جولائی 14, 2024

محرم الحرام کا آغاز: قائد ملت جعفریہ پاکستان کا شیعہ قوم کے نام اہم پیغام

سیاسیات-قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے محرم الحرام 1445ھ کے آغاز پر علماء و ذاکرین، خطباء و اعظین، بانیان مجالس، لائسنسداران، عزاداران، ماتمی و نوحہ خوان حضرات کے نام پیغام میں کہا ہے کہ ماضی میں ارض پاک کے ہر مکتب اور مسلک کا پیروکار آزادی کی فضا میں اپنے اپنے طریقہ کار اور تعلیمات و عقائد کے مطابق محرم الحرام مناتا تھا، اس طرح عزاداری سیدالشہدا (ع) کے فروغ کے ساتھ ساتھ اہل بیت رسولؐ کے ساتھ محبت اور وابستگی میں اضافہ ہورہا تھا اور اتحاد بین المسلمین کا حسین انداز سے عملی اظہار ہورہا تھا، یہ تمام صورت حال متعصب اور تنگ نظر انتہا پسند عناصر کے لئے ناقابل برداشت بن گئی تو اس حسین کلچر کو سبوتاژ کرنے کے منصوبے کے تحت فرقہ واریت پھیلائی گئی، چنانچہ مخصوص تکفیری عناصر کے ذریعہ شیعہ مکتب فکر کے خلاف کفر کے فتوے، بے بہا غلیظ اور شرانگیز لٹریچر کی اشاعت، مساجد و مدارس اور ملک کے درودیوار کا اس غلیظ مہم میں استعمال کرکے علیٰ الاعلان جلسوں اور جلوسوں میں سادہ لوح عوام کے اذہان کو زہر آلود کیا گیا لیکن ان تمام شرانگیزیوں اور لاقانونیت کے باوجود کسی شرپسند کو گرفتار کیا گیا نہ ہی ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا، اس طویل فرقہ واریت کو تشدد میں تبدیل کرادیا گیا اور اس خود ساختہ بہانے کے ذریعے عزاداری کو سنگینوں کے سائے میں منانے کا سلسلہ شروع کرایا گیا۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد نقوی نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں بنیادی حقوق، شہری آزادیوں اور مذہبی حقوق کو تحفظ دیا گیا ہے لیکن حکمرانوں نے تعصب کی وجہ سے یا فرقہ پرستوں کے دباؤ میں آکر جابرانہ اقدامات کئے، چنانچہ جلوس ہائے عزاء کو روکنے کے لئے صرف لائسنسی اور روایتی جلوس نکالنے کے ماورائے آئین احکامات جاری کئے گئے، انہی جابرانہ احکامات کے تحت نئے جلوس ہائے عزا نکالنے کا سلسلہ روکا گیا، گذشتہ سالوں میں تو چند قدم آگے بڑھا دیئے گئے، اب تو عزائے حسینؑ کا کوئی جلوس نکالنے پر غیر قانونی جلوس کا پرچہ بھی درج کیا جاتا ہے، تمام جلوسوں کو روایتی بنانے پھر ایک ایک کرکے انہیں ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی چنانچہ پہلے مرحلے میں لائسنس ہولڈرز کی وفات پر وارثوں کے نام لائسنس منتقل کرنا بند کیا جانا دوسرے مرحلے میں بعض روایتی جلوسوں کو سازش کے تحت شرپسندوں کے ذریعے رکوایا جاتا ہے اور انتظامیہ وعدہ کرتی ہے کہ یہ جلوس آئندہ سال نکلوا دیا جائے گا لیکن اگلے سال جلوس نکالنے سے انکار کردیا جاتا ہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ اسی تسلسل میں پرامن، مہذب، بے ضرر اور قانون پسند شہریوں کو باقاعدہ مراسلوں کے ذریعے جھوٹی، بوگس، جعلی و مضحکہ خیز رپورٹس کے تحت ایف آئی آرز کے اندراج اور فورتھ شیڈول میں ڈالنے، مجالس عزاء میں لاؤڈ اسپیکر پر بلاجواز پابندی عائد کرنے، مجالس کے اجازت نامے کی شرط عائد کرنے، مجالس اور جلوسوں کا دورانیہ محدود کرنے، جلوس عزاء محدود یا تبدیل کرنے، لائسنس دار کے فوت ہونے کے بعد لائسنس کو وارثوں کے نام منتقل نہ کرنے، جلوسوں کے لائسنس منسوخ کرنے، علماء و ذاکرین کی زباں بندیاں، جلوسوں اور مجالس میں عوام کی شرکت کو روکنے اور اس قسم کے دیگر ماورائے آئین و قانون اقدامات سے عزاداری سیدالشہدا کو محدود کرنے کا منصوبہ واضح ہوجاتا ہے۔ لہذا  پولیس اور انتظامیہ کو اپنے بنیادی، آئینی اور قانونی حق عزاداری سے دستبردار ہونے کے حوالے سے کوئی سی تحریر دینے سے گریز کیا جائے، ہم نے آپ کے تعاون سے اپنی قومی و ملی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ایسے تمام منصوبوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور ملک بھر میں مختلف رکاوٹوں کو دور کیا گیا جس کی تفصیلات مختلف ادواد میں مختلف ذرائع سے عوام تک پہنچائی گئیں۔

علامہ سید ساجد نقوی نے کہا کہ عزاداری کے خلاف کوئی سرکاری قانون منظور نہیں ہونے دیا گیا، منسوخ شدہ جلوسوں کو بحال کرایا گیا، جہاں مجلس روکی گئی تو وہاں مجلس منعقد کرائی گئی اور عوام سے دوٹوک انداز میں کہا کہ مجلس کے لئے کسی سے کسی قسم کی اجازت کی ضرورت نہیں، حکومت کو متعدد بار متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ امن و امان کے قیام، شہری آزادیوں کے تحفظ، فرقہ وارانہ تشدد کے تدارک اور قاتلوں کو تختہ دار پر لٹکانے کے لئے سخت اقدامات کرے، ان حالات میں علماء و ذاکرین، واعظین اور عزاداروں، ماتمیوں اور نوحہ خوانوں کے لیے ضروری ہے کہ عزاداری کو اتحاد کے ساتھ احسن طریقے اور بہتر انداز سے محبت و وحدت کی فضاء میں منعقد کریں، تشیع کے روشن چہرے کو روشن تر کرکے پیش کریں اور عقائد تشیع کو منطقی انداز میں پیش کریں، اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرکے بنیادی حقوق سلب کرنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنائیں، سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت، اقوال، فرامین اور خصائل سے سبق سیکھیں۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

fifteen − fourteen =