جولائی 14, 2024

نہیں جانتی تھی کہ یہ آخری بوسہ ہے جو میں اپنے بیٹے کو دے رہی ہوں۔ غزہ سے ایک ماں کا دردناک خط

سیاسیات-غزہ پر ہونے والی اسرائیل کی وحشت ناک بمباری نے کئی فلسطینی ماؤں کے گھر اجاڑ دیے جن میں سے ایک سوہا نصیر بھی ہیں۔

برطانوی اخبار میٹرو نے اپنی ایک رپورٹ میں سوہا کا خط شائع کیا جو کہ انہوں نے غزہ کے اسپتال کے ایک بیڈ پر لیٹے ہوئے تحریر کیا، سوہا نے خط میں اپنی کہانی تحریر کی کہ کس طرح اسرائیلی وحشیوں نے ناصرف ان کی منت مرادوں سے حاصل کیا گیا بیٹا چھین لیا بلکہ شوہر بھی جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔

سوہا نصیر کی اپنے شوہر محمد سے یونیورسٹی میں ملاقات ہوئی تھی، محمد انتہائی مہربان اور محبت کرنے والے شخص تھے، دونوں نے ایک دوسرے سے  2019 میں پسند کی شادی کی۔

شادی کے بعد سوہا کے حاملہ ہونے میں کچھ مشکلات پیش آئیں لیکن چار سال بعد اللہ نے انہیں بیٹے کی نعمت سے نوازا جس کا نام جوڑے نے احمد رکھا۔

سوہا نے اپنی تحریر میں کہا کہ ‘میں یہ غزہ کے ایک اسپتال کے بیڈ سے لکھ رہی ہوں، میرے شوہر اور بیٹے کو اسرائیلی فضائی حملے میں مرے ہوئے تقریباً دو ماہ ہو چکے ہیں اور میں بھی تقریباً مرچکی ہوں’۔

انہوں نے بتایا ‘میں روز احمد کی تصویریں لیتی اور اسے بڑا ہوتا دیکھ رہی تھی،  میں نے سب تصور کیا ہوا تھا کہ کیسے احمد اسکول جاتا ہے اور پھر کالج جائے گا، میں نے ذہن میں سوچ رکھا تھا کہ احمد ڈاکٹر، انجینئر میں سے کچھ بنے گا، میں نے اسے اپنی سوچوں میں کسی کا شوہر اور باپ بنتے دیکھا تھا، میں نے اپنے خوبصورت بیٹے کا مستقبل تصور کررکھا تھا’۔

سوہا نصیر نے لکھا ‘پھر 7 اکتوبر کو جنگ چھڑ گئی اور ہماری زندگی ہی اُلٹ پلٹ گئی، جس کے بعد میں اپنے خاندان سمیت بہن بھائیوں کی فیملی کے لیے فکرمند ہوگئی’۔

ایک اسرائیلی حملے میں سوہا کے گھر میں پناہ لینے والے 31 افراد میں سے چھ کے علاوہ باقی سب ہلاک ہو گئے تھے جس میں ان کا ننھا بچہ اور شوہر محمد شامل تھے۔

خط میں سوہا نے لکھا ‘جن مردوں کو میں نہیں جانتی تھی انہوں نے مجھے ملبے کے نیچے سے نکالا، میں اس وقت زور سے چیخ رہی تھی کہ میرے بچے کو بچاؤ، میں ان سے رو کر التجا کررہی تھی، مجھے یقین نہیں آرہا تھا ، احمد کچھ منٹوں پہلے میرے ساتھ ہی موجود تھا، جب میں نے اس حملے سے قبل احمد کو سلایا تو میں نہیں جانتی تھی کہ یہ آخری بوسہ ہے جو میں اسے دے رہی ہوں’۔

خاتون کے مطابق محمد، میرے شوہر میرے لیے سب کچھ تھے ، اب وہ جاچکے ہیں لیکن زندگی بھر وہ میرے لیے عزیز رہیں گے، اسرائیل نے مجھے میرے بچے سے محروم کر دیا اور اسے  بغیر کسی قصور کے مار ڈالا، میں اس ڈراؤنے خواب سے بیدار ہونا چاہتی ہوں’۔

سوہا کا کہنا ہے کہ غزہ کے تمام لوگوں خصوصاً خواتین کے ساتھ مل کر میں اس قتل عام کے خاتمے کی خواہشمند ہوں، ہمیں اپنے زخموں کو مندمل کرنے کے قابل ہونے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی افواج کی وحشیانہ کارروائیوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 18 ہزار 682 سے متجاوز ہوچکی جبکہ زخمیوں کی تعداد 50 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں میں 7 ہزار 729 سے زائد بچے اور 5 ہزار 153 زائد خواتین شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 8 ہزار 663 سے زائد بچے اور 6 ہزار 327 سے زائد خواتین شامل ہیں اور 7 ہزار 780 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

9 − 8 =