مئی 20, 2024

محرم الحرام کی آمد، طالبان قائم مقام وزیراعظم کی شیعہ علماء و زعماء سے ملاقات

سیاسیات- افغان طالبان کے قائم مقام وزیر اعظم مولوی عبدالکبیر نے افغانستان میں ماہ محرم الحرام مہینہ کی آمد پر طالبان حکومت کے ساتھ شیعوں کے قریبی تعاون پر زور دیا ہے۔ طالبان وزراء کے دفتر نے قائم مقام وزیراعظم کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے کہ عبدالکبیر نے افغانستان کے متعدد صوبوں سے تعلق رکھنے والے شیعہ علمائے کرام اور زعماء سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ شیعہ افغانستان کا ایک اہم حصہ ہیں اور ان کی شریعت کی روشنی میں دیئے گئے حقوق کے مطابق حمایت کی جائے گی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیگر افغانوں کی طرح شیعہ بھی ملک کا ایک اہم حصہ ہیں اور شرعی قانون کی روشنی میں سب کو مساوی اور منصفانہ حقوق دیے جاتے ہیں۔ طالبان کابینہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات میں طالبان انتظامیہ کے ساتھ مزید تعاون کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جب کہ طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ محرم الحرام میں سکیورٹی کو یقینی بنایا جائیگا۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز، محرم الحرام میں منعقد ہونے والی مجالس عزا اور عزا داری کے دوسرے پروگراموں میں شرکت کرنے والے عزاداروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں تاکہ اس ملک کے شہری، عزاداری کے پروگراموں میں محفوظ طریقے سے شرکت کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری سیکیورٹی فورسز محرم کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کر رہی ہیں، تاکہ ہم ان دنوں کو گزشتہ سال کی طرح افغانستان میں بغیر کسی واقعے کے منعقد ہوتا دیکھ سکیں۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے عسکری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشتگرد گروہ داعش کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے پیش نظر طالبان انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کو ماہ محرم الحرام میں چوکس رہنا ہوگا کیوں کہ دہشتگرد خاص طور سے داعش کے عناصر اس ملک میں امن و امان اور طالبان حکومت کی ساکھ کو خراب کرنے کیلئے دھماکوں، خود کش حملوں اور دہشتگردانہ کارروائیوں کا سہارا لے سکتے ہیں اس لئے کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ  مقابلہ کرنے کی طاقت و توانائی نہیں رکھتے۔
​​​​​​
افغان طالبان کی عبوری حکومت کے عہدیدار مولوی قندوزی نے اس بارے میں  کہا ہے کہ شیعہ افغان قوم کا حصہ ہیں اور کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ ان کی بے عزتی کرے، اور ہم شیعوں سے بھی کہتے ہیں کہ وہ اسلامی نظام کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اس سے پہلے طالبان کی عبوری حکومت کے عہدیداروں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے افغانستان میں شیعوں کے حقوق کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا ہے۔ طالبان کے ایک عہدیدار حافظ ذاکر اللہ نے اس حوالے سے اعلان کیا کہ یہ کمیشن “شیعہ حقوق کا جائزہ کمیشن” کے عنوان سے طالبان رہنماؤں کے حکم سے تشکیل دیا گیا ہے اور افغان شیعوں کی سیاسی حیثیت اور شہریت کے حقوق کا فیصلہ کرتا ہے۔ مذکورہ کمیشن کے سربراہ مولوی قندوزی نے کہا کہ جلد ہی اس ادارے کے ڈھانچے اور سرگرمیوں کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

جب کہ کابل انتظامیہ کے اہم رہنما ذاکر اللہ نے کہا ہے کہ ایک ماہ پہلے سے اب تک، ہم نے افغان شیعہ متاثرین اور نمائندوں کے ساتھ بات چیت شروع کی اور کوشش کی کہ وہ سب امارت اسلامیہ پر بیعت کریں اور پھر حکومت میں اپنی پوزیشن کا فیصلہ کریں۔ واضح رہے کہ یہ سب کچھ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے کہ جب طالبان نے ایک ایسی حکومت بنائی ہے جس میں اس کے تمام ارکان ایک خاص گروپ کے رکن ہیں اور اکثر پشتون ہیں جب کہ دیگر افغان نسلی گروہوں، خاص طور پر ہزارہ شیعوں کے لیے کوئی حصہ مختص نہیں کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان کی عبوری حکومت کی تشکیل نے بہت سے ردعمل کو جنم دیا ہے اور اب تک کسی ملک نے اس حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے، جب کہ طالبان کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ہے اور اس میں تمام نسلی گروہوں کے نمائندوں کا کردار ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

2 × four =