بحران درپیش ہے عدالت اس سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور وہاں پر جاری قتل عام کی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے صراحت کے ساتھ کہا کہ ہیگ کی عدالت نے فلسطینیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے حوالے سے صہیونی حکام کے بیانات کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نسل کشی کو روکنے والے کنونشن کے تقاضوں کی تعمیل کرے۔ انہوں نے اس امر کی جانب اشارہ کیا کہ غزہ کی عوام پانی، خوراک، ادویات اور ضروریات زندگی سے محروم ہے۔ ہم فلسطینیوں کے اس بنیادی حق کی تائید کرتے ہیں کہ جس کے تحت انہیں نسل کشی کے خلاف تحفظ فراہم کیا جانا چاہئے۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے جنوبی افریقہ کی حکومت نے کہا کہ ہم ہیگ ٹربیونل کی جانب سے اسرائیل کے خلاف عارضی اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قانون کی حکمرانی کی کامیابی اور فلسطینی عوام کے لئے انصاف کی تلاش میں اہم موڑ ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

17 − 12 =